اُردو ادبافسانہ

موجاں ہی موجاں/ کلثوم پارس

یوں لگ رہا تھا جیسے سورج سوا نیزے پر ہو۔ روز کی طرح آج بھی گھرمیں کہرام برپا تھا۔ بال کھولے, آنکھوں کے ڈھیلے پھیلائے, حال بے حال ،کمرے کی ہر چیز کو زیر و زبر کرنے کے بعد اب ٹانگیں پسارے مختلف ڈراؤنی آوازیں نکال رہی تھی۔ آنکھوں میں ایسا خون اترا تھا کہ آج کسی نہ کسی کا تو گلہ کاٹے ہی کاٹے۔
بوڑھے ماں باپ پہلے پہل تو پریشان ہوتے مگر اب ہاتھوں میں سر دیے ایک کونے میں دبکے اپنی قسمت پر ماتم کناں رہتے تھے۔ علاج معالجے سے زیادہ دم درود پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا۔ اب تک جانے کتنے ہی رنگ برنگے عاملوں کے ہاتھوں اپنی محنت کی کمائی لٹا چکے تھے۔ مگر بینش ڈھونگی عاملوں کو ان کے ڈھونگوں سمیت تگنی کا ایسا ناچ نچاتی کہ الامان الحفیظ ۔
” بڑے ہی تگڑے جن کے نرغے میں ہے بینش۔۔۔۔۔۔
یہ جنات کا سردار اس سے شادی کا خواہش مند ہے۔ تبھی تو کسی عامل کے قابو میں نہیں آتا۔”
گاؤں کی عورتیں تھیں اور ان کی باتیں۔
ایک دو سیدھے سادھے مولوی بھی جھاڑ پھونک کے لیے بلوائے گئے۔ ایسے دُم دبا کر بھاگے کہ پھر آس پاس کے گاؤں میں بھی ان کا نام ونشان تک نہ ملا۔ گاؤں کے سب سے اچھے ڈاکٹر کو بلوایا ہاں بھئی!! سب سے اچھے ڈاکٹر کو بلوایا گیا مگر جن نے بینش کا ایسا گلہ دبایا کہ ہوش میں ہی نہ آنے دیا اور دو دن تک وہ کاٹھ پر ہی پڑی رہ گئی۔

گندم کی کٹائی سر پر تھی اگر کٹائی وقت پر نہ کی گئی تو سال بھر کی محنت غارت جائے گی۔ اوپر سے شریکہ برادری الگ طعن و تشنیع کریں گی۔ پہلے تو سب بینش ہی سنبھالتی تھی۔ بینش جمن چاچا کی بیٹی نہیں بیٹا تھا۔ اللہ نے آنگن میں دو پھول ہی کھلائے تھے جس پر جمن چاچا , سکینہ چاچی خوشی سے نہال تھے۔ اپنی زمین تھی گائیں ، بھینسیں ، بھیڑ بکریاں گو کہ رزق کی کسی طور کمی نہ تھی۔ جمن چاچا کوئی بہت بڑا زمیندار نہ تھا البتہ خوشحالی اس کے گھر کی داسی تھی۔
بینش دھان پان سے اچھی تھی انتیس کے پیٹے میں آ گئی تھی نسوانی حسن کی کسی طور کمی نہ تھی۔ گاؤں میں "پنجابن جٹی” کے نام سے مشہور تھی۔ کل ملا کر پوری آٹھ جماعتیں پاس تھی۔ فصل کی کٹائی , زمین کے ٹھیکے اور گھریلو راشن کا حساب کتاب اسے انگلیوں پر یاد ہوتا تھا۔

گھر کی ساری ذمہ داری ماں نے بینش کے کندھوں پر ڈال رکھی تھی اور جمن چاچا بیٹے کی نااہلی سے تنگ آ کر زمین جائیداد کی ذمہ داری بھی بینش کے سپرد کرنے چلا تھا جسے وہ بڑے ہی احسن طور اور سگھڑ پن سے نبھا رہی تھی۔ مگر اب کافی دنوں سے بینش ایک طاقتور جن کے قبضے میں تھی۔ سب منہ میں انگلیاں دابے دس دس فٹ دور کھڑے ہوتے۔
سب گم سم۔۔۔۔۔ کھانا پینا حرام۔
جب سے پرانے بوہڑ کے درخت کے نیچے گئی تھی بس وہیں سے کوئی کم بخت ،منحوس جن اس پر عاشق ہو گیا تھا۔ آنے والے عاملوں نے بتایا کہ جن کے ساتھ دو بھوت اور ایک چڑیل بھی ہے اگر کبھی جن بینش سے غافل ہو جائے تو چڑیل اور بھوت جن کی عدم موجودگی میں اس کی نگرانی کر سکیں۔
ایک پوٹلی بھر کے تعویذ اور پتلا جس میں جگہ جگہ سوئیاں چبھوئی گئیی تھیں گھر کے صحن کے عین وسط سے برآمد ہوا تھا۔ سیدھا شک بینش کے ماموں پر گیا تھا۔ برادری والے ان کی خوشحالی سے جلتے تھے ان ناہنجاروں نے بیچاری بینش کی کیا حالت کر دی تھی۔
حالات کا ریشم تھا کہ الجھتا جا رہا تھا۔ اب کرم جلی بینش جانے کب اس جن کے شکنجے سے آزاد ہو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
:::::::::::::::::

"دور پار کے گاؤں میں ایک جدی پُشتی” پیر موجاں والا ” ہے آج تک کوئی ایسا جن نہیں جسے اس نے شکست فاش نہ دی ہو۔ پَر ہے بہت مہنگا۔۔۔۔۔۔ مگر کام گارنٹی والا کرتا ہے۔۔۔۔جن بینش کا وجود تو کیا ملک چھوڑ کر جانے کو تیار ہو جائے۔

بڑے بڑے قوی الجثہ جن "پیر موجاں "والے کے گھر کا پانی بھرتے، کھیتی باڑی کرتے اور جانے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔ بتانے والاجمن چاچا کو پیر موجاں والے کے قصیدے پڑھ پڑھ کر سنا رہا تھا۔ جمن چاچا مرتا کیا نہ کرتا۔ آخر پیر موجاں کو بلوانے کا عندیہ دے دیا۔

اگلے ہی دن ایک بہت بڑی کالے رنگ کی جیپ جمن چاچا کے گھر کے سامنے آ کر رکی۔ اندر سے دو تین موٹے مشٹنڈے موچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے باہر آئے اور پیچھے دو آدمی جو کہنے کو پیر صاحب کے خلیفہ تھے ان کے ہمراہ چلتے ہوئے آئے
رنگین چارپائیوں پر سفید تکیے اور چادریں بچھائی گئیں۔ جن پر پیر صاحب بڑی تمکنت سے براجمان ہو گئے۔
وقت ضائع کیے بغیر پیر صاحب نے جن کی اسیر لڑکی کو طلب کیا اور اس کو ایک نظر دیکھنے کے بعد آنکھیں بند کر کے چارپائی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
"میں جن سے اکیلے میں بات کروں گا۔” ایک خلیفہ کے ہمراہ پیر صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔
پیر صاحب کو دیکھتے ہی بینش کے منہ سے کف اڑنے لگا۔۔۔۔۔وہ پیر موجاں کے خون کرنے کے درپے تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتی پیر صاحب نے اپنا رنگین ڈنڈا بینش کی کمر پر رسید کیا ۔
مجھے مارے گی ؟؟؟؟ ہیں …..
چل بتا !!! تو خود جائے گا یا میں تجھے نکالوں !!!
جن بہت سخت تھا پہلے کسی کے قابو میں آیا تھا جو اب آتا۔ پیر صاحب نے بھی بیچ دریا میں ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر خوب چلّے کاٹے تھے۔۔۔۔۔ غاروں میں راتیں گزاری تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹلنے والے کہاں تھے۔
غصے سے ڈنڈا گھماتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے اور خلیفوں کو حکم دیا
"آگ جلائی جائے!!!!!!”
سارے لوگ سن لیں اس آگ میں لڑکی کو گزاروں گا جن خود بخود جل کر بھسم ہو جائے گا۔ ”
حکم پر فوراً سے پہلے عملدرآمد شروع ہو گیا۔
جمن چاچا اور اسکی بیوی نے لرزتے ہونٹوں سے جسارت کی۔
” مائی باپ !!!! صرف جن ہی جلے گا نا۔۔۔۔۔ ہماری بیٹی کو تو کچھ نہیں ہوگا؟؟؟؟
"ہاں ہاں بے فکر ہو جاؤ !!! جن ہی جل کر راکھ ہو گا۔ "

آگ مکمل طور پر دہک چکی تھی اور پیر موجاں اس کے قریب آنکھیں بند کیے زیرِ لب کچھ بڑ بڑا رہا تھا فوراً بینش کو اس آگ میں ڈالنے کا حکم دیا گیا۔
آٹھ دس عورتیں بینش کو آگ کے قریب لانے کے چکر میں بینش سے لاتیں مکّے کھانے کے بعد زمین پر ڈھیر ہو چکی تھیں۔ آخر کار پیر صاحب کے خلیفوں نے چند لمحوں میں بینش کو آگ کے قریب لا کر پٹخا۔
اب جن کو اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی بچ نکلنے کا راستہ ناپید تھا۔ جن جھٹ سے پیر موجاں کے قدموں میں گرا۔
شاید جن اب پیر صاحب کے ساتھ کوئی ڈیل کرنا چاہتا تھا۔ تبھی تو مذاکرات کے لیے پیر پکڑ رہا تھا۔

بینش بے حال ہو چکی تھی اپنی بے ہنگم آواز میں بولی
"میری ایک شرط ہے”
پیر صاحب نے پھر سے ڈنڈا بینش کی کمر میں مارا تو جن بلبلا اٹھا۔
"اکیلے میں بتاؤں گا۔۔۔۔۔ اکیلے میں۔۔۔۔۔۔صرف پیر صاحب کو۔ "

مذاکرات کے لیے اسی کمرے کا انتخاب کیا گیا جسے صبح سے بینش نے ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ بینش ،جن اور پیر صاحب کو کمرے میں داخل ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا جیسے جیسے وقت گزرا لوگوں میں کانا پھوسی شروع ہو گئی جتنے منہ اتنی باتیں۔ سب تجسس کے مارے وہیں پر موجود تھے۔
پورے ایک گھنٹے کے بعد دروازہ کھلا پیر موجاں مسکراتے ہوئے کمرے سے برآمد ہوئے۔ وہ خود بھی بڑی موج میں نظر آ رہے تھے۔
"چلو بھائی چلو سب اپنا اپنا رستہ ناپو!!!! باقی ہم سنبھال لیں گے۔”باقی سب لوگوں کو رخصت کرنے کے بعد پیر موجاں والا بینش کے بھائی اور ماں باپ کو گھیرے میں لے کر کچھ بات کرنے لگے۔
:::::::::::::::::::

اگر پیر موجاں موج میں نہ آتے تو بینش کو ساری عمر آسیب زدہ زندگی گزارنی پڑتی اور کولہو کے بیل کی طرح وہ ذمہ داریاں بھی اٹھانی پڑتیں جو اس کے نازک کاندھے برداشت نہیں کر پارہے تھے۔ بینش اور دل نواز جدی پشتی دشمنی کی وجہ سے کبھی ایک نہ ہو پاتے۔
جانے کتنی ہی بینش نفسیات کے اس جن کی قید میں ہیں جن کے لیے پیر موجاں کی معاملہ فہمی کی ضرورت ہے۔

بینش اور دل نواز حجلہ عروسی میں بینش کی پرانی ذمہ داریوں کے جن کے رخصت ہونے اور اپنے ایک ہونے کا جشن منارہے تھے۔
” موجاں ہی موجاں۔۔۔۔۔۔۔”

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x