
سوکھے دریا کے سینے پر کمزور اور بوڑھے مکھل کی چارپائی بچھی تھی اور اس کی چھاتی پر سچل لیٹا ہوا تھا۔سچل کے ہاتھ میں کشتی تھی اور وہ مسلسل اس کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
مکھل نے سچل کے ہاتھوں سے کشتی چھیننے کی کو شش کی تو وہ بڑبڑانے لگا ۔
’’دادا، دیکھنا، ایک دن کشتی میں بیٹھ کر میں بہت دور چلاجاؤں گا۔ ‘‘
’’پانی ہوگا تو کشتی چلے گی نا سچل۔ اب نہ وہ پانی۔ نہ وہ روانی ‘‘۔مکھل نے سرد آہ بھری ۔
’’جب پانی آجائے گا تو تب کشتی والے بھی آجائیں گے۔‘‘سچل جانتا تھا کہ پانی آئے گا۔
’’ جب سے یہ کشتی تیرے ہاتھوں میں آئی ہے ۔ تو نے مجھ سے کہانی سننا بھی چھوڑ دی ۔ بس اسی میں کھویا رہتا ہے۔ ‘‘
’’ مجھے جنوں اور پریوں والی کہانیاں اچھی نہیں لگتی ہیں دادا۔‘‘ سچل نے دادا کی ٹھوڑی کو ہوئے کہا۔
’’ چل ، آج میں تجھے تیرے بابا کی کہانی سناتا ہوں ۔‘‘ مکھل نے اشکبار آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ سیلاب کی کہانی ، وہی سیلاب جس میں میرا بابا بہہ گیا تھا۔نہیں دادا، جب بھی تم مجھے یہ کہانی سناتے ہو، رونے لگتے ہو۔ ‘‘
’’ اب نہیں روؤں گا۔ آمیں تجھے بتاؤں کہ
تیر ا بابا کتنا بہادر تھا۔‘‘
’’دادا ، تم نہیں روؤ گے لیکن میں تو ساری رات روؤں گا، ‘‘سچل کی بات سن کر مکھل کو سکتہ ہوگیا ۔ہائے میراسچل اتنا بڑا ہوگیا ہےکہ بابا کی کمی کو محسوس کرنے لگا ہے۔
مکھل کے دو ہی بچے تھے ۔ ایک روہی اور ایک سجاول ۔ مکھل کی لوکائی تو سجاول کو جنم دینے کے بعد ہی چل بسی تھی ۔روہی کی عمر اس وقت پانچ سال کی تھی ۔وہ سارا دن بھائی کو گود میں اٹھائے پھرتی ۔ مکھل روٹی ہانڈی بھی کرتا اور کھیتوں کے ساتھ محبت بھی ۔
گاؤں والوں نے بہت کہا کہ ” مکھل نکاح کرلو، کب تک گھن چکی کی طرح پستے رہو گے ۔”
مکھل کا کہنا تھا کہ ‘میرے پاس کچھ بھی تو اپنا نہیں۔ دریا کی زمین پر گھر ہے ۔ دریا کی زمین پر ہی فصل اگاتا ہوں۔ دو بچے ہی تو اس بھری دنیا میں میرے ہیں۔ ان کو بھی پرائی عورت کے حوالے کردوں۔”
کوئی بھی مکھل کو مجبور نہ کرسکا۔ سجاول نے ابھی جوانی کی پیڑھی پر قد م ہی رکھا تھا کہ اس کا دل سجنا پر آ گیا، سجنا سجاول سے بڑی تھی لیکن سجاول کا دل بہت بڑا تھا۔ سجاول اسے دریا کے خشک حصے پر سہلیوں کے ساتھ گاتے جھومتے ناچتے اور اٹکھیلیاں کرتے ہوئے دیکھتا تو اس کا دل کرتا کہ بھاگ کر جائے اور اس کے بھرے بھرے سینے سے لگ جائے ۔
گاؤں میں چھوریوں کی کمی نہیں تھی لیکن ایسی چھوری کون تھی جو دو بچوں کی ماں جیسی تھی۔ چوڑا چکلا چہرہ، بھری بھری چھاتیاں اور بڑے بڑے کولہے ۔ جن کو گھما گھما کر جب وہ ناچتی تو گاؤں کے سب لڑکے عش عش کر اٹھتے ۔سجاول اس کو دیکھ کر سوچتا تھا کہ ماں بھی سجنا جیسی ہی ہوتی۔اس کے سارے دوستوں کی مائیں بھی سجنا جیسی تھیں۔
سجاول کا رشتہ سجنا سے طے ہونے لگا تو گاؤں کے کئی چھورے اس کے امید وار بن کر سامنے آگئے ۔سجنا نے گھر نام کرنے کی شرط رکھ دی ۔
سجنا کو پانے کے لیے سجاول نے سادہ اشٹام پر گھر سجنا کے نام کردیا ۔گھر تو دریا کا تھا مگر قبضہ تو اسکا تھا۔ حق مہر بھی تگڑا لکھ دیا۔ سجنا کو ایک دفعہ پا لینے کے بعد چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ، بھلے وہ حق مہر میں اس سے کائنات لکھوا لیتی ۔
جس دن سجنا اس کی ہوئی ، اس دن اسے لگا کہ اس نے اپنی ماں کو پالیا ہے ۔ پتا نہیں اسے عشق سجنا سے تھا یا ماں سے لیکن اس نے سنا تھا کہ بیوی میں ماں ، بہن اور بیٹی کے سب روپ ہوتے ہیں۔ سجنا نے بھی اس راز کو پالیا تھا ۔ وہ سجاول کو چھوٹے بچے کی طرح اپنے اشاروں پرچلاتی اور سجاول چابی کے کھلونے کی طرح چلتا رہتا۔اسی چلت چلت میں سچل آگیا۔
سچل جو ہوبہو سجاول جیسا تھا لیکن با با کو لگتا تھا کہ وہ اس کے جیسا ہے ۔ اس نے اس کا نام سجاول کے ساتھ راول ملانے کی بجائے اپنے نام مکھل کے ساتھ سچل رکھ دیا۔شاید بابا کو پتا تھا کہ جوڑی سجاول اور سجنا کی ہی ٹوٹے گی۔
سجاول کو تو بس سجنا سے غرض تھی ۔ مکھل اور سچل سوکھتے ہوئے دریا پر قلانچیں بھرتے یا ایک دوسرے کے ساتھ الجھے رہتے ، مگر اسے کیا۔ اس کے پاس تو سجنا تھی ۔
بستی میں دو سکول تھے ۔ ایک رفاہی ادارے نے قائم کیا تھا اور دوسرا بستی کے سب سے پڑھے لکھے نازک خاں نے۔سجاول نے سچل کو نازک خان کے سکول میں بٹھایا۔ وہاں تعلیم مہنگی ضرور تھی لیکن اچھی تھی ۔
برسات کے دن تھے ۔ منہ زور پانی نے سوکھے ہوئے دریا میں بھی جان ڈال دی تھی ۔
سیلاب کو دیکھ کر سب سہمے پڑے تھے مگر سجنا کو اپنی بھینس کے لیے اداس دیکھ کر وہ اسے بچانے کی خاطر دریا میں کو د پڑا۔ بھینس تو کنارے پر آ لگی مگر اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ ڈوبتے ہوئے بھی اس کی سانسوں میں ماں کا جل ترنگ بج رہا تھا۔
سجنا کا سوگ کم ہوا تو بستی کے چھورے اس کے اردگرد منڈلانے لگے ۔ جوان لڑکی تھی ، بھلے عورت دکھتی تھی مگر بیس سال کی عمریااور منہ زور جوانی پر بندھ کیسے باندھا جائے جو شہد کی دھار کو بدن میں اتار چکی ہو۔سجنا پیاسی ضرور تھی لیکن اپنی پیاس کے جوہر سے آگاہ تھی کہ اسے کس بھٹی میں کندن بنانا ہے ۔
شام کو بوڑھا ہوتا ہوا مکھل بڑے ہوتے ہوئے سچل کے ساتھ دریا کے سینے پر پاؤں رکھ کر ٹہلتا۔ تیز ہوا چلتی تو دریا کے دیو ہیکل جسم سے نکلی ہوئی ریت اُن کی آنکھوں میں گھسنے لگتی ۔
” دادا، جانے یہ دریا ایک ہی دفعہ خالی کیوں نہیں ہوجاتا، کیوں ہمیں ستاتا ہے ۔ ”
ٹھیک اسی لمحے جب سچل اپنے دادا سے یہ بات کہہ رہا تھا ۔ بوڑھےمکھل کو شدت سے کھانسی آئی ۔ اس نے زمین پر زور سے تھوکا اور سچل کے دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگیں۔
بوڑھا دریا اور بوڑھا دادا ایک جیسے ہوجاتے ہیں۔ان کے اندر کچھ بھی نہیں ٹھہرتا۔
” دادا، جب یہ سارا دریا خشک ہو جائے گا تو پھر کیا ہوگا۔ ”سچل نے پوچھا
” کیا ہوگا، پانی خشک ہوجائے گا اور دریا مر جائے گا۔ ہم سب کو کہیں اور جانا پڑے گا۔ ”
” اس دریا میں میرے بابا بھی رہتے ہیں۔میں اس بستی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا بابا، بھلے یہ میری جان ہی کیوں نہ لے لے۔”
سچل کی آنکھوں میں محبت کا دریا ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ مکھل کو اپنے تن بدن میں توانائی محسوس ہونے لگی ۔ وہ خود کو جوان محسوس کرنے لگا۔
” پتر،اب اس دریا میں اتنی جان نہیں کہ یہ جانیں لے سکے ۔ اس کے سینے پر جو تھوڑا سا پانی ہے ۔ یہ بھی خشک ہونے کو ہے۔”
” دادا ، ہمارے ماسٹر صاحب بتارہے تھے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے ۔ یہاں سیلاب ، طوفان اور آندھیاں بہت زور سے آئیں گی ۔ کیا پتا ، ہمارا سوکھا ہوا دریا بھی چل پڑے ۔”
” نہیں سچل ، پانچ برس ہوگئے ، یہ سو رہا ہے ۔ سجاول کو نگلنے کے بعد اب اس میں جان نہیں رہی ۔ اب تم بھی دس برس کے ہو گئے ہو، کبھی اس میں جان دیکھی ۔”
سچل کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ دادا سچ کہہ رہا تھا یا ماسٹر۔لیکن سجنا جانتی تھی کہ ماسٹر سچ بولتا ہے ۔اس کی جوانی کی طرح آنے والے موسم بھی منہ زور ہیں۔
یہ بھی تو سچ تھا کہ وہ ایک بچے کی ماں کو بیوی نہیں بنا سکتا تھا ۔ اس کا بس نہ موسموں پر تھا اور نہ اپنی ماں پر ۔ نازک خان ماں سے آگے نہیں چل سکتا تھا ۔رات کی فسوں خیزی میں دو دل ملتے تو قصہ دل سچل پر ختم ہو جاتا۔
انہی دنوں میں محکمہ موسمیات نے اعلان کیا کہ بارشیں تباہی لانے والی ہیں۔ نکل جاؤ لیکن وہ کہاں نکلتے ۔ان کے پاس کوئی دوسرا ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ پھر یہ مٹی کا بنا گھر، فصل، مویشی اور یادیں ، وہ چھوڑ کر کہاں جاتے ۔
” سچل ، میں تجھے دوسرے گاؤں میں تیری پھوپھو کے پاس بھیج دیتا ہوں ۔ وہ گاؤں اونچا ہے ۔ وہاں پکے گھر اور اونچے ٹیلے ہیں۔”
” بابا ، تم تو کہتے تھے کہ پانی خدا سے بڑا نہیں ہے ۔ خدا پانی کا رخ موڑ سکتا ہے ۔”
” سچل ، یہ پانی ہمیشہ سے ہی منہ زور ہے ۔ بندوں کی نہیں سنتا اور رہا خدا تو ہم غریبوں کا زور تھوڑی ہے اس پر۔
وہ کہاں سنتا ہے ہماری”
” بابا، نہ پانی غریبوں کی سنتا ہے اور نہ خدا۔ اگر ہمارا خدا اچھا نہیں ہے تو ہم امیروں کا خدا لے آتے ہیں۔”
” امیروں کا خدا غریبوں کے کہاں ہاتھ لگتا ہے ۔ہمارے پاس کیا ہے جو وہ ہمارے پاس آئے گا۔ ”
” بابا ، تم تو کہتے ہو کہ خد اہی بندے کو دھن دولت دیتا ہے ۔”
جب مکھل بابا اور سچل کاکا باتیں کررہے تھے تو سجنا تاریکی میں نازک خان کو پوری طرح محسوس کررہی تھی۔
” مجھ سے تم بن نہیں رہا جاتا نازک خاں ۔ کب تک ۔ کب تک ، ہم ایسے ہی ملتے رہیں گے ۔”
” سچل کو شہرکے یتیم خانے میں داخل کرا دیتے ہیں۔ماں کو کہیں گے کہ سچل کو بخار ہوا اور وہ مر گیا۔” اس نے سجنا کو سوچنے پر مجبور کردیا۔
شدید بارشوں نے بستیوں کو گھیرنا شروع کردیا تھا۔ پانی کی جھل تھل میں سچل بہت خوش تھا۔ اس نے اپنے ہوش میں پہلی بار اتنا پانی دیکھا تھا۔اس کی ماں تو پینے کا پانی بھی دور سے لاتی تھی۔ گرمیوں کے دن تھے ۔ وہ خوب کھیلتا اور خوب نہاتا۔ بابا نے اس کے کہنے پرکشتی والوں کو سندیسہ بھیج دیا تھا۔
اس کے کھیلتے کھیلتے اور دیکھتے دیکھتے پانی طو فانی ریلوں میں بدل گیا ۔ہر طرف پانی ہی پانی دریا نے اپنے سوکھے بدن میں پانی سمو کر بستی کو بچانے کی بہت کو شش کی تھی لیکن پانی کو اپنی پڑی تھی۔اس دفعہ وہ اتنے غضب میں تھا کہ اپنا راستہ روکنے والوں کے ساتھ بھی لڑ پڑا تھا۔اس نے اپنی تمام گزرگاہیں خالی کروا نے کے ساتھ ساتھ نئی گزر گاہیں بھی بنالی تھیں۔کب تک وہ رعایت کا دامن تھامے رکھتا۔
ساتھ والی بستی کے کافی گھر ڈھے گئے تھے ۔
وہ اپنے بابا کے ساتھ سہما ہوا مٹی اور چھوٹے پتھروں کے ٹیلے پرکھڑا تھا جو اپنا وجود کھوتا جارہا تھا۔
وہ پیچھے مڑ کر ماں کو دیکھنے لگا تھا، جب اس کا ہاتھ دادا کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ پانی میں بہتا چلا گیا۔
” بابا ، کشتی والے کہاں ہیں۔ انہیں بلاؤ۔” ڈوبتا ہوا سچل روتے ہوئے دادا کو اس کا وعدہ یاد دلا رہاتھا۔
کشتی والے تو خود ڈوب گئے تھے۔دادا بلک بلک کر رونے لگا۔
مکھل کے تڑپنے پر سجنا سچل کو بچانے کے لیے بھاگی ۔اتنے میں ایک سایہ لپکتا ہوا آیا اور اس نے سجنا کو زور سے دھکا دیا۔ سائے کو روکنے کی کوشش میں وہ چکرا کر گر پڑی۔
جب اس کی آنکھیں کھلیں تو نازک خاں اپنے ہاتھوں میں سچل خاں کو اٹھائے چلا آرہا تھا۔ اس وقت دو جہاں آباد تھے ۔ ایک محبت کا اور دوسرا حیرت کا ۔ نازک خاں ان دونوں جہانوں کا فاتح تھا۔




