خبریںرپورٹ

ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے: انسانیت کے نام ایک دن

رپورٹ : سیدہ عطرت بتول نقوی

 

ہر سال 14 جون کو World Blood Donor Day منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب Red Crescent (انجمن ہلال احمر) کے لاہور آفس، یعنی ایک بہت خوبصورت اور قدیم عمارت میں منعقد کی گئی۔

اس کامیاب تقریب کا سہرا ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر فوزیہ سعید کے سر ہے، جو بہت مخلص اور فرض شناس آفیسر ہیں۔ مختلف کالجز اور اداروں میں جا کر بلڈ کیمپ لگانا، خون اکٹھا کرنا، پھر تمام انتظامات دیکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ یہ کام بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ تھلیسیمیا میں مبتلا بچوں اور ان کے والدین کی دعائیں سمیٹتی ہیں۔ اس تقریب کی کامیابی کے لیے انہوں نے بہت محنت کی تھی۔

یہ بھرپور تقریب تھی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر شبنم بشیر صاحبہ، وائس پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج تھیں۔ گیسٹ سپیکرز میں ڈاکٹر ماریہ خان، ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی، شعیب مرزا صاحب، ایڈیٹر پھول، اور ڈاکٹر نورالزماں، چیف ایگزیکٹو فینکس فاؤنڈیشن شامل تھے۔

تقریب میں باقاعدہ خون کا عطیہ دینے والے ڈونرز، جن میں کالجز اور کمپنیز کے نمائندگان شامل تھے، انہیں گولڈ میڈلز دیے گئے۔ کچھ رائٹرز، جنہوں نے کسی نہ کسی حوالے سے تھلیسیمیا کے مسائل اپنی تحریروں اور انٹرویوز وغیرہ کے ذریعے اجاگر کیے، انہیں بھی گولڈ میڈل دیے گئے، جن میں ہم بھی شامل تھے۔

 

طالبات اور والنٹیئرز کو سرٹیفیکیٹس دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔ تقریب میں تھلیسیمیا میں مبتلا بچے بھی شامل تھے۔ ایک بچے علی سفیان نے سورۂ رحمان کی تلاوت سے تقریب کا آغاز کیا تھا، اور اس کے بعد ایک بچی مریم حنیف نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔ ایک اور بچہ عبداللہ بھی شامل تھا۔

 

تقریب کے بعد ہم نے اس وارڈ کا وزٹ کیا جہاں انہیں خون لگایا جا رہا تھا۔ دل افسردہ ہو گیا، لیکن بظاہر ان بچوں کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ یہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لگتا تھا کہ ان کی اچھی دیکھ بھال ہو رہی ہے۔ اس کا کریڈٹ انجمن ہلال احمر کے آفس میں موجود تمام ڈاکٹرز اور عملے کو جاتا ہے۔

اس پروگرام میں شرکت سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹرز اس بات پر متفق ہیں کہ خون کا عطیہ دینے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ خون دوبارہ جلد ہی بن جاتا ہے، اس لیے صحت مند افراد کو خون کا عطیہ دینا چاہیے تاکہ ان بچوں کو آسانی ہو جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ فوزیہ سعید صاحبہ ہر چار مہینے بعد خون کا عطیہ دیتی ہیں۔ وہ 54 بار خون دے چکی ہیں۔

خون دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب

ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

 

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x