اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل  / جو وحشت پر آمادہ تھے، لوگ وہ گھٹتے جاتے ہیں / یاور عظیم

غزل

 

 

جو وحشت پر آمادہ تھے، لوگ وہ گھٹتے جاتے ہیں

ہم بھی ترکِ جُنوں فرما کر گھر کو پلٹتے جاتے ہیں

  

یہ اعجازِ حُسن ہے اُس کا، جب وہ ہنسنے لگتی ہے

دھوپ نکلتی آتی ہے اور بادل چھٹتے جاتے ہیں

  

کہیے اِس کے بدلے آپ کو کون سا تمغہ ملنا ہے؟

یہ جو بساطِ حرف و معانی آپ اُلٹتے جاتے ہیں

  

کتنے پریشاں حال تھے، کیسے شوریدہ سر تھے لیکن

تیری بانہوں میں آ کر چُپ چاپ سمٹتے جاتے ہیں

  

خودداری کی قیمت اکثر یُوں بھی چُکانی پڑتی ہے

دوست بچھڑتے جاتے ہیں اور رابطے کٹتے جاتے ہیں

  

اک مُدّت سے اُن آنکھوں میں میرا عکس سلامت ہے

ورنہ جتنے آئینے ہیں، دُھول میں اٹتے جاتے ہیں 

  

اپنے حریفوں میں اب یاورؔ میں ہی آگے آگے ہوں

اک اک کر کے باقی دشمن پیچھے ہٹتے جاتے ہیں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
1 Comment
Inline Feedbacks
View all comments
اُردو وَرثہ ویب ڈیسک
Admin
6 months ago

خودداری کی قیمت اکثر یُوں بھی چُکانی پڑتی ہے

دوست بچھڑتے جاتے ہیں اور رابطے کٹتے جاتے ہیں

Related Articles

Back to top button