منقبت
سلام /صدائے گریہ و ماتم کہاں اسیر ہوئی/احتشام حسن

سلام
احتشام حسن
صدائے گریہ و ماتم کہاں اسیر ہوئ
جہاں دبائی وہیں سے نمو پذیر ہوئی
ہماری دھڑکنیں ہیں مرثیہ ء_ میر انیس
ہماری آہ و فغاں نوحہء_ دبیر ہوئی
حسین سے ہے مودت متاع_ کل اپنی
یونہی نہیں یہ مرا مافی الضمیر ہوئی
لہو کی دھار جو نکلی ہے نطق_ اصغر سے
یزید_ وقت ترے نام پر لکیر ہوئی
چراغ ، خیمہ، اقارب ترا بیان حسین
ترے وسیلے سے تجدید_ ذوالعشیر ہوئی
غم_ حسین ملا ہے ہمیں وراثت میں
یونہی نہیں یہ صفت شامل_ خمیر ہوئی
ہمارے مسئلے حل یا علی مدد سے ہوئے
کہیں پہ مدحت_ شبیر دست گیر ہوئی
خدا کا شکر صف_ دشمناں سے حر نکلے
خدا کا شکر کوئی آنکھ تو بصیر ہوئی
حسن بہشت کے شاہوں کی بارگاہ ہے وہ
کہ جس میں پیش تری کاوش_ حقیر ہوئی



