غزل

غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

غزل

رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں 

جو شاعری کی شکل میں بارود ہے مجھ میں

کب سے مری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے 

لگتا ہے کہ ہر جذبہ ہی مفقود ہے مجھ میں 

بارش کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا کوئی دن 

اب یوں ہے کہ بس گرد ہی مسدود ہے مجھ میں 

سو بار سمیٹی ہے خیالات کی گتھی 

وحشت کی مگر اب بھی اچھل کود ہے مجھ میں

میں اپنی خطاؤں میں اکیلا نہیں شامل 

اکسانے پہ اک اور بھی مردود ہے مجھ میں 

ہر ایک قدم پر ہیں امیدیں مری رب سے

بس ایک یہی منزلِ مقصود ہے مجھ میں 

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x