بلاگبلاگ / کالمزشخصیت و فن

مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

تحریر سیدہ عطرت بتول نقوی

جولائی کے آخری دنوں میں بارشوں کے موسم میں بسمل صابری صاحبہ کے اس دار فانی سے کوچ کی خبر سنی ،
وہ عکس بن کے میری چشم تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
جیسے خوبصورت شعر کی خالق جس خاموشی سے جی رہی تھیں اسی خاموشی سے دنیا چھوڑ گئیں وہ خوبصورت اور نرم احساسات کی معتبر شاعرہ تھیں مدت سے وہ کسی ادبی محفل میں دکھائی دیں نہ ان کا کوئی خاص ذکر سنا لیکن ان کی وفات کی خبر کے ساتھ ہی ان کی شاعری اور شخصیت کے بارے سننے پڑھنے کو ملا کاش ہم اپنے شاعروں اور ادیبوں کی ان کی زندگی میں ہی قدر کر لیا کریں
اردو شاعری میں بعض آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو بلند آہنگ ہونے کے بجائے اپنے سادہ، پُراثر اور دل نشیں لہجے سے دیر تک قاری کے ذہن و دل میں گونجتی رہتی ہیں۔ بسمل صابری بھی ایسی ہی معتبر شاعرہ ہیں جنہوں نے اپنی غزلوں میں انسانی احساسات، محبت، ہجر، امید، یاد اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو نہایت وقار اور سادگی کے ساتھ بیان کیا۔ ان کی شاعری میں جذبات کی شدت کے ساتھ ساتھ تہذیب، شائستگی اور فکری پختگی بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
بسمل صابری کا اصل نام بسم اللہ بیگم صابری ہے۔ وہ 17 جولائی 1937ء کو ساہیوال (سابقہ منٹگمری) میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم لاہور سے مکمل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے تدریس کے شعبے کو اختیار کیا اور گورنمنٹ گرلز کالج ساہیوال میں لیکچرر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بعدازاں وہ پروفیسر کے منصب سے سبکدوش ہوئیں۔
بطور شاعرہ بسمل صابری نے غزل کو اپنی بنیادی صنف بنایا۔ ان کے ہاں جذبات کی صداقت، اظہار کی شائستگی اور زبان کی سلاست ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ پیچیدہ علامتوں کے بجائے ایسے سادہ اور مؤثر اندازِ بیان کو ترجیح دیتی ہیں جو براہِ راست قاری کے دل میں اتر جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری خواص کے ساتھ ساتھ عام قارئین میں بھی یکساں مقبول ہے۔
ان کے متعدد شعری مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جن میں "پانی کا گھر”، "روشنیوں کے رنگ”، "یادوں کی بارشیں”، "رس کی پھوہار” اور نعتیہ مجموعہ "بیاضِ نظر” شامل ہیں۔ ان کی ایک نثری کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ ان کا کلام پاکستان اور بیرونِ ملک کے ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہا ہے اور وہ مختلف بین الاقوامی مشاعروں میں بھی شریک ہوتی رہی ہیں۔
بسمل صابری کی شاعری کا نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ عورت کے احساسات کو شور یا احتجاج کے بجائے وقار، خودداری اور لطافت کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ ان کے اشعار میں محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی تہذیب اور باطنی بالیدگی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کی غزلیں دکھ، امید اور یاد کے رنگوں کو اس انداز سے سمیٹتی ہیں کہ قاری خود کو ان تجربات کا شریک محسوس کرتا ہے۔
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ بسمل صابری اردو غزل کی اُن اہم شاعرات میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے اپنے منفرد لہجے، نفیس اسلوب اور گہرے انسانی شعور کے ذریعے معاصر اردو ادب میں ایک باوقار مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام آج بھی اپنی فکری تازگی، سادگی اور اثرآفرینی کے باعث ادب دوست حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے آمین
تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

Author

Related Articles

Back to top button