منقبت
منقبت / ہر صاحب نظر کو ضرورت علی کی ہے /طارق اسد

منقبت
طارق اسد
جتنی ملی ہے دہر کو حکمت علی کی ہے
ہر صاحبِ نظر کو ضرورت علی کی ہے
سب بیعتوں میں ایک ہی بیعت علی کی ہے
اس خاک داں پہ اب بھی خلافت علی کی ہے
اک شہرِ علم، دوسرا دروازہ شہر کا
سنت ہے جو نبی کی وہ سنت علی کی ہے
لب پر ہمارے ذکر اسی مہرباں کا ہے
دل میں ہمارے ساری محبت علی کی ہے
لڑتا ہوں روز مرحبِ دوراں سے میں اسد
وہ اس لیے کہ مجھ کو اجازت علی کی ہے


