تبصرہ کتب

کتاب :شاعری تجھ سے /تبصرہ نگار :محمد اکرام قاسمی

کتاب  : ” شاعری تجھ سے "

عنوان :احساس سے ادراک تک

مصنفہ :یاسمین سحر

جو پیش سانحے اِس زندگی میں آئے ہیں
اُنہی کے رنگ مری شاعری میں آئے ہیں

زندگی اپنے تجربات ، اپنے ہر صارف کو یکساں عطا کرتی ہے ، باقی انحصار صارفینِ حیات کی قوت و صلاحیت اور طرزِ احساس کے قرینے پر ہے ، کہ وہ کس طرح اپنی توانائی کو بروئے کار لا کر اُن تجربات سے عطر کشید کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یاسمین سحر کی شاعری بہ اعتبارِ موضوعات زندگی کے متعلقات و مشاہدات کے حُسن و قبائح اور حقائق کا ہی اظہار ہے۔ لیکن یہ حقائق یاسمین سحر کی شعری تخلیق میں ایک ایسی علامت کی صورت دوڑتے ہیں جو انسان کے جوہرِ حقیقی کے منطقوں سے وابستگی اختیار کرتی ہے۔ اور ایسی حسّیات کی تشکیل کا سبب بنتی ہے جو الُوہی عقل کی تابعیت میں اپنا سفر طے کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری میں کوئی ایسا تصور نہیں ملتا جو دُنیا کے بے ترتیب اتفاقات سے اخذ کیا گیا ہو ۔

سو کہا جا سکتا ہے کہ ” شاعری تجھ سے ” میں ہمیں ایک ایسا ہی متوازن تخلیقی ذہن دیکھنے کو ملتا ہے جو اپنی Sub-Conscious سطح کو ہمیشہ Divine reason کی حُکمرانی میں رکھتا ہے ۔ اور ہر اُس خیال کی نگہداشت پر مامور ہوتا ہے جسے ذہن اپنی Conscious سطح پر لا کر بیان میں صرف کرنا چاہتا ہے ۔

سِرا جب ڈور کا چھوٹا تو پھر آیا نہ ہاتھوں میں
پتنگ اپنی ہوا کے ساتھ کوسوں دور جا نکلی ۔

یہ اُسی تصرف کی نگہداشت کا کمال ہے کہ جہاں اکثر شاعر و شاعرات اپنے موضوعات میں میتھ ٘Myth کا سہارا لیتے ہوئے دانستہ یا نا دانستہ طور پر دُنیا کے وجود کو بہ حیثیت Random chances پیش کرتے ہیں ۔ وہیں یاسمین سحر کے شعر حقائق کے اختصاص پر طبعیت کو مائل کرتے ہیں ۔ مذکورہ شعر میں جو تعلق ڈور کا پتنگ سے ہے بالکل وہی رشتہ انسانی ذہن کا حقیقت کے تصور سے ہے۔ اور جب ذہن سچائی کی روشنی سے منہ موڑ لیتا ہے تو جھوٹے تصورات اُس ذہن کا حال ایسے پرندوں کی مانند کر دیتے ہیں جو صرف رات کی تاریکی میں ہی دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔

یاسمین سحر کی غزل میں محبت و عشق کی کیفیات ہُوں ، حالات کی تلخیاں یا اپنےاور گردو پیش ہونے والے واقعات کی سنگینیوں کا ذکر ہو یا خالص نسوانی جذبوں کا اظہار ، ہمیشہ تجربے کی صداقت کے ہمراہ پختہ فکری عوامل لطیف آمیزش کے ساتھ حرکت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر.

خالص مشرقی عورت کی اَدا، اور مرد سے تعلق کا پر اعتماد اظہار دیکھیے ۔

میں کھل کے اُس کے سامنے آتی بھی کس طرح

ہلکا سا اِک حجاب مری ذات میں رہا
۔۔۔۔
ایک ہی شخص کی چاہت میں خریدا تھا جہاں
ورنہ سب لوگ مجھے جان سے پیارے کب تھے

اظہار کی یہ طاقت ہمارے یہاں تعلق کی ایک خاص کیفیت سے پیدا ہوتی ہے۔اور اُس کیفیت کو بھی یاسمین سحر نے پوری آب و تاب سے اپنے شعری قالب میں ڈھالا ہے۔
کعبہءِ دل میں ہو جس طرح خُدا کا روپ
آنکھ کرتی ہے شب و روز عبادت اُس کی

مذکورہ شعر میں جو عورت کی محبت ،عبادت بن کر مرد کے لیے ظاہر ہوتی ہے ۔اُس تعلق کو امام محی الدین ابنِ عربی نے بھی اپنی بحث کا حصہ بنایا ہے ۔ جسے محمد حسن عسکری صاحب نے اپنے ایک مضمون میں بیان کیا ہے وہی متن یہاں نقل کر رہا ہُوں۔ ” ہر کُل اپنے جُز سے محبت کرتا ہے ۔ چنانچہ خُدا کو مرد سے محبت ہے اور مرد کو عورت سے پھر ہر چیز اپنی اصل کی طرف واپس جاتی ہے۔ لہذا عورت مرد سے محبت کرتی ہے اور مرد خُدا سے ۔ یہی اصول لارنس کے یہاں اِس طرح بیان کیا گیا ہے” مرد کی نظر خُدا پر رہے اور عورت کی نظر اُس خُدا پر جو مرد کے اندر موجود ہے”
اس سے آگے حسن عسکری صاحب لکھتے ہیں ” آپ نے دیکھا کہ یہاں رشتہ صرف مرد اور عورت کے درمیان نہیں بلکہ ساتھ میں خُدا بھی موجود ہے۔ جس کے بغیر اُس تعلق کی تکمیل نہیں ہوتی ہے۔اِس لیے لوگ کہتے تھے ساری شادیاں آسمان پر ہوتی ہیں "
مرد کے اِسی تصور کے باعث یاسمین سحر کے شعروں میں نسوانی ناز و ادا ، شکوہ و شکایت ، محبوب سے چھوٹی چھوٹی رنجشوں کے خاکے بھی اپنی تمام تر سج دھج ، دلداری و رعنائی کے ساتھ ملتے ہیں کہ پڑھتے ہوئے تازگی اور لطف محسوس ہوتا ہے۔ لیکن کوئی ایسی شعری تصویر نہیں ملتی جس میں مرد کو بے وفا اور ظالم کہہ کر مخاطب کیا گیا ہو ۔
تعلقات کی وہ شکل پھر نہیں رہتی
شکایتوں سے تجھے باز کر رہی ہوں میں
گلہ کروں تو لڑائی نہ تم سے ہو جائے
جو بات ہے نظر انداز کر رہی ہوں میں
۔۔۔
پوری سچائی سے تم مجھ سے الگ ہو جاو
پیار جھوٹا ہی مرا تم کو اگر لگتا ہے ۔
۔۔۔
آپ کا صرف حوالہ ہی اُدھر کافی ہے
آپ کے جیسا کوئی شخص اُدھر ہو کہ نہ ہو
۔۔۔۔
بے حسی کھا گئی جذبوں کے اُمڈتے ہوئے رنگ
سانحہ کب تھا مرے دوست بھلانے والا

میں نے آغاز میں بھی اِس بات کا ذکر کیا تھا کہ یاسمین سحر کا تخلیقی ذہن تجربات کی صداقت اور روحانی ادراک کے تصرف میں اِس طرح محو ہے کہ ایک عام سے شعر میں بروئے کار آنے والے محسوسات کا اگر جائزہ لیا جائے تو انسانی جوہر کے منطقوں تک پڑھنے والے کو رسائی دیتا ہے۔
شعر دیکھیے۔
محسوس کر مہکتے ہوئے پھول کی چبھن
مالی ہے گلستاں کا ذرا خار تک تو جا

تخلیقی اظہار کا ایک اصول ہے کہ جہاں جذبے کی شدت خیال پر غالب آ جائے وہاں عقل یا تو خود کو بالکل اُس خیال سے جُدا کر لیتی ہے یا پھر اپنے کام کی رفتار کو سُست کر دیتی ہے۔ لیکن درج بالا شعر میں عقل اپنی تمام تر جزئیات اور فعال ارکان کے ساتھ موجود رہتے ہوئے شعر کو نسائی محسوسات کا ایسا شہکار بنا دیتی ہے۔کہ ایک مرد تخلیق کار برسوں کے مجاہدے کے بعد بھی اپنے اندر ایسی حس بیدار نہیں کر سکتا ۔جو ہو بہو ایسے شعر کا موجب بنے۔
اب اِس شعر کے حوالے سے کچھ توضیحی انداز اپناتے ہوئے عرض کرتا چلوں ، کہ ہم دیکھتے ہیں کہ گلستاں میں ایک مالی (باغبان) کے شب و روز پھول ، پودوں کو توجہ و محبت سے سینچتے گزرتے ہیں۔لیکن یاسمین سحر کی نسائی حسیت مالی کی اِس محبت ، لگن اور تمام تر توجہ کو سرسری اور جذباتی خلوص کے Paradigm سے تعبیر کرتی ہے۔اور جب ہم ” جذباتی خلوص” کی گرہ کشائی کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جذباتی خلوص اپنی تمام تر صداقتوں کے باوجود انسانی طبعیت میں دیر پا اور مستقل طور پر خود کو قائم نہیں رکھ سکتا ۔ کیونکہ جن جذبات کی شدت، مالی کو کانٹوں کے وجود سے بے نیاز کر رہی ہے۔ اُسی جذبے کی شدت نے اگر اپنا رُخ تبدیل کیا تو یہی مالی کل پھولوں کے وجود سے بھی بے نیاز ہو سکتا ہے اور رفتہ رفتہ پورے گلستاں سے بھی۔
شیکسپیئر کے ایک جملے میں بھی اِسی جذباتی خلوص و محبت کے نشانات ملتے ہیں. ملاحظہ فرمائیں۔
” آہ ! محبت کی بہار بھی اپریل کے حسین اور شاندار دن کی طرح بے بنیاد ہے ، ابھی تو بہت دھوپ تھی ، ابھی بادل آیا اور سب غائب "
یہاں بھی خلوص اور محبت کی سچائی کو مِنہا نہیں کیا گیا ، بلکہ جذباتی محبت کے قلیل دورانیے کو دیکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ” ابھی بادل آیا اور سب غائب "
یہاں ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ایسے محسوسات کی افزائش کے محرکات کیا ہیں ؟ تو اِس کا جواب ہمیں انسانی زندگی کے حیاتیاتی مطالعے سے ملتا ہے۔ کہ کس طرح قدرت کی نگرانی میں ایک عورت کی شانِ خلاّقیت Single life of cell کو اپنے خون سے سینچ کر جب انسانی خدوخال میں ڈھال رہی ہوتی ہے۔ تو یہی خلاقانہ صفت تخلیقی صعوبتوں کے دوران عورت کے محسوسات کو اخلاقی محبت و خلوص کے خالص رنگوں میں سینچ دیتی ہے۔
اور بالآخر جب وہ عورت دُنیا اور اُس میں بسنے والے لوگوں کو اپنے مشاہدے میں لاتی ہے ۔ تو اخلاقی خلوص و محبت اُسے ایسی بینائی عطا کرتی ہے کہ اُس کے حواس دھند کے غلافوں میں لپٹی ہوئی نیت کو دیکھ سکتے ہیں اور مہکتے ہوئے پھول کی زباں تک سن سکتے ہیں، سمجھ سکتے ہیں۔۔
"شاعری تجھ سے” کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک جملہ بار بار میرے ذہن میں گونجتا رہا ۔
” Art is a technique and device is a sole hero "

خیر اندیش
محمد اکرام قاسمی

Author

4 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x