غزل / ہو جائے گی خبر مرے اگلے قدم کے بعد / مژدم خان
غزل ہو جائے گی خبر مرے اگلے قدم کے بعد کچھ ہے بھی یا نہیں ہے وجود و عدم کے بعد بازارِ... Read more.
غزل / آدم کی طبیعت میں یہ جو خصلتِ بد ہے / خوشحال ناظر
غزل آدم کی طبیعت میں یہ جو خصلتِ بد ہے اس کی کوئی تائید نا اس کا کوئی رد ہے جو دعویِٰ... Read more.
شاعر / زاہد خان
شاعر / زاہد خان آٹھ ارب آبادی میں وہ بات نہیں کر سکتا ہے زندہ مردہ لوگوں میں وہ تنہائی... Read more.
ہمیں سچے لوگ اچھے نہیں لگتے / کے بی فراق
ہمیں سچے لوگ اچھے نہیں لگتے ہم ایک ایسے کردار کے متمنی ہیں جو ایک دوسرے میں خود کو تلاشنے... Read more.
غزل / جوئے وصال سے بھی کنارا نہیں ہوا / عبداللہ ندیم
غزل جوئے وصال سے بھی کنارا نہیں ہوا پراک ہوس پہ دل کاگزارہ نہیں ہوا آنکھوں کو تیرے... Read more.
عورت / عبدالرحمان واصف
عورت (ایک نظم تمام ماؤں بہنوں بیٹیوں کے نام) بنتِ حوا ہوں میں ! مجھ کو تسلیم ہے ، ٹیڑھی پسلی... Read more.
غزل / یہیں پہ کر لے ستاروں پہ گفتگو میرے ساتھ / ذی شان مرتضیٰ
غزل یہیں پہ کر لے ستاروں پہ گفتگو میرے ساتھ کہاں کہاں پہ بھٹکتا پھرے گا تو میرے ساتھ ... Read more.
بے رحم / حمزہ-ز
بے رحم / حمزہ-ز جوانی ایک دلکش نشہ ہے اور موت کسی بھی وقت جسم پے غالب آ سکتی ہے لیکن.. میرے... Read more.
محبت / مصطفٰی ارباب
محبت / مصطفٰی ارباب محبت وہ مُجھ سے زیادہ دُور نہیں ہے ہم اُس فاصلے پر ہیں جہاں سے ایک دوسرے... Read more.
یہی تو اک خرابی ہے تمھاری / احمد معاذ
غزل : احمد معاذ یہی تو اک خرابی ہے تمھاری سبھی کو دستیابی ہے تمھاری وہاں تک کا نظارہ پہلے کر... Read more.
نظم : تخمینہ سازی / شاعر : گُل جہان
تخمینہ سازی جسم سارے کا سارا کھلا تھان ہے اس پہ بھیدوں بھری اک اکیلی گرہ ناف کی۔۔۔۔۔!! اس پہیلی... Read more.
ہمارے پاس ہے کیا اور دشتِ جاں کے سوا / عبداللہ ندیم
غزل نہیں ملے گا یہاں کچھ بھی اب زیاں کے سوا ہمارے پاس ہے کیا اور دشتِ جاں کے سوا ہم اٹھ تو... Read more.
فیک بوکھلاہٹ / توحید زیب
نظم : فیک بوکھلاہٹ شاعر : توحید زیب صاف شفاف دن کے دسترخوان پر جب شام زندگی کا طلاق نامہ پیش... Read more.
دوئی کے سائے میں جھلستی اکائیاں / ثبات گُل
ابد سے ازل کے اِن سلسلوں میں امکانات کے جنگل کے پار جہاں سرسوں کے کھیت ہیں، گُندھے سینے والی... Read more.
بے سبب لمحوں کی نظم /سیف علی
ہم سفر میں رہے اور لوٹے تو قبروں سے نام و نشاں مٹ گئے ہم نے خانہ بدوشی میں گھر کے سبھی راستے... Read more.