غزل

غزل /خیال یار بھی رنگین خواب جیسا ہے /حمزہ ارشد

غزل

حمزہ ارشد

غموں کی دھوپ میں بھی ماہتاب جیسا ہے
خیالِ  یار  بھی  رنگین  خواب   جیسا   ہے

اچھالے اُس پہ ملامت کے سنگ لوگوں نے
نہ سوچا یہ کہ وہ کِھلتے گلاب جیسا ہے

لگاؤ  شوق  سے  الزام پر  خیال   رہے
کہ ماضی اسکا کُھلی اِک کتاب جیسا ہے

کبھی کبھار تو ہلچل مچے گی جذبوں میں
ابھی   سمندرِ   اُلفت، حباب   جیسا    ہے

میں حرف حرف اُسے حِفظ کر کے بیٹھا ہوں
نصابِ  عشق  کے  کامل  وہ باب  جیسا ہے

پلاۓ جب بھی وہ آنکھوں سے جام اُلفت کے
تو  اُن  کا  ذائقہ، واللہ  شراب   جیسا   ہے

تم اُس کے عِشق کی گہرائی خاک جان سکے
 کہ  وہ  تو   حمزہ کی خاطر ، چناب جیسا ہے

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x