والدین کی عظمت و اہمیت/ توقیر احمد

انسان کا پہلا اور سب سے اہم رشتہ اُس کے والدین سے ہوتا ہے۔ یہ فقط ایک خاندانی تعلق نہیں بلکہ فطرت کی عطا کردہ سب سے محفوظ پناہ گاہ ہے، جہاں محبت، قربانی، ہدایت اور استحکام کی بنیادیں ملتی ہیں۔ بچپن کی بے بسی، ماں کے دودھ سے آغاز، باپ کی محنت سے پرورش، یہی وہ اجزاء ہیں جو ایک فرد کی شخصیت کو مکمل کرتے ہیں۔ مگر آج کل، جب نوجوان تیزی سے بگڑتی دنیا میں زندگی کی دوڑ میں مصروف ہیں، اس حقیقت کو وہ کم قبول کرتے ہیں، جس کی وجہ معاشرتی دائرۂ اثر اور ٹیکنالوجی کا بے جا استعمال ہے۔
قرآنِ حکیم میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں والدین کے حقوق کے حوالے سے واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔
سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 میں ارشاد ہوتا ہے:
"اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔ اگر اُن میں سے ایک یا دونوں بوڑھے ہو جائیں، تو انہیں تکلیف نہ دو، اور اُف تک نہ کہو، بلکہ ادب اور عزت سے بات کرو”۔
احادیثِ نبوی ﷺ :
"والد کی رضا میں اللہ کی رضا ہے، اور والد کی ناراضی میں اللہ کی ناراضی ہے”
(جامع الترمذی، 1899 – درجہ حدیث: حسن)
"جنت ماں کے قدموں تلے ہے”
یہ حدیث حضرت معاویہ بن جاہمہ کے روایت کردہ سنن نسائی (3104) میں ہے
"تمہارا والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو اُس دروازے کو بچاؤ۔”
(جامع الترمذی، 1900؛ حدیث: حسن)
” والدین کی نافرمانی سب سے بڑے گناہ ہیں (شرک کے بعد)”
(جامع الترمذی، 1901)
ان احادیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ والدین کی خوشنودی اللہ کی خوشنودی میں شامل ہے، ماں کو خوش رکھنے کی تاکید ہے، اور باپ کو جنت کے دروازے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ میں والدین کی شان:
اسلامی تاریخ میں صحابۂ کرام کی زندگی میں والدین کی خدمت کی بے شمار روشن مثالیں ملتی ہیں
حضرت اویس قرنیؒ وہ ہستی ہیں جو اپنی بوڑھی ماں کی خدمت کے سبب زیارت رسول کا شرف حاصل نہ کر سکے۔ حضور ﷺ نے ماں کی خدمت کے سبب انہیں بلند مقام عطا کیا، فرمایا اگر وہ تمہارے درمیان ہوں تو ان سے اپنی مغفرت کی دعا کروانا۔ ان کی قربانی اس بات کی دلیل ہے کہ والدین کی خدمت کی اسلام میں کس قدر اہمیت ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ اپنی والدہ کی رضامندی کے لیے ساری عمر دعاگو رہے۔ جب والدہ ایمان لائیں تو انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، جو ان کی محبت اور خدمت کی گواہی ہے۔
نفسیاتی اور معاشرتی پہلو:
نفسیات کے مطابق، بچپن میں ملنے والی والدین کی محبت اور حفاظت بچے کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہے۔ ماں،باپ کی محبت سے بے نیاز بچہ اپنی شناخت، اعتماد اور اخلاقیات میں خود کو مضبوط پاتا ہے۔ اس طرح وہ معاشرے میں ایک ذمہ دار، بردبار اور مثبت سوچ کا حامل انسان بن کر ابھرتا ہے۔
جدید دور میں مسائل اور والدین کی نسبت:
آج کے دور میں والدین اور اولاد کے تعلق میں کچھ اہم مسائل نظر آتے ہیں
مصروف زندگی:
افرا تفری کے اس دور میں لوگ اپنے کاموں میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ والدین کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کا تسلط:
موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال والدین کو نظر انداز کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ نوجوان اپنے مسائل اور پریشانیوں کے حل کے لئے اوالدین سے مشورہ کرنے کے بجائے انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔
یہ رویے اسلامی اور انسانی اقدار سے میل نہیں رکھتے۔ اسلام میں والدین کی خدمت، ان سے نصیحت و ہمدردی میں شرکت، اور ان کے تجربات سے فکری فائدہ اٹھانے کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
والدین کی خدمت کے روحانی اور عملی فوائد:
دنیوی برکت:
والدین کی خوشی سے اللہ کی خوشی ہے، اور ان کی نافرمانی سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔
آخرت میں کامیابی:
جنت ماں کے قدموں میں اور باپ کی خشنودی میں ہے، لہذا والدین کے ساتھ نیکی کرنا جنت کا ذریعہ بنتا ہے۔
روحانی دعائیں:
والدین کی دعائیں بہت اثر رکھتی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ والد کی دعائیں بیٹے کے لیے قبولیت کی ضمانت ہیں ۔
عملی مشورے:
ادب و محبت سے بات کریں:
گفتگو میں شائستگی اور احترام برقرار رکھیں، ‘اُف’ کا استعمال نہ کریں۔
معمولی خدمات:
اپنی حیثیت کے مطابق اچھا کھانا کھلائیں، بیمار ہیں تو وقت پر دوا دیں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔
صدقہ جاریہ کریں:
اگر والدین دنیا سے رخصت ہو گئے ہوں، تو ان کی مغفرت کے لئے دعا کریں اور صدقہ جاریہ کا اہتمام کریں۔
دعائیں حاصل کریں:
اہم مراحل پر، جیسے امتحان، شادی، سفر، یا کوئ بھی اہم کام شروع کرنے سے پہلے والدین سے دعائیں ضرور لیں۔
نتیجہ:
والدین کی خدمت، محبت اور خلوص کے ساتھ برتاؤ، نہ صرف اسلامی تناظر میں بلکہ انسانی اقدار میں بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن و حدیث، صحابۂ کرام کی زندگی، اور ماہرین نفسیات کے مطالعے یہ واضح کرتے ہیں کہ محبت و خدمت کا تناسب انسان کو مضبوط بناتا ہے، معاشرے میں ایک موثر شخصیت بناتا ہے، اور دنیوی و اخروی درجات کو بلند کرتا ہے۔
آج کی زندگی کے جھنجھٹوں اور مصروفیات میں اگر والدین کی خدمت کو اپنی ترجیح بنا لیا جائے، تو یقین کریں اللہ کی طرف سے نیکیوں، رحمتوں اور برکتوں کی بارش شروع ہو جائے گی۔
والدین کی خوشنودی اللہ کی خوشنودی بنے گی، ان کی دعائیں تقدیر کی راہیں کھولیں گی، اور وہ سایہ، جو ہر مشکل میں سکون کا باعث بنا، ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔۔




