نظم

سفر کی دھول | اعجاز الحق

سفر کی دھول

(اعتبار ساجد کی یاد میں) 

محبتوں کے سفر میں دیکھو

ایک اور راہی بچھڑ گیا ہے

وہ جس کے لہجے کی خوشبوؤں سے

غزل کے آنچل مہک رہے تھے

وہ جس کی باتوں کے سیپ میں سے

خیال کے موتی جھلک رہے تھے

وہ خواب آنکھوں میں لے کے اب کے

خاموشیوں کے نگر گیا ہے!

وہ اعتبارِ ہنر کا سورج

جو لفظ و معنی کی بستیوں میں

نئی رتوں کے دیئے جلاتا

کئی رتوں تک دکھائی دے گا

وہ یاد بن کر، وہ خواب بن کر

دلوں کے خالی دریچوں میں اب

گلِ شناسائی بن کے آ کر

ہمیشہ تازہ دکھائی دے گا!

مگر وہ بستی، وہ لوگ، وہ گھر

جو اس کی خوشبو سے معتبر تھے

وہ اب اداسی کی اوڑھنی میں

اسے پکاریں گے بارہا پر

پلٹ کے آنے کا وقت گزرا

سفر کی دھول اڑ رہی ہے ہر سو

اور اس کی یادوں کے تذکروں سے

فضا کا چہرہ اتر گیا ہے!

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x