غزل
غزل | دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں | کومل جوئیہ

غزل
دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں
قبول ہُوں تو یہی بات تین بار کہیں
یہ کام ہم سے نہ ہو پائے گا کسی صورت
خزاں رسیدہ شجر کو بھی سایہ دار کہیں
جسے بھی دیکھیے ہنستا ہے رونے والوں پر
کوئی نہیں ہے یہاں جس کو غم گسار کہیں
ہمیں تو گھومتے رہنا تھا بس اسی کے گرد
وہ جا چکا ہے تو اب کس کو ہم مدار کہیں
کوئی ولی ہو تو انگلی اٹھائے ، بات بھی ہے
گناہ گار بھی مجھ کو گناہ گار کہیں ؟
ہزار اس کے مراسم نظر کے سامنے ہیں
بتائیں کس طرح اس کو وفا شعار کہیں
کبھی کبھی تو یہ دل چاہتا ہے بعدِ فراق
سسک کے شعر کہیں اور بے شمار کہیں




