اُردو ادبافسانہ

آخری خط / دل شاد نسیم

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ وقت کو روک لیا جائے، وہیں، اسی پل پر جب سب کچھ مکمل محسوس ہوتا ہے۔ لیکن وقت رکتا نہیں، اور محبت بھی ہمیشہ ساتھ نہیں رہتی۔ شاید یہی زندگی کا سب سے کڑوا سچ ہے۔

رات کے پچھلے پہر کی خاموشی میں جب سب کچھ سویا ہوا لگتا ہے، میں جاگتا ہوں۔ کمرے کی ٹمٹماتی روشنی اور ٹوٹے خوابوں کی خوشبو میرے اردگرد بکھری رہتی ہے۔ کھڑکی سے چاند کی مدھم کرنیں یوں اندر آتی ہیں، جیسے وہ بھی میرے درد کو محسوس رہی ہوں۔

میں اپنے ہاتھوں میں تمہارا آخری خط تھامے بیٹھا ہوں۔ وہ خط جو تم نے مجھے اجنبی لہجے میں لکھا ہے ، وہ لہجہ جو کبھی محبت سے بھرا رہتا تھا۔

"ہم شاید ایک دوسرے کے لیے بنے ہی نہیں تھے…”

یہ تمہارے آخری خط کی پہلی سطر تھی۔
یہ الفاظ جیسے میرے دل پر کسی نے لوہے کا ہتھوڑا مار دیا ہو۔ میں سوچتا رہا، کیا محبت واقعی اتنی آسانی سے ختم ہو جاتی ہے؟
کیا وہ شخص جو محبوب کو اپنی دنیا کہتا ہو ، ایک دن یوں اجنبی ہو سکتا ہے؟

مجھے یاد ہے وہ لمحہ جب تم نے پہلی بار میرا ہاتھ تھاما تھا۔ تمہاری آنکھوں میں ایک احساس تھا، ایک یقین کہ ہم کبھی جدا نہیں ہوں گے۔ تمہارے وہ وعدے آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔ مگر وعدے شاید پانی کے بلبلے ہوتے ہیں، خوبصورت مگر ناپائیدار۔ تم چلے گئے، اور اپنے ساتھ وہ سب خواب بھی لے گئے جو ہم نے ساتھ دیکھے تھے۔

اب جب میں آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں تو اپنی آنکھوں میں ایک اجنبی دکھائی دیتا ہے۔ وہ شخص جو کبھی محبت میں جیا کرتا تھا، اب ٹوٹے خوابوں اور بکھری یادوں کا بوجھ اٹھائے چل رہا ہے۔ میں نے خود سے سوال کیا: "کیا تم واقعی چلی گئی ہو؟ یا تم اب بھی میرے دل کے کسی گوشے میں زندہ ہو؟”

یادیں عجیب ہوتی ہیں، وہ چاہے کتنی بھی دردناک ہوں، انسان کو چھوڑتی نہیں۔ تمہاری مسکراہٹ، تمہاری آواز، وہ لمحے جب ہم ہنس ہنس کر تھک جاتے تھے، یہ سب میری روح میں نقش ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر وہ شام جب تم نے کہا تھا کہ محبت کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ ہمیشہ رہتی ہے۔ میں سوچتا ہوں، پھر تمہارے دل کی محبت کیسے ختم ہو گئی؟

کبھی کبھی راتوں میں ایسا لگتا ہے جیسے تم قریب بیٹھی ہو۔ میں اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ تمہاری سانسیں اب بھی میرے گرد ہیں۔ مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو حقیقت اپنی پوری شدت سے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے: تم جا چکی ہو، اور میں اس کمرے میں اکیلا ہوں۔

یہ اکیلا پن عجیب ہے۔ یہ صرف کمرے میں نہیں، یہ دل میں بھی ہے۔ لوگ کہتے ہیں وقت سب زخم بھر دیتا ہے، مگر یہ وقت تو میرے زخم اور گہرے کر رہا ہے۔ میں جتنا تمہیں بھلانے کی کوشش کرتا ہوں، تمہاری یادیں اتنی شدت سے لوٹ آتی ہیں۔ کبھی تمہاری ہنسی کا خیال آتا ہے تو دل بھر آتا ہے کہ وہ ہنسی اب کسی اور کی زندگی کا حصہ ہوگی۔

تمہارے خط کو جلانے کا کئی بار سوچا، مگر دل نہیں مانا۔ لگتا ہے اگر یہ خط جل گیا تو تمہاری یادوں کی آخری نشانی بھی ختم ہو جائے گی۔ اور میں ابھی تمہیں کھونے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ شاید میں کمزور ہوں، اور میں یہ بھی جان گیا ہوں کہ محبت انسان کو مضبوط نہیں بناتی، یہ تو انسان کو ٹوڑ کے رکھ دیتی ہے۔

آج بھی میں تمہارے خط کے الفاظ پڑھتا ہوں اور ہر لفظ میرے دل پر زخم بن جاتا ہے۔ تم نے لکھا تھا، "ہم شاید ایک دوسرے کے لیے بنے ہی نہیں تھے۔”

میں سوچتا ہوں، اگر ہم ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے تھے تو پھر وہ سب کیا تھا جو ہم نے ساتھ جیا؟ وہ وعدے، وہ خواب، وہ سب باتیں کیا جھوٹ تھیں؟ یا محبت کبھی سچی نہیں ہوتی؟

رات گہری ہو رہی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ نیند پھر نہیں آئے گی۔ میں چپ چاپ کمرے میں بیٹھا رہوں گا، تمہیں یاد کروں گا اور اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسو پونچھتا رہوں گا۔ اور شاید کل صبح، پھر میں وہی پرانا چہرہ لگا کر لوگوں کے درمیان جاؤں گا جیسے سب کچھ ٹھیک ہے۔ مگر اندر سے میں جانتا ہوں کہ میں اب کبھی مکمل نہیں ہو سکوں گا۔

یہ افسانہ یہاں ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہر دن میرے اندر زندہ رہتا ہے۔ تم جا چکی ہو، مگر تمہاری یادیں میرے ساتھ ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ایک دن یہ یادیں بھی دھندلا جائیں گی، مگر آج وہ اتنی تیز ہیں کہ سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔

محبت کا سب سے بڑا درد یہ نہیں کہ تمہارا محبوب تمہیں چھوڑ جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کسی اور کی زندگی کا خواب بن جائے۔ اور ہماری آنکھ کھل چکی ہو ۔

تمہارے چلے جانے کے بعد یہ حقیقت مجھ پر کھلی کہ
بے وفائی صرف کسی کو کھونے کا نام نہیں، بلکہ خود اپنے آپ کو کھو دینے کا آغاز بھی ہے

دلشاد نسیم

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x