آفیشل سیکرٹ ایکٹ:عمران خان پر آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان

سرکاری دستاویز سائفر کی معلومات عام کرنے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی پر آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے جو 17 اکتوبر کو قانونی وجوہات کی بنا پر نہیں ہو سکی تھی۔
گذشتہ سماعت پر عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے 23 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔
منگل 17 اکتوبر کو عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کیمرہ سماعت سے متعلق بتایا تھا کہ ’جج صاحب کو بتایا کہ چالان کی نقول پر دستخط کے بغیر فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی۔‘
منگل کو ہونے والی سماعت میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے چالان کی نقول وصول کر لیں اور ان پر دستخط کر دیے تھے جس کے بعد توقع ہے کہ آج ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جائے گی۔
انڈپینڈنٹ اردو کو میسر معلومات کے مطابق آفیشل سکریٹ ایکٹ 1923 کا 100 سال پرانا قانون ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں 14 سال قید یا موت کی سزا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن پانچ اے کی سزا 14 سال اور سزا موت ہے۔
آج بھی اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات سماعت کریں گے۔
اڈیالہ جیل میں آج چوتھی سماعت ہوگی۔ اس سے قبل اٹک جیل میں بھی خصوصی عدالت سماعتیں کر چکی ہے۔
ملزمان کو چالان کی نقول نو اکتوبر 2023 کو تقسیم کر دی گئیں تھیں جس کے بعد عدالت نے چیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 17 اکتوبر مقرر کی تھی اور تمام سرکاری گواہان کو بھی طلب کیا تھا۔
سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری کو دو ماہ ہو گئے ہیں، عمران خان کو سائفر کیس میں 15 اگست 2023 کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ شاہ محمود قریشی کو 20 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مقدمہ
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کی مدعیت میں مقدمے کا اندراج ہوا، جس میں انہیں سفارتی حساس دستاویز سائفر کو عام کرنے اور حساس دستاویز کو سیاسی مفاد کے لیے اور ملکی اداروں کے خلاف استعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈپینڈنٹ اردو کو میسر معلومات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان جو پہلے اٹک جیل میں زیر حراست تھے، توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کے باوجود ان کو اس مقدمے میں شامل کر کے اٹک جیل میں ہی جوڈیشل ریمانڈ پر رکھا گیا ہے۔
جبکہ شاہ محمود قریشی کو 19 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ بھی اب جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔
20 اگست 2023 کو سابق وفاقی وزیر اسد عمر کو بھی ایف آئی اے کاونٹر ٹیررازم ونگ نے پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔
جس کے بعد اسد عمر نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی، 14 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں خصوصی عدالت نے کہا کہ ’پراسیکیوشن کے مطابق اسدعمر کے خلاف تاحال ثبوت نہیں، اسدعمر نے شامل تفتیش ہونے کا اظہار کیا لیکن پراسیکیوشن نے شامل تفتیش نہیں کیا، ایف آئی اے کی تفتیش کے مطابق اسدعمر کی گرفتاری مطلوب نہیں، اگر اسدعمر کی گرفتاری مطلوب ہوئی تو ایف آئی اے قانون کے مطابق چلے گی۔ فیصلے میں مزید کہا کہ گرفتاری مطلوب ہوئی تو ایف ائی اے اسدعمر کو پہلے آگاہ کرے گی۔‘
عدالت نے اسدعمر کی درخواست ضمانت 50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض کنفرم کر دی تھی۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے لیے بننے والی خصوصی عدالت اب سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود سے متعلق مقدمے کی جیل میں ان کیمرہ سماعتوں میں چالان پیش ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل کا آغاز کیا اور نو اکتوبر کو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ 17 اکتوبر کو عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ جبکہ ٹرائل کورٹ کا نو اکتوبر کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج ہونے کے بعد زیر سماعت ہے۔




