اک گروہ ِعجب | ذیشان اطہر
اک گروہ ِعجب
۔۔۔۔۔۔ اور قیامت کے دن ، عصر کے بعد کا وقت ہو گا
اہل دنیا کے سب فیصلے ہو چکے ہوں گے,جب
بار بار اپنے سینہ و سر پیٹتے اک گروہِ عجب کو
ملائک ہنکاتے ہوئے ، داور حشر کے سامنے لائیں گے
عرض پرداز ہوں گے
رب عزوجل! یہ ترے آخری سب سے پیارے نبی مکرم کی امت کے کچھ قرن آخر کے مظلوم و مقہور ہیں
چوتھے درجے کے درماندہ و خستہ تن
ان کی صبحوں میں شاموں میں ،
اعمال ناموں میں کچھ بھی نہیں
یہ وہ مجبور ہیں
حکمراں ان کے قارون و فرعون و شداد کی مشترک خصلتوں کے امیں
ایک مضبوط لشکر کے گٹھ جوڑ سے زندگی بھر انھیں قید رکھا گیا ایسے زندان میں
جو بنایا گیا تھا ترے نام پر
چند روٹی کے ٹکڑے کمانے میں ان کی نمازیں گئیں
بھوک افلاس نے ان کے روزے رکھے
گھر سے دفتر ، دکانوں کے چکر تھے
ان کا طواف اور حج
اشرفوں کے غلط فیصلوں کی تلافی میں
کاٹی گئی روز ان کے لہو سے ذکات
مالک یوم دیں ! ہم تذبذب میں ہیں کیا لکھیں
پوچھتے ہیں جب ان سے سوالات وہ
تیرے کہنے پہ سب سے جو پوچھے گئے
ان کے یکسر جواب اور ہیں
ان کا یک لفظی موقف ، ہمارے حساب و کتاب اور ہیں
یہ بضد ہیں
خداوند کے روبرو ایک درخواست کی بس اجازت ملے
!منصف دو جہاں
تیری دنیا میں ، نا کردہ ، کردہ گناہوں کی پاداش میں
ہم جہنم گزار آئے ہیں
اب تو جنت ملے




