غزل
غزل / مجھ کو اس بات پہ تنہائی بہت ڈانتی ہے / منیر جعفری

غزل
مجھ کو اس بات پہ تنہائی بہت ڈانتی ہے
رونقِ شہر مجھے نام سے پہچانتی ہے
صرف حق دار کو ملتا ہے نوالا اس کا
زندگی زخم کو صدقے کی طرح بانٹتی ہے
عشق تو دوسرا پہلو ہے مری شہرت کا
وہ کسی اور حوالے سے مجھے جانتی ہے
جو کسی اور کے دھاگے میں پروئے ہوئے ہوں
ایسے موتی وہ دوپٹے میں کہاں ٹانکتی ہے
جس کے انکار سے چلتا ہے بغاوت کا نظام
اس کو تسلیم کی تہذیب خدا مانتی ہے
تجربہ دشت نوردی کا یونہی آتا نہیں
ریت خود بڑھ کے مسافر کو بہت چھانتی ہے
حسن برداشت کا جغرافیہ پہچانتا ہے
پھول کی دھار مری چشمِ فسوں کاٹتی ہے
بھوک کا مکہ مدینہ ہے مرا شہر منیر
یہ بھکارن انھی گلیوں میں پڑی ہانپتی ہے




