
سلام
منزہ سحر
صدقہ حسین کا ہے یہ چاہت حسین کی
دل میں بسی ہوئی ہے محبت حسین کی
سمجھا نہیں یزید نے رتبہ حسین کا
بالا ہے تخت و تاج سے عزت حسین کی
دیکھا نہیں ہے جس نے بھی پانی کی پیاس کو
جانے گا کس طرح سے وہ عظمت حسین کی
سجدہ ادا کیا ہے جو تیغوں کے سائے میں
دیکھے کوئی تو شان عبادت حسین کی
صدیاں گزر گئی ہیں زمانے گزر گئے
بھولا نہیں جہان شہادت حسین کی




