منتخب کالم

بجلی سستی ایک احسن اقدام نئیں ریساں مریم نواز دیاں / زبیر بسرا



 وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 500یونٹ تک کے صارفین کے لئے بجلی کی قیمت14روپے فی یونٹ کم کر دی ہے۔ اس سے پہلے پنجاب میں روٹی اور دیگر کئی اشیاء کی قیمتیں کم کی گئیں۔ تعلیم اور صحت میں بھی عوام کو سہولیات دی گئیں۔ صرف چند ماہ کی کارکردگی نے عوام کے دل جیت لئے ہیں۔

دل بدست آردکہ حج اکبر است

دل گزر گاہ رب اکبر است 

بجلی اب ہر گھر کی ضرورت ہے اس کے بغیر زندگی بہت کٹھن لگتی ہے اگرچہ آج سے نصف صدی پہلے یہ صرف شہروں میں پائی جاتی تھی۔ دیہات کے لوگ پانی دستی نلکوں نہروں اور کنویں سے حاصل کرتے تھے۔ دودھ اُبالنے کے لئے برقی مداہنیاں اور کپڑے دھونے کے لئے مشین نہیں تھیں۔ فریج استری اور روشنی کی سہولت کے بغیر گزارہ بہت مشکل ہے، جبکہ پنکھے کے بغیر سویا نہیں جا سکتا۔ ان تمام چیزوں کے استعمال سے بل زیادہ آتا ہے بعض اوقات اتنا زیادہ کہ عام آدمی ادا نہیں کر سکتا اگر کرے تو گھر نہیں چلتا۔ 

آئی ایم ایف کی محتاجی کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں ہر ماہ بڑھ جاتی ہیں۔شاید یہ اغیار کا معاشی حملہ ہے۔گزشتہ چند ماہ میں بل بہت زیادہ آئے، جس وجہ سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جلسے جلوس اور دھرنے دیئے گئے ان لوگوں کا مقصد عوام کو حکومت سے متنفر کرنا تھا۔ اب بھی طرح طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمارے احتجاج اور دھرنے کی وجہ سے بجلی سستی ہوئی ہے۔عوام اتنے سادہ نہیں ہیں جانتے ہیں کہ بجلی سستی صرف پنجاب میں ہوئی ہے اگر دھرنے کی وجہ سے ہوتی تو سارے پاکستان میں ہوتی۔

سندھ کے وزیراعلیٰ کو بھی یہ اقدام ناگوار گزرا ہے اور  ان کے وزیر اس کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔حسد اور بغض ہی ہو سکتا ہے بہتر ہے مقابلہ کارکردگی سے کریں اپنے صوبے کے عوام کو سہولتیں دیں۔بھانڈے بھنیاں ویر نہیں مکدے۔پیپلزپاڑٹی کے دور حکومت میں لوڈ شیڈنگ سولہ گھنٹے تک ہوتی تھی وہ یاد رکھیں۔

یہ بھی کہ رہے ہیں کہ اپنے وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کو پنجاب بھیج رہے ہیں تاکہ وہ پنجاب کے ہسپتالوں کی اصلاح کریں۔اس پر ہنسی آ تی ہے پنجاب کی ترقی بے مثال ہے جب میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے ان کی کارکردگی کا ہر کوئی معترف تھا۔سڑکیں راستے اتنے آرام دہ کہ فاصلے سمٹ گئے ہیں۔لاہور پیرس سے کم نہیں۔اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہباز شریف کا دور پھر واپس آ گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب ان کی بھتیجی ہیں۔ان کے والد میاں محمد نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم پاکستان رہے ہیں۔ملک بھر کے موجود موٹروے ان کی کارکردگی کے گواہ ہیں معاشی ترقی بھی انہی کے دور میں ہوئی تھی۔ان کا تجربہ اور رہنمائی مریم نواز کو حاصل ہے۔اِن حالات میں کوئی حاسدین سے پوچھے کہ آ پ طویل عرصہ سے سندھ کے حکمران ہیں وہاں کی حالت آ پ کو کیوں نظر نہیں آتی محض خوش فہمی اور بیانات سے ترقی نہیں ہوتی۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور معیشت کا اہم ستون ہے اس کی حالت دیکھیں اپنے صوبہ کے محکمہ صحت کے حکام کو پنجاب بھیجنے کے بارے بیان کے متعلق تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ 

خدا کی شان کہ کلچڑی گنجی

کرے بلبل گلشن نواسنجی

اس وقت اہل پنجاب فرحاں و شاداں ہیں مریم نواز کو دعائیں دے رہیں ہیں یہ میں اپنے ذاتی مشاہدہ کی بناء پر کہ رہا ہوں۔ہر کوئی یہ اُمید لگائے ہوئے ہے کہ اگر محترمہ مریم نواز پانچ سال تک وزیراعلیٰ رہیں تو وہ تمام کانٹے جو سابقہ حکومت نے زندگی کی راہ میں بچھائے تھے، از خود جل کر راکھ ہو جائیں گے۔پنجاب ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور منزل قریب تر ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button