غزل
غزل|اچھا ہوں، یا خراب؟ مرے ساتھ چل کے دیکھ|ذوالفقار ذکی

غزل
اچھا ہوں، یا خراب؟ مرے ساتھ چل کے دیکھ
مل جائے گا جواب ، مرے ساتھ چل کے دیکھ
کب کون کس مقام پہ تجھ سے بچھڑ گیا ۔ ۔ ۔
اب چھوڑ یہ حساب ، مرے ساتھ چل کے دیکھ
تاروں کی بزم میں ترے چرچے ہیں کس قدر
آ رشکِ ماہتاب ، مرے ساتھ چل کے دیکھ
کس واسطے یہ بے رخی؟ کیسا یہ احتراز ؟
مت کر یوں اجتناب، مرے ساتھ چل کے دیکھ
کرتے ہیں کیسے تبصرے تجھ پر چمن کے پھول
اک روز اے گلاب ، مرے ساتھ چل کے دیکھ
اے یار زندگی میں یوں بھٹکے گا کب تلک؟
کر میرا انتخاب ، مرے ساتھ چل کے دیکھ
صحرا ترے ظہور کا ، کب سے ہے منتظر
اک بار اے سحاب !! مرے ساتھ چل کے دیکھ
چل چھوڑ اب یہ وسوسے ، کر ختم بے دلی
اے حسنِ لاجواب ! مرے ساتھ چل کے دیکھ
تیری تمام مشکلوں کا حل ہے ، یہ ذکی !!
ٹل جائیں گے عذاب ، مرے ساتھ چل کے دیکھ




