رستہ / مسلم انصاری

رستہ
زندگی
تھک ہار کے پہلے کی طرف لوٹ آتی ہے
جیسے لوٹ آتی ہے گزرے ہوئے موسم کی بہار
جیسے رد کردہ دعاؤں کا پلٹ کر آنا
جس طرح لوگ سیاحت کی کسی چوٹی پر
آسماں چھوتے پہاڑوں میں کہیں بیچ کھڑے
خوش گمانی میں کوئی چیخ بلند کرتے ہیں
جس طرح ان کی بھی آواز پلٹ آتی ہے
جس طرح چھوٹی سی اک چونچ میں کچھ دانے بھرے
صبح صادق سے روانہ کوئی ماں سی چڑیا
شام میں شام کے ہونے سے بھی کچھ دیر قبل
اپنی اولاد کے بھوجن کو اٹھا لاتی ہے
جس طرح ڈار سے بچھڑی کوئی بوڑھی کوئل
تھک کے ہلکان ہو پھر سوچتے، اُڑتے، پَڑتے
پَر گرائے ہوئے برگد پہ پلٹ آتی ہے
جس طرح اپنا ہی چھوڑا ہوا رقبہ، پانی
جب بھی پلٹے تو مسافت کو بھی جا لیتا ہے
جس طرح صبح کا بھولا ہوا گھر بھر کو
شام ہوتی ہے تو پھر شام کو پا لیتا ہے
اس طرح لَوٹ، پلٹ کر کہیں واپس آنا
کب کہیں گھر کے مکینوں کو برا لگتا ہے
بلکہ گر لوٹ آئیں دہقان کے کمزور سے ڈَور
یا کسی بازِ کبوتر کے پرانے پنچھی
یا کہیں قید، مجسم کوئی انسانِ عظیم
یا کہ لاری جو پلٹ آئے مسافر ڈھو کر
یا کہ گھر بھر کی آوارہ سی ننھی مرغی
کوئی طوطا سا ہرے پر، ذرا بولنے والا
اس سے سستی سی، کوئی اور بھی تمثیل کہوں؟
جیسے بلّی جو کبھی پالنے والی بھی نہ ہو
وہ بھی لوٹ آئے تو کتنوں کی خوشی بنتی ہے
اک ملاقات زمانوں کی خوشی جنتی ہے
جانے والوں کا نہ آنا تو کہیں زیب نہیں
اس طرح لوٹ کے آنے میں کوئی عیب نہیں!
خیر
لوٹ آنے کے بارے میں بتاتا ہوں تمہیں
سب کے لوٹ آنے سے ہم نے تو یہی سمجھا ہے
لوٹ آنے کی ہیت ہی اصل ہیت ہے
ہاں مگر لوٹ کے آنے میں ذرا شرط بھی ہے
"جانے والے سے پلٹ آنے کا رستہ نہ گھمے!”
"گو کہ جانا ہو مگر پھر بھی تعلق کے لئے
بھول جانے کی نیت سے ارادہ نہ کرے!”
اب بتاؤ نا ذرا مجھ کو میرے یارِ عزیز
تم کو رستہ بھی ابھی یاد ہے یا بھول گیا؟




