نظم
دشمن کے بچے اور تازہ ہوا | ڈاکٹر جواز جعفری
دشمن کے بچے اور تازہ ہوا
اجنبی چہرے
میری زمین ہتھیانے آ پہنچے
میں نے اپنے قلم کی نوک سے تلوار ایجاد کی
اور اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا
میں نے اپنے تحفظ کے لیے دیوار اٹھانا چاہی
تو میری زمین
دنیا کے نقشے سے غائب ہو گئی
میں ریزہ ریزہ شہر کے ملبے سے
اپنی گم شدہ رونقیں ڈھونڈتا ہوں
میں نے اپنی مسمار ہوتی ہوئی خواب گاہ کے پتھر سے
نیزے کی انی ایجاد کی
اور قرنے کی پہلی آواز کے ساتھ
لالہ رنگ میدانوں
اور گہرے سمندروں میں اترنا سیکھ لیا
میرے دشمن
مجھے شکست دینے کا خواب دیکھتے رہ گئے
میں زمین کی پاتال میں بیٹھا
شہر کے چہرے پہ لگے زخموں کا مرہم بنا رہا ہوں
میرے لوگ
بیمار ہوا میں سانس لیتے ہیں
میں ان کے لیے دور افتادہ باغوں کی مہک سے
تازہ ہوا بناؤں گا
میں یہ ہوا
دشمن کے بچوں کو ہدیہ کروں گا




