
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں
پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
(فرحت احساس)
انسان کے اندر ایک ایسی دنیا آباد ہے جو بہت زیادہ وسیع، پراسرار اور گہری ہے۔ اس دنیا میں خوشیوں کے ساتھ ساتھ اداسی بھی شامل ہے لیکن کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جو لفظوں کی قید میں نہیں آتے۔ جب انسان دکھ، تنہائی یا کسی اذیت سے گزرتا ہے تو اس کے جذبات آنسوؤں کی شکل اختیار کر کے چپ چاپ بہنے لگتے ہیں۔ یہ آنسو ان کہی کہانیوں، ادھوری خواہشات اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ جب ہم معاشرے میں نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ہر چہرہ ایک نقاب کے پیچھے چھپا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
انسان اس دوڑ میں اس قدر مصروف ہو چکا ہے کہ اسے اپنے آپ کو سنبھالنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ دن بھر کی مصروفیات اور ذمہ داریوں کا بوجھ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جو انسان چپ چاپ آنسو بہاتا ہے وہ اپنی تکلیف کسی کو بتا نہیں پاتا کیوں کی اس کے اندر کا درد صرف وہی جانتا ہے۔
ان آنسوؤں کی اپنی ایک الگ تاثیر ہوتی ہے۔ کبھی کبھی یہ آنسو خوشی کے جذبات سے لبریز ہو کر آنکھوں سے بہتے ہیں لیکن اکثر یہ اندرونی کرب اور اداسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب کوئی بچھڑ جاتا ہے یا کسی رشتے میں دراڑ پڑتی ہے تو الفاظ بےاثر ہو جاتے ہیں۔ ایسے لمحات میں آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ یہ آنسو دل کے زخموں پر مرہم کا کام بھی کرتے ہیں اس طرح انسان کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔
آنسو کم زوری کی علامت نہیں بل کہ انسان کے اندر چھپے درد اور حساس دل کی پہچان ہوتے ہیں۔ جو لوگ اپنے جذبات کو اندر دبا لیتے ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ پتھر کے ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ رو لیتے ہیں ان کا دل صاف رہتا ہے۔
اس بناوٹی دنیا میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ دوسرے کے دکھ کو سمجھ سکے۔ جب کوئی انسان تنہا ہوتا ہے تو یہ آنسو ہی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ آنسو اس کی وہ داستان سناتے ہیں جو وہ کسی کو بتا نہیں سکتا۔ یہ آنسو اس بات کی بھی نشان دہی کرتے ہیں کہ زندگی ہمیشہ گُل زار نہیں رہتی۔
ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ خود کو بےبس محسوس کرتا ہے۔ ان لمحوں میں صبر اور برداشت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ چپ چاپ بہتے آنسو دراصل اسی صبر اور برداشت کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ یہ آنسو انسان کو اندر سے مضبوط بناتے ہیں اور اسے زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرنے کی ہمت دیتے ہیں۔
اگر ادبی نقطہ نظر سے دیکھیں تو آنسوؤں نے ہمیشہ انسانی جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ شاعری میں آنسو ہمیشہ محبت، ہجر اور دل کی تڑپ کی علامت رہے ہیں۔ زندگی کے سفر میں انسان بہت کچھ کھوتا ہے اور بہت کچھ پاتا ہے۔ اس سفر میں ملنے والی ناکامیاں، محرومیاں اور دھوکے انسان کو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ جب انسان ان تجربات سے گزرتا ہے تو اس کے اندر ایک گہرا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساس ہی بعد میں آنسوؤں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ آنسو انسان کو اس کی اصل حقیقت سے روشناس کراتے ہیں اور اسے عاجزی سکھاتے ہیں۔
آنسو انسان کے وجود کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ آنسوؤں کا بہنا ایک فطری عمل ہے اور اسے چھپانے یا اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ آنسو انسان کے دکھ، درد، خوشی اور اس کی پوری زندگی کی کہانی بیان کرتے ہیں لہٰذا، آنسوؤں کو بہنے دینا چاہیے کیوں کہ یہی وہ راستہ ہے جس سے انسان اپنے اندر کے غبار کو باہر نکال کر خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔




