منقبت

سلام /روشنی کا جو استعارہ تھا/ احمد سبحانی آکاش

"سلام”

احمد سبحانی آکاش 

 

روشنی کا جو استعارہ تھا 

کربلا نے اسے پکارا تھا 

 

کہہ کے لبیک ، میر_لشکر نے

قافلہ دشت میں اتارا تھا

 

مطمئن لوگ کیسے ہوتے ہیں 

حر کی آنکھوں سے آشکارا تھا 

 

خون آشام حرملا تھا اور

چاند کی گود میں ستارا تھا 

 

کون جانے امام نے اس روز 

کس محبت کو اختیارا تھا 

 

پوچھ مت کس طرح مورخ نے

دس محرم کا دن گزارا تھا 

 

قامت _ دیں کی استقامت کو 

یوم _ عاشور کا سہارا تھا 

 

فرصت_اشک میں بنام_حسین 

سانس لینا کہاں گوارا تھا

 

آج بھی دل پہ راج ہے ان کا 

کل بھی سادات کا اجارہ تھا 

 

ظلمت_شب سے داد پاتے ہوئے

روز_روشن نے سر ابھارا تھا

 

کربلا واقعہ نہیں آکاش

رنج تھا اور ڈھیر سارا تھا

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x