تبصرہ کتب

برقاب کا مہابیانیہ | تجزیہ نگار : عثمان حالم

برقاب کا مہابیانیہ | عثمان حالم

مہا بیانیہ ترتیب پا رہا ہے کوئی

حروف آگ کی لپٹیں پہن کے نکلے ہیں

عقیل عباس 

برقاب برق اور آب کا مرکب ہے۔ اور اگر یہ دونوں یکجا ہو جائیں تو وہ آتشیں سیال بنتا ہے، جو انسانی ذہن کو مسرور(مدہوش) کر دیتا ہے۔ اس لحاظ سے برقاب اسم بامسمٰی ہے کہ اسکی شاعری قاری کو مسرور کر دیتی ہے۔ لیکن برقاب کی شاعری نے مجھے مسرور ہی نہیں مسحور بھی کیا ہے۔ اس وجہ سے میں الجھن میں ہوں کہ عقیل عباس کو شاعر کہوں یا ساحر۔ اس کے اشعار میں منتروں جیسی طاقت ہے۔ جو مجھ جیسے تاریخ کے طالب علم کو زمان و مکان کے سرحدیں عبور کرا دیتی ہے ۔ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے لگا کہ میں برقاب کے اشعار کے ساتھ time travel کر رہا ہوں ۔چلیے آپ کو عقیل عباس کی شاعری سے major divisions of time کی سیر کراؤں۔

 پتھر کا زمانہ

(Stone Age, Prehistoric Period)

پتھر کا زمانہ انسانی تاریخ کا سب سے اولین دور ہے، جب انسان غاروں میں رہتا تھا۔ تنہائی اور خوف وہ دو مسائل تھے جن کی وجہ سے تہذیب و تمدن اور انسانی سماج کی ارتقا کا آغاز ہوا۔ یہ عقیل عباس کا تخیل اور شاندار قوتِ ابلاغ ہے جو 2025 میں بھی prehistoric period سے جوڑ دیتی ہے۔ دیکھیے کیسی شعریت سے بھرپور منظر کشی ہے:

غار تھا غار کی تنہائی تھی آگے میں تھا

دفعتاً آگ سی لہرائی تھی آگے میں تھا

غار کے منہ پہ کوئی دیو نہ ہو

اور اگر ہو تو نگل جائے مجھے

 

زمانہء قدیم

(Ancient Time Period)

مورخین کے مطابق Ancient Time Period 

تقریباً 3000 قبل مسیح سے 476 عیسوی تک ہے۔ اس دور میں پہلی بار بڑی سلطنتیں اور شہر وجود میں آئے جیسے بابل و نینوا، مصر، ہڑپہ اور روم… ان شہروں کے معابد اور گنبد فنِ تعمیر اور مذہبی زندگی کی علامت تھے۔ عقیل عباس ان مناظر کو اپنی غزلوں میں ڈھال کر قاری کو قدیم دنیا کی سیڑھیوں پر کھڑا کر دیتا ہے: 

پھر ایک دن مجھے معبد کی سیڑھیوں پہ ملا

وہ اولین فرشتہ جو مارا جانا تھا

اس کی شاعری کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ اس سے ہر کوئی لطف لے سکتا ہے، مگر اہل علم اس سے خصوصی حظ اٹھاتے ہیں۔ اس کے اشعار میں معنی کی لاجواب وسعت ہے ،اس شعر کا کینوس دیکھیے 

میں ایک شہر بدن کی تلاش میں تھا مجھے

دکھائی دے گئے گنبد قبا کے بھیتر بھی

یہ شعر عام قاری کو بھی لطف دیتا ہے، مگر Rome کے مسافر اور Pantheon اور Basilica کے سیاح ہی اس شعر کا حقیقی لطف محسوس کر سکتے ہیں ۔ اسکی شاعری میں رومی تہذیب سماجیات اور رسومات کا ذکر بھی ملتا ہے:

لعل ماؤں کے باندھ کر مشکیں

گھوڑیوں پر لدائے جاتے ہیں (Hippolytus)

تو کیا ہوا کہ دیو سے مشکل ہے معرکہ

جاں بچ گئی تو شہر میں شہزادیاں بہت

زین پر خون تھا، گھوڑے پہ کوئی تھا بھی نہیں

کھول کر آ گئے مہمان سرا جو بھی تھا

 قرونِ وسطیٰ

(Medieval Time Period)

476 عیسوی کے بعد روم کی مغربی سلطنت کے زوال کے ساتھ قرونِ وسطیٰ کا آغاز ہوا۔ یہ دور جاگیرداری نظام، صلیبی جنگوں، اسلامی خلافت کی وسعت اور تاتاری یلغار کے حوالے سے مشہور ہے۔ عقیل عباس کے اشعار میں اس عہد کی تذکرہ بھی ملتا ہے ہے:

ڈٹے ہیں دیوتا اپنی رتھوں کے اندر بھی

رچا لیا گیا سنجوگتا سوئمبر بھی (پرتھوی راج) 

تیری بغداد نگاہی تجھے غارت نہ کرے

تیرا ٹھکرایا ہوا، لشکر تاتار میں ہے (سقوط بغداد) 

حرم سراؤں کے خواجہ سرا لپکتے تھے 

نگاہ و آہ کے اسباب دیکھنے کے لیے (مغلوں کے محلات میں خواجہ سرا محافظ) 

 دورِ حاضر

(Contemporary Era)

دورِ حاضر میں انسان کے مسائل نئی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اب غار یا قلعے نہیں بلکہ سماجی رشتے، معاشی کشمکش اور بدلتی ہوئی قدریں ہماری زندگی کا موضوع ہیں۔ عقیل عباس ان تضادات کا بغور مشاہدہ کرتا ہے اور اسے اپنے منفرد زاویے سے بیان کرتا ہے 

اسی ٹیبل پہ جہاں بیٹھ کے کھاتے تھے کبھی

تو کسی اور کے ساتھ آئی تھی آگے میں تھا

شاید کہیں وہ شام کی پریوں کا غول ہو

تیار ہو کے باغ میں جاتے ہیں بھاگنے

زمین کا نرخ یک دم بڑھ گیا ہے

تو کیا گاؤں ترقی کر رہا ہے

عقیل عباس نے معاصر شاعری سے ہٹ کر اپنے وسیع مطالعہ، عمیق مشاہدہ اور مضبوط تخیل کے سبب برقاب میں ایک منفرد شعری فضا تشکیل دی ہے، جو مشرقی تہذیب کی رعنائیوں اور اساطیری رنگ سے مزین ہے۔ اُس نے مختلف صنائع و بدائع، منفرد علامات اور کنایہ جات کے ذریعے اپنا الگ اسلوب وضع کیا ہے، جو تجریدی آرٹ کی تخلیقیت اور منظر کشی کے لوازمات سے آراستہ ہے۔

تہذیب کا نور

برقاب کی غزلیات شاعر کی مشرقی تہذیب سے محبت اور اپنی مٹی سے جڑت کا ثبوت ہیں، وہ اپنے خیالات کا ابلاغ بھی اپنی تہذیب کے تناظر میں کرتا ہے، اور اسکے شعر کہنے کا یہ منفرد زاویہ مجھے بہت بھاتا ہے

چاند کا سوت کَتا، نور کی تہذیب ہوئی

بڑی اماں نے پڑی رات کا دھن کات لیا

رات بھر گونجتی ہے بستی میں

دولے ترکھان کی خراس میں وہ

وقت کولہو ہے اور ہم سب بیل

منفرد ہے نظام تیلی کا

اساطیر کے رنگ

اساطیر قدیم قصے، کہانیاں اور عقائد پر مشتمل ہیں جو بظاہر تخیلاتی معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں تہذیب و فکر کی بنیادیں اور علامات چھپی ہوتی ہیں۔ بعض اساطیر ممکن ہے حقیقت سے جڑے ہوں، لیکن زیادہ تر انسان کی تخلیقی روایت اور اجتماعی لاشعور کا حصہ ہیں۔

عقیل عباس کی شاعری میں یہ اساطیری رنگ نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ اس کے ہاں قدیم ہندی اور یونانی اساطیر سے منسلک اشعار بھی ملتے ہیں اور اسلامی روایات و قصائص کا تاثر بھی موجود ہے۔ یہ تنوع اس کے مطالعہ کی وسعت اور اس کے فکری کینوس کی گہرائی کی بیان کرتا ہے۔

مثال کے طور پر:

سپہ گری کا ہنر بھی، سخن وری بھی ہو 

 میں چاہتا ہوں کہ لشکر بھی ہو پری بھی ہو

یہاں شاعر نے یونانی اساطیر کے جنگ کے دیوتا ایریس (Ares) اور محبت کی دیوی ایفروڈائٹی (Aphrodite) کے استعارے کو سلیقے سے برتا ہے۔

حوا سے بھی پہلے میری دمساز تھی کوئی 

 اک دن مرا اپمان کیا اور چلی وہ

یہ شعر براہِ راست یہودی و اسلامی روایات میں موجود لیلِتھ (Lilith) کی اساطیر سے جڑا ہے، جو حوا سے پہلے آدم کی ساتھی سمجھی جاتی ہے۔

پہاڑوں میں بڑی عزت تھی میری 

 ترے تختے کی سل ہونے سے پہلے

یہ شعر تہذیبی ارتقا کی کہانی سناتا ہے۔ یونانی اساطیر میں پہاڑ قدیم تقدس اور فطرت کی عظمت کی علامت ہیں، جبکہ "تختے کی سل” انسانی ایجاد و تمدن کی نئی طاقت کی علامت ہے۔ 

اسی طرح :

زمانہ کاکلِ خیبر ہے اور اس کے لیے 

جمالِ کار وہی ہے جو حیدری بھی ہو

یہاں شاعر نے اسلامی روایت اور تاریخ کے ایک عظیم استعارے، یعنی خیبر اور حیدر کرّارؓ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ شعر نہ صرف تلمیح کی صناعی ہے بلکہ ہر دور میں عزم و شجاعت کی علمبردار بھی ہے۔

عقیل عباس کی یہ شعری صناعی قابلِ رشک ہے کہ وہ چاہے اساطیری مزاج کا شعر کہے یا صنعتِ تلمیح استعمال کرے، وہ اپنے شعر کے کینوس کو محدود نہیں ہونے دیتا۔ ان کی شاعری میں اساطیر محض قصے نہیں بلکہ انسانی تاریخ، اجتماعی شعور اور تہذیبی معنویت کی علامت بن کر سامنے آتی ہیں۔

منظر کی نگارش

برقاب کی غزلیات میں منظر کشی اس قدر جاندار ہے کہ میں شاعر کے فنِ مصوری کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ مناظر صرف روزمرہ زندگی ہی سے نہیں، بلکہ مختلف کہانیوں اور فلمی حوالوں کا پس منظر بھی رکھتے ہیں، شعر دیکھیے

اس نے عجلت میں غلط سل پہ قدم رکھا تھا

پیچ کھاتے ہوئے زینوں نے اسے گھیر لیا

شاہ زادی نے قبا پھاڑ کے رسی بٹ لی

دیو مینار کے چھجے سے کہاں واقف تھا

ایسے اشعار برقاب کی شاعری کو محض غزل کی روایت تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ اسے ایک بصری اور داستانوی تجربہ بنا دیتے ہیں۔

تجریدی آرٹ اور تخیلاتی مناظر

تجریدی آرٹ دراصل تخیل اور تخلیق کے امتزاج سے جنم لیتا ہے۔ اس میں حقیقت سے زیادہ جمالیاتی اور تخلیقی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ اردو شاعری میں بھی یہ رجحان پایا جاتا ہے، جہاں شاعر براہِ راست مناظر بیان کرنے کے بجائے اپنی کیفیات اور جذبات کو علامتوں اور تجریدی صورتوں میں پیش کرتا ہے۔عقیل عباس نے اپنی شاعری میں تجریدی آرٹ کے اس انداز میں طبع آزمائی کی ہے اور ایسے اشعار کہے ہیں جن میں مضبوط تخیل اور تخلیقی وفور جھلکتا ہے۔ مثال کے طور پر :

خواہش نے ہاتھ پاؤں نکالے ہیں پیٹ سے

اگنے لگے ہیں بال دل نونہال کے

چھت سے اتر کے بھاگ گئی چیخ صحن میں

کرسی پہ پاؤں رہ گیا اور چاپ میز پر

دائرہ دائرے کو چھوتا ہوا

اور قوسین پر حجاب اس کا

یہاں زبان کے ذریعے ایک بصری تجرید تخلیق ہوئی ہے جو بالکل کسی Abstract Painting کی مانند قاری کے ذہن میں ابھرتی ہے۔

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x