میں نیا آدمی ہوں / رفیق سندیلوی
میں نیا آدمی ہوں
پڑھے تک نہیں جا رہے
یہ حروفِ تہجّی
یہ اصوات کا ایک جُھرمٹ
ستاروں کی صورت
مرے ذہن کے نیم تاریک گوشوں میں
جو گاہے گاہے چمکتا تھا
ہر سُو مہکتا تھا
پُھولوں کے قالب میں
سینے کے ننّھے سے صحرا میں
بکھری ہُوئی ریت
مُجھ کو رُلاتی تھی
چُھوٹے سے جُثّے کو
شب بھر
یہاں سے وہاں تک اُڑاتی تھی
جب صبح ہوتی تو
متروک شبدوں میں لوری سُناتی تھی
میرا پنگوڑہ جُھلاتی تھی
حرفوں کو مَیں ٹُکڑا ٹُکڑا
سماوی و ارضی کمانوں سے
جُڑتی ہُوئی قوس میں کھینچ کر
یُوں ملاتا تھا
جیسے زمیں اور زمانہ
مرے واسطے لب کُشا ہوں
فقط ایک ہی سال میں
ایسے لگتا تھا
جیسے مُجھے لفظ کو
اُس کی تجوید میں بولنے کا قرینہ
ازل ہی سے آتا تھا
القا تھے مُجھ پر لسانی قواعد
وہ مخصوص اعداد جو قُفلِ ابجد کے تھے
دال مدلول، سب
میری گُھٹّی میں تھے
سارے صرفی و نحوی علاقے
مری دست رَس میں تھے
بس میں تھے
سارے مَخارج
جو اسما کو
منقار دیتے
پرندوں کی چہکار دیتے
مظاہر کو، اشیا کو
اپنے حصارِ تفاہُم میں لاتے تھے
باطن کی انشا کو
اثبات و انکار کرنا سکھاتے تھے
باتیں تَوَلُّد کی
بچپن کے اُن ابتدائی دِنوں کی
مُجھے آج تک یاد ہیں
دودھ بہتا تھا میرے انگوٹھے سے
اور گوشۂ لب سے نکلی ہُوئی رال پر
شہد کی مکھّیاں بیٹھ جاتی تھیں
وہ میری ہکلاہٹیں
وہ مرا توتلا پن
وہ خُر خُر گلے کی
اٹکتے اٹکتے اَلِفبا کی منزل پہ
ناخواندگی، خواندگی کی جھجک میں
یقین اور شک میں
انوکھے دروس اور اسباق پڑھتا تھا
لحن اور لہجے کی بازآفرینی میں
چڑھتا تھا
زینے تعلّم کے لیٹے ہی لیٹے!
اُدھر دوسری سمت
ایک ایسی دُنیا تھی جس کی کہانی
بدیع و بیاں
لاحقوں، سابقوں
اور تضادو ترادف کے ہالوں سے
ظاہر کی چالوں سے
بالکل ورا تھی
کوئی کیمیا تھی
پُرانی نئی، سب کتابوں کی کُنجی
جو ورثے میں مُجھ کو ودیعت ہُوئی
بطنِ مادر کے
اک جینیاتی تلازم میں
دھاگوں سے سُرخ اور لَس دار ریشوں میں
لاکھوں جراثیم
پھیلے ہوئے سطر در سطر
خوابوں خیالوں کے ابہام میں
جیسے الہام میں
ایک تمثال بادل میں اُڑتی ہُوئی
رمز کی ایک دُہری گِرَہ
نیند میں بولتے کچھ علائم
چمکتے ہُوئے دُھوپ میں کچھ کنائے
مجاز اور تجنیس کی بوندا باندی
پہاڑی سے گرتی ہُوئی ایک تشبیہہ،
آفاق کی جالیوں سے مُجھے جھانکتے
سینکڑوں استعارے
معانی کے امکان میں
میری کلکاریوں
میری غُوں غُاں کی گردان میں
چُوڑیوں سے بھری
نرم بانہوں کی جانب ہُمکتی
سُبک چاندنی
اوس سے میرا دامن بھگوتی تھی
تتلی مرے گال پر
اپنا سَر رکھ کے سوتی تھی
کیسا تماشا تھا
ناٹک تھا صوت و صدا کا
جو اک روز مُجھ پر ہویدا ہُوا
سارا گھر میرا شیدا ہُوا
میری آواز نغمے میں ڈھلنے لگی
رُت بدلنے لگی
مَیں لڑکپن میں ہی شعر کہنے لگا
میرا دُکھ دو کناروں میں بہنے لگا!
دو کنارے تھے
پانی کے مُنہ زور دھارے تھے
جن میں سُلگتی ہُوئی ایک دُنیا تھی
کتنے سیاسی، سماجی مسائل تھے
گھائل تھے
صدیوں سے جتنے بھی شاعر
یہ نوحہ گری اور ہی طرز کی تھی
کبھی کوئی محفل میں کہتا
یہ مانا کہ اشعار میں
ایک باریک پردہ سا ہے
نور و ظلمت کا
وقت اور لا وقت کے ایسے اسرار ہیں
وہ سروکار ہیں
کہ جہاں جسم کی سرحدیں
موت اور وحشت کو باہم مِلاتی ہیں
مرکز کو اُس کی جڑوں سے ہِلاتی ہیں
یہ پیراڈائم کی شفٹنگ ہے
اس نظم میں
یہ سوال ایک مدّت سے دُہرایا جاتا رہا ہے
کہ یہ آدمی کون ہے؟
کن جہانوں میں رُوپوش ہے؟
خیمہ زن ہے کسی دشت میں
یا کسی غار میں بند ہے؟
جان لو غار میں یہ نہیں
غار اِس میں ہے
جس میں کئی آدمی
آفرینش کی پہلی ہی ساعت سے محصور ہیں
اور دہانے کے پتّھر کا قصّہ تو یہ ہے
کہ صدیوں سے اِس کے سرکنے پہ
نظریں زمانے کی مرکوز ہیں
اور حروفِ تہجّی جو اِس پر لکھے ہیں
پڑھے تک نہیں جا رہے
جو زُباں سال دوسال میں
میرے اندر اُگی تھی
اب اُس کی کسی شاخ پر ایک پتّا نہیں!
آندھیاں چل رہی ہیں
کئی صوتیے مُتّصادم ہیں
اک شور ہے
ایک تخریب ہے جس میں
ہر صوت کا نرخرہ
اک انگوٹھے کے نیچے ہے
روبوٹ سی آہنی انگلیوں نے مُجھے
کَس کے بالوں سے پکڑا ہے
جکڑا ہے
حنظل کی رسّی سے
ننّھی سی میری زُباں کو
خموشی کے کانٹے بدن میں کُھبے ہیں
فقط ریت ہی ریت بکھری ہے
تپتی ہُوئی ریت
جس کے مقدر میں ٹھنڈک کا جُھولا نہیں
کوئی لوری نہیں
ماں کی لوری بھی لفظوں سے محروم ہے
مَیں نیا آدمی ہُوں
یہی میرا مقسوم ہے!!




