
کسی بھی کتاب پر مکمل مطالعہ کرنے کے بعد، آپ تبصرہ نگاری کا ارادہ رکھتے ہیں؟ تو بشمول پیش لفظ دیگر ادباء کی آراء مت پڑھئیے۔ اپنا تبصرہ قارئین کی نذر کرنے بعد پیش لفظ اور دیگر ادباء کی آراء پڑھئیے۔ آپ جس کسی بات کا بھی تعین کرنا چاہتے ہیں، بخوبی کر پائیں گے اور کتاب میں شامل آراء پر اپنی رائے محفوظ کر پائیں گے۔ میں ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہوں۔ تبصرہ نگاری کے بعد تعین کرنے کے لئے اذاںبعد جو پڑھا وہ یہاں پیش کرنے سے گریزاں ہوں۔
کتاب کھولتے ہی خوبصورت احساس جلی حروف میں لکھا “انتساب پیاری بیٹیوں کے نام” ہے۔ جن کی محنتوں اور محبتوں کی وجہ سے یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ کتاب دو سو چالیس صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں بیس افسانیں اور دو خاکے شامل ہیں۔ سبھی تحریروں کا بہاؤ پڑھنے میں سہل اور دلچسپ ہے، جبکہ عنوانات منفرد ہیں۔
اختر شہاب صاحب کی والدہ اکبری صاحبہ کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رحمتوں کے زیر سایہ جگہ عطا فرمائے۔ جن کا نام اختر شہاب صاحب کے والدِ گرامی نے محبت میں “ملکہ اکبری سلطانہ” رکھا تھا۔ ملکہ اکبری سلطانہ نے محبت کا جواب محبت سے یوں دیا کہ “ایم اے سلطانہ” کے نام سے دستخط کیا کرتی تھیں۔
خاکہ "ملکہ اکبری سلطانہ” اختر شہاب صاحب کے بڑے بھائی صاحب (م۔ الف خان مظاہر) نے لکھا ہے۔ جبکہ اس خاکے کی نوک پلک اختر شہاب صاحب نے سنواری ہے۔ خاکہ والدہ صاحبہ کے اعزاز میں خراج تحسین ہے اور ملکہ اکبری سلطانہ صاحبہ کے طرزِ زندگی پر سیر حاصل ہے۔ جبکہ یہ خوبصورت یادش بخیر بھی ہے۔ یہ تحریر جہاں بے اختیار مسکرانے کا باعث بنتی ہے وہیں یہ تحریر افسردہ کر دینے والا بیان ہے۔ خاکہ ملکہ اکبری سلطانہ صاحبہ کا طرزِ زندگی اپنانے پر، قارئین کو ترغیب دلاتا ہے۔ یہ چھ صفحات پر مشتمل ہے۔
چودہ صفحات پر مشتمل خاکہ "میری امی” اختر شہاب صاحب کی ہمشیرہ صاحبہ (راشدہ شعیب) نے لکھا ہے۔ تحریر میں ایک جگہ آپ لکھتی ہیں، کاش اس زمانے میں مووی کیمرہ ہوتا۔ مکمل خاکہ پڑھنے کے بعد کہنا چاہوں گا کہ خاکہ نگاری کے ہمراہ منظر نگاری نے مووی کیمرہ کی کمی پوری کر دی ہے۔ امی جان کی خوبصورت یادیں، یہ وہ دور تھا جب خواتین سوئیٹر بنتے وقت رازداری اور احتیاط برتنی تھیں۔ جیسے افسانہ نگار، افسانہ مکمل کرنے تک منظر عام پر نہیں لاتا۔ بالکل اسی طرح سوئیٹر مکمل ہونے پر ہی منظر عام پر لایا جاتا تھا۔ محدود آمدنی میں بھرپور زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے؟ تحریر امی جان کے طرزِ زندگی پر گہرے مشاہدات ہیں۔
گھریلو خواتین ان دو خاکوں سے استفادہ کرنا چاہیں تو یہ خاکے سیر حاصل مضامین بھی ہیں۔ اولاد بھی ان خاکوں کی استفادہ کرتے ہوئے والدہ سے حسن سلوک کا مشاہدہ کر سکتی ہے۔ خاکہ نگاری میں افسانوی رنگ عکسِ اتم ہے۔ دونوں خاکے سلیقہ شعاری کی مثالیں بھی ہیں۔ آج کے ماڈرن دور کی خواتین جو ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں اور بالخصوص بیٹوں کو بھی سفارش کرتا ہوں اور تجویز کرتا ہوں کہ یہ دو خاکے ضرور پڑھیں۔ استفادہ نہ ہو؟ تب کہیے گا۔ روز مرہ کے رویوں میں اور معمولات زندگی میں تبدیلیاں رونما نہ ہو؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اولین شرط پڑھنا اور پڑھ کر عمل پیرا ہونا ہے۔
کتاب "ہم مہرباں” میں شامل یہ دو خاکے پڑھنے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ اختر شہاب صاحب کا تعلق با ذوق ادبی گھرانے سے ہے۔ ادب سے شغف رکھنے والا خاندانی پس منظر، اختر شہاب صاحب کی ادبیت اور خدا داد صلاحیتیں اجاگر کرتا ہے۔ افسانوی مجموعے میں موضوعاتی توازن کچھ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ کوئی ایک افسانہ بھی موضوع کے اعتبار سے متنازع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نسائیت کے نام پر بالعموم، تانیثی ادب میں ظلم و جبر کی داستانیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ریز نظر کتاب میں تین تانیثی افسانے شامل ہیں۔ جو روش سے ہٹ کر رقم کئے گئے ہیں۔ وقت بدلنے کے لئے ایسا ہی تانیثی ادب مرتب کرنا ضروری ہے جو عملی طور پر کر گزرنے کی تربیت و ترغیب دے۔ جبکہ چار مختصر افسانے کرونا دور کے پس منظر میں لکھے نظر آ رہے ہیں۔
( دوسری قبر )
یہ توشہء خاص ہے۔ تحریر دو حصوں پر مبنی، آب بیتی اور جگ بیتی کا امتزاج ہے۔ آب بیتی، جگ بیتی سے پیوستہ ہے۔ یہ ایک ایسی سچی روئداد ہے جو ایک کہانی میں کئی کہانیاں سموئے آب و تاب کے ساتھ کتاب میں شامل ہے۔ اس پر تبصرہ نگاری کرنا ، مقالہ لکھنے کے مترادف ہے۔ عرصہ دراز بعد ایسی کہانی پڑھنے کو ملی ہے، جو خزاں رت سے محفوظ ایک سدا بہار پودا ہے۔ جس کا بیج اختر شہاب صاحب نے بویا ہے۔ روئداد کا دوسرا حصہ پڑھتے ہوئے خشونت سنگھ کا ایک ناول یاد آیا۔ خشونت سنگھ نے:
"ٹرین ٹو پاکستان” میں مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔ روئداد "دوسری قبر” کم ہے نہ زیادہ بلکہ مدعا کے ہم آہنگ ہے۔ میرے آباء اجداد اسی ٹرین میں سوار ہو کر پاکستان کے مہاجر کیمپ تک پہنچے تھے۔ 50 میں سے 48 اسی ٹرین میں قتل کر دیے گئے تھے۔ جو سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔ ان میں سے چند قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہوائی جہاز میں سفر کر کے پاکستان آئے تھے۔ ٹرین والوں نے آنکھوں دیکھا حال اور جو ان پر بیتی، باقی ماندہ بچے کھچے بزرگوں سے سنا اور لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے۔ خشونت سنگھ کا ناول "ٹرین تو پاکستان” میرے نزدیک جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جبکہ زیر نظر کتاب میں شامل "دوسری قبر” جوں کا توں بیان ہے۔
( شق نمبر 18 )
گوروں کے دیس سے اور عرب ممالک سے واپس آنے والوں کے حالات پر عمدہ موازنہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان، عرب ممالک اور یورپی ممالک میں عورت کی زندگی کا موازنہ خوبصورتی سے قلم بند کیا گیا ہے۔ افسانے میں اختر شہاب صاحب کے خیالات و نظریات بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں مصنف بذات خود افسانے میں نظر آ رہا ہے۔ طلاق اور حلالہ کے موضوع پر قلم اٹھاتے ہوئے عورت کو پر وقار اور باہمت دکھایا گیا ہے۔ ایسا تانیثی ادب مرتب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی سے معاشرے میں بدلاؤ آئے گا۔
«سب سے بڑا روگ کیا کہیں گے لوگ»
"شق نمبر 18” اسی روگ کو دور کر دینے والا افسانہ ہے۔ بیرون ممالک میں حصول روزگار کے سلسلے میں مقیم پاکستانی، جن کے بیوی بچے پاکستان میں ہیں۔ انہیں رشتے ناتے طے کرتے وقت کن مشکلات کا سامنا درپیش ہو سکتا ہے۔ یہ بھی "شق نمبر 18” کا خاصہ ہے۔ مختصر یہ کہ یہ افسانہ تانیثی ادب میں مثبت اضافہ ہے۔
( کابک گزیدہ )
وقت شوق ختم کر دیتا ہے۔ بے حس اولاد وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے اور وقت سے پہلے ہی قبر میں اتار دیتی ہے۔ بڑھاپے میں رومانیت کیا ہئیت اختیار کرتی ہے؟ یہ بہت خوبصورتی سے قلم بند کیا گیا ہے۔ دوستوں کا ہونا زندگی کا اہم ترین حصہ ہے۔ دوستوں سے رابطے میں رہنا چاہیے بصورت دیگر مرنے کی خبر، جسد خاکی خاک میں مل کر خاک ہو جانے پر ملتی ہے۔ واصف علی واصف صاحب کا قول ہے کہ "پریشانی حالات سے نہیں بلکہ پریشانی خیالات سے پیدا ہوتی ہے۔”
"کابک گزیدہ” اس قول پر پورا اترتا افسانہ ہے۔ زندگی رواں دواں رہنی چاہئے۔ جامد زندگی میں کچھ مثبت و غیر متوقع نظر آئے تو؟ جامد زندگی متحرک کرنے کے لیے غیر متوقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے۔ افسانے میں تیرہ سطور پر مشتمل ایک پیرا گراف میں اختر شہاب صاحب کے خیالات و مشاہدات بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ افسانوی پس منظر: ستر یا اسی کی دہائی میں لکھا گیا خوبصورت افسانہ ہے۔
( وی آئی پی )
ہر انسان چاہے تو وی آئی پی بن سکتا ہے۔ لیکن وی آئی پی بننے کے لئے دل کڑا اور فیصلہ حتمی کرنا پڑتا ہے۔ کتاب میں شامل اس افسانے کا اسلوب دیگر افسانوں سے جدا ہے۔
( ہم مہرباں ) ٹائٹل سٹوری
ریل گاڑی میں دورانِ سفر طبی سہولیات کے نام پر مرہم پٹی کا سامان اور ڈسپرین وغیرہ کا ایک ڈبہ میسر آتا ہے۔ یہ ریلوے سروسز میں شامل نہیں ہے کہ ٹرین میں ٹی ٹی اور دیگر عملے کے ہمراہ ایک ڈاکٹر بھی عملے کا حصہ ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو ینگ ڈاکٹرز سڑکوں پر پتھراؤ کرنے کے بجائے ، باعزت روزگار ملنے پر پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دیتے نظر آئیں۔ ٹائٹل سٹوری کا عنوان طنزیہ بھی ہے اور سنجیدہ بھی ہے ، دونوں طرح اخذ کیا جا سکتا ہے۔ پلاٹ میں دو مرکزی کردار ہیں۔ پہلے مرکزی کردار کا آخری جملہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ افسانہ "ہم مہرباں” میں ٹرین کا سفر، زندگی کا سفر لگتا ہے۔ سرورق پر بنا خاکہ افسانہ پڑھنے کے بعد واضح طور سمجھ آتا ہے۔
( جائے اماں )
پسِ منظر ستر کی دہائی کا ہے۔ تصورات میں زندگی بسر کرنے والے ہم میں سے کئی ایک کی کہانی ہے۔
( دوسرا فیصلہ )
کی یادیں تازہ کرتا ہے۔ یہ ایک خوبصورت کہانی ہے ، ایک مسٹری ہے۔ Alfred Hitchcock کی کہانیوں کی یاد تازہ کرتا افسانہ ہے۔
( ادھورا رشتہ )
یونیورسٹی میں پروان چڑھنے والی محبت کا انجام اور مردانہ خوش گوار قسم کا کمینہ پن دل موہ رہا ہے۔ غلط فہمی کا پودا اگر تناور درخت بن جائے تب بھی کاٹا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی کاٹنا چاہے تو…
( برا بول )
گو کہ افسانے کا موضوع… نیکی، بدی، بڑا بول اور تکبر ہے۔ میرے نزدیک یہ افسانہ وہم اور منفی سوچ پر ہے جو کہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اس افسانے کا اسلوب بھی دیگر افسانوں سے الگ ہے۔
( عقدِ ثانی )
عورت عمر کے کسی حصے میں میں دوسری شادی کر سکتی ہے۔ نام نہاد معاشرتی اقدار سے بالاتر یہ عورت کا حق ہے۔ افسانہ تانیثی ادب میں ایک اور مثبت اضافہ ہے۔
( جوٹھن )
ڈرامائی انداز میں لکھا گیا نہایت دلچسپ افسانہ ہے۔ اس افسانے میں صرف ایک جملہ اضافی ہے۔
"میرے پاس سفارش آئی ہے تمہیں جان سے نہیں مارنا۔” افسانہ یہیں پر ہی مکمل ہو جاتا اور کھل جاتا ہے، تجسس ختم ہو جاتا ہے۔ گنے چنے کرداروں میں واضح طور پتا چل رہا ہے کہ سفارش کنندہ کون ہے۔ اس ایک جملے کے بغیر افسانہ آگے بڑھایا جا سکتا تھا۔
( دورِ جنوں )
لاجواب افسانہ ہے۔ میں اور آپ کہانی میں نظر آتے ہیں پھر کہانی آگے بڑھ جاتی ہے اور ہم بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور شکر کرتے ہیں کہ ہم پیچھے ہی رہ گئے۔
( آج کا مجنوں )
افسانہ شالامار چوک سے شالیمار سنیما تک کا پیدل سفر ہے۔ اختتام بے ساختہ مسکرانے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ شگفتہ انداز میں لکھا گیا افسانہ جتنی بار پڑھا جائے، مسکرائے بنا نہیں رہا جا سکتا۔
شالامار لنک روڈ پر چار ہی سنیما گھر ہوا کرتے تھے۔ سحر سنیما ، جو اب کالونی کی زد میں آ کر کالونی بن چکا ہے۔ شبنم سنیما ، اب یہاں شبنم سینٹر ہے ، جس میں شاپنگ مال اور رہائشی فلیٹس ہیں۔ انگوری سنیما ، آج بھی کھنڈر کی شکل میں موجود ہے۔ اسی قطار میں شالیمار سنیما بھی ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب شالیمار سنیما کی جگہ کئی منزلہ پلازہ بن چکا ہے۔
( زنانہ )
حساس افسانہ نقار خانے میں طوطی کی آواز ہے۔
( صاحب جی )
افسانہ "رو میں سب روا ہے” سے شروع ہو کر ، باپ کی شفت، بڑی عمر کے شوہر کی محبت میں تلاش کرنے تک سفر بخوبی طے کر رہا ہے۔ یہ تانیثی ادب پر تیسرا افسانہ ہے۔
( طائر لاہوتی )
خوبصورت افسانہ حلال و حرام پر اور توکل پر مبنی دل کشا ہے۔
( کرنی کا کرونا )
افسانہ کرونا دور کے پس منظر میں غرور کا سر نیچا کر دکھاتا ہے۔
( کرنیاں / کرونیاں )
کرونا دور میں بے احتیاطی اور کرونا سے زیادہ بیگم کا ڈر ، مختصر سے افسانے میں مسکراہٹ کا باعث بن رہا ہے۔
( قرنطینہ بالعکس )
کرونا دور کے پس منظر میں مسکرانے پر مجبور کرتا ایک اور مختصر افسانہ ہے۔
( ہچکچاہٹ )
کرونا دور کے پس منظر میں دردناک مختصر افسانہ ہے۔
"ہم مہرباں” اردو ادب میں خوبصورت اضافہ ہے۔ جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا، کراچی میں رہائش پذیر اختر شہاب صاحب کی دیگر تصانیف بھی لائقِ مطالعہ ہیں۔ "ہم مہرباں” سمیت آپ کی دیگر تصانیف پر تھیسیس لکھے جا چکے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔




