اُردو ادباُردو شاعرینظم

ورثہ / لیلیٰ ہاشمی

ورثہ

 

 

حاکمِ قہر و غضب 

شہر دل کے دروازے پر 

دو زانو بیٹھا ہے

سسکتی

بلکتی

بین کرتی التجائیں

قہر و غضب کی سر زمین پر

ہیبت طاری کر رہی ہیں

غموں کی ترسیل کو

راہیں اور پناہیں مل رہی ہیں

خود ساختہ قہقہے

آنسووں کا لہو چاٹ رہے ہیں

ہمارا ورثہ مفقود ہو رہا ہے 

سو ایسے میں 

اپنے بچوں کو رونے کا 

ہنر سکھا کر

ہم نسلوں میں

پرسہ منتقل کریں گے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x