
ارشد عرف ارشی کم عمر بچہ تھا ۔ اس کی دو چھوٹی جڑواں بہنیں بھی تھیں ۔ جن کی شکلیں ایک جیسی تھیں وہ ان سے بہت پیار کرتا تھا۔ بعض اوقات ارشی کے ماما پاپا بھی ان دونوں بچیوں کی الگ الگ شناخت نہ کر پاتے لیکن ارشی ان دونوں کو ہمیشہ ان کے نام بتا کر الگ الگ پہچان لیتا۔ اس کے والدین اس بات پر ہمیشہ حیران ہوتے اور وہ اس سے پوچھتے کہ آپ ان دونوں کو کیسے پہچان لیتے ہوں ؟
لیکن ارشی عمر میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھا نہیں پاتا کہ وہ ان کو کیسے پہچان لیتا ہے۔ وہ دونوں لڑکیاں جن کے نام علیزے اور شانزے ہیں ، وہ اپنے ماں باپ سے زیادہ ارشی سے مانوس تھیں۔ وہ اسے دیکھ کر خوشی سے اپنے ہاتھ پاؤں ہلاتیں اور منہ سے قلقاریاں نکالتیں۔ ان کی آنکھوں میں ارشی کو دیکھ کر ایک خاص چمک پیدا ہو جاتی۔
ارشی اپنے ماما پاپا سے پوچھتا کہ یہ دونوں ہم سب کی طرح باتیں کیوں نہیں کرتیں تو وہ ہنس کر کہتے کہ جب آپ اس عمر میں تھے تو تب آپ بھی نہیں بولتے تھے۔ وہ ان سے پوچھتا کہ یہ دونوں ایک ساتھ آئی ہیں تو میں اکیلا کیوں آیا تھا۔ اس پر وہ دونوں خوب ہنستے ۔ ایک دن ارشی کی ماما نے کہ دیا کہ آپ نے اپنے دوسرے بھائی سے لڑائی کر لی تھی اس لیے وہ ناراض ہو کر آپ کے ساتھ ہماری دنیا میں نہیں آیا ۔
اس پر وہ حیران ہو کر کہتا کہ میں نے اس سے کیوں لڑائی کی اور اگر کی بھی، تو مجھے یاد کیوں نہیں ۔ اس کے معصومانہ سوالات سن کر اس کے والدین بہت محظوظ ہوتے۔ وہ اس سے اکثر پوچھتے کہ آپ اپنی دونوں بہنوں سے بہت زیادہ پیار کرتے ہو۔ اتنا کہ ہم سے بھی بہت، بہت زیادہ۔ ایسا کیوں ؟
ارشی کم عمر ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھا نہیں پاتا لیکن وہ خود اس بات کو سمجھتا تھا۔
جب اس نے اسکول جانا شروع کیا تو اسے ابتدا میں عجیب لگتا کہ اس کے والدین اسے اچھی طرح سونے کیوں نہیں دیتے۔ وہ بڑی مشکل سے اپنی آنکھیں کھولتا اور پھر منہ ہاتھ دھو کر یونیفارم پہنتا۔ ناشتہ کرتا ، دودھ کا کپ پیتا اور اپنا لنچ بکس لے کر اپنے اسکول بیگ میں بنے ایک مخصوص حصے میں رکھتا۔
اس کی اسکول وین صبح ٹھیک ساڑھے سات بجے اسے لینے آتی ۔ وہ اپنی عمر کے بہت سے لڑکے اور لڑکیاں دیکھ کر حیران ہوتا۔ اس کے ذہن میں بہت سے سوال اٹھتے۔ خاص طور پر جب وہ اسکول وین میں سوار ہونے والی دو بہنوں کو دیکھتا کہ ان کی شکلیں ایک جیسی نہیں ہیں ۔ اسے ان کو دیکھ کر بالکل ویسی محبت کا احساس نہیں ہوتا جو اسے علیزے اور شانزے کو دیکھ کر محسوس ہوتی۔
اسکول وین کا ڈرائیور اسے ہمیشہ ارشد کہ کر بلاتا۔ اس وجہ سے دو ، تین دن اسے جواب دینے میں دقت پیش آئی کیونکہ اسے لگتا کہ اس صرف ارشی کہ کر بلانا چاہیے۔ جب اسکول کی کلاس میں پہلے دن ٹیچر نے سب بچوں کے نام پوچھے تو کئی بچوں کی طرح اس نے بھی اپنا نک نیم "ارشی ” بتایا ۔ ٹیچر نے ہنس کر اسے بھی دوسرے بچوں کی طرح کہا کہ یہ تو آپ کو پیار سے کہتے ہوں گے تو آپ کا اصل نام کیا ہے ؟
اس نے اپنا اصل نام ارشد بتاتے ہوئے سوچا کہ اچھا ٹیچر اور اسکول وین کے ڈرائیور انکل اسے پیار نہیں کرتے ۔ اسی لیے وہ اسے پیار والے نام کے بجائے ارشد کہ کر بلاتے ہیں۔ اس نے سوچا کہ ابھی تک اس کے والدین نے علیزے اور شانزے کا پیار والا کوئی نام کیوں نہیں رکھا ۔ تو کیا اس کے والدین اس کی بہنوں سے پیار نہیں کرتے !
اس نے اسکول وین سے گھر واپس جاتے ہوئے راستے بھر یہی سوچا کہ وہ تو اپنی دونوں بہنوں سے بہت پیار کرتا ہے اس لیے وہ اب ان کو پیار والے ناموں سے بلایا کرے گا۔ لیکن وہ کم عمر تھا تو وہ ان کے پیار والے نام سوچ نہیں پا رہا تھا۔
گھر واپس پہنچ کر اس نے اپنی ماما کو اسکول کی باتیں بتانا شروع کی۔ باتوں باتوں میں اس نے یہ بھی بتایا کہ ٹیچر اور اسکول وین کے ڈرائیور انکل اسے پیار نہیں کرتے۔ اس پر اس کی ماما نے کچھ حیران ہوتے ہوئے کہا تم نے ایک ہی دن میں اس بات کا اندازہ کیسے لگا لیا۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ وہ مجھے ارشد کہ کر بلاتے ہیں۔ اگر وہ مجھ سے پیار کرتے تو وہ مجھے ارشی کہ کر بلاتے ۔ اس پر اس کی ماما نے بھر پور قہقہہ لگایا اور کہنے لگی کہ آپ کیا کیا باتیں سوچتے ہیں۔
ارشی نے اپنی ماما سے کہا کہ ایک بات تو بتائیں کہ کیا آپ اور پاپا علیزے اور شانزے سے پیار نہیں کرتے ؟
جس پر اس کی ماما نے فکر مند ہو کر اس کی طرف دیکھا اور محبت بھرے لہجے میں پوچھا کہ آپ کو ایسا کیوں لگا ۔۔۔۔
اس پر وہ کہنے لگا کہ آپ اور پاپا علیزے اور شانزے کو پیار والے نام سے کیوں نہیں بلاتے جیسا مجھے آواز دیتے ہیں کہ ارشی ، ارشی بیٹا۔۔۔ بات سنو ۔۔۔۔
اس نے آواز نکال کر انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ اسے اپنی بات کو سمجھانا آنا چاہیے۔
شام جب ارشی کے پاپا گھر آئے تو اس کی ماما نے اسے پوری روداد سنا ڈالی۔ اس پر وہ دونوں ہنسے بھی اور اس بات پر خوشگوار حیرت کا اظہار بھی کیا کہ ارشی اتنی چھوٹی عمر میں کتنا سمجھدار ہے۔ انہوں نے ارشی کو بلایا اور ان تینوں نے مل کر علیزے اور شانزے کے نک نیم تجویز کیے۔ اب وہ سب پیار سے علیزے کو ” ایلا ” اور شانزے کو ” شیزا ” کہ کر بلانے لگے۔
ارشی کو شروع شروع میں لگا کہ اس کی بہنوں کو اپنے نک نیم اچھے نہیں لگے کیونکہ وہ جب انہیں اس نام سے بلاتا تو وہ کوئی خاص حرکت نہ کرتیں لیکن جب وہ ان کو ان کے اصل نام سے پکارتا تو وہ خوشی کا اظہار کرنے لگتیں ۔ اس نے اپنی ماما کو بتایا کہ ان کے نام تبدیل کرنے چاہیے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ انہیں اپنے نک نیم پسند نہیں آئے ۔
اس پر اس کی ماما نے اسے سمجھایا کہ دیکھو ارشی انہیں اپنے نک نیم سننے کی عادت نہیں۔ آپ انہیں اس نام سے پکارتے رہو تو جلد وہ ایلا اور شیزا کے نام سے مانوس ہو جائے گی تو پھر اسی طرح خوش ہوں گی جیسے وہ اپنے اصل نام پکارے جانے پر ہوتی ہیں۔
ارشی کو اسکول جاتے ہوئے ایک سال پورا ہو گیا تھا۔ اس کی دونوں جڑواں بہنیں بھی بڑی ہو رہی تھی۔ اب انہوں نے کرولنگ شروع کر دی تھی۔ وہ سہارا لے کر کھڑی ہونا شروع ہو گئیں اور ہلکے ہلکے چلنا بھی شروع کر دیا تھا۔ اب وہ ایلا اور شیزا پکارے جانے پر پرجوش ہوتیں۔ وہ اپنی خوشی کا اظہار تالیاں بجا بجا کر کرتیں۔
وہ توتلی زبان میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ بولنا شروع ہو گئی تھیں۔ اب بھی گھر میں ارشی ہی تھا جو انہیں ان کے نام سے الگ الگ شناخت کر لیتا تھا۔ جب کہ اس کے ماما پاپا اب بھی اس مخمصے میں رہتے کہ ان میں ایلا کون ہے اور شیزا کون ؟
ارشی اکثر سوچتا کہ اب اس کے ماما پاپا کیوں نہیں پوچھتے کہ وہ ان کو کیسے الگ الگ پہچان لیتا ہے۔ اسکول کا دوسرا سال مکمل ہونے پر اس کی دونوں بہنوں نے اب باتیں کرنا شروع کر دی تھیں۔ وہ اسکول سے آکر ان کے ساتھ کھیلتا اور ان دونوں کو پیار کرتا ۔ اس کی ماما شام کو اپنے شوہر کو بتاتی کہ ارشی اچھی طرح اپنی دونوں بہنوں کا خیال رکھتا ہے۔ یہ بڑا ہو کر بہت اچھا اور خیال رکھنے والا بھائی بنے گا۔
ارشی دو باتیں بہت زیادہ محسوس کرتا تھا ۔ ایک تو یہ کہ اسے صبح اپنی بہنوں کو چھوڑ کر اسکول جانا ہوتا تو اس وقت وہ بہت اداس ہو جاتا اور دوسرا وہ اپنے اس بھائی کے بارے میں سوچتا جو اس سے ناراض ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ماما پاپا کے گھر نہیں آیا اور وہ اکیلا رہ گیا تھا۔
ایک دن ایلا اور شیزا دونوں سو رہی تھیں ۔ ان کی ماما بھی آج جلدی سونے کمرے میں چلی گئی تھی۔ ارشی کے پاپا جاگ رہے تھے۔ ارشی نے اس دن اپنے پاپا کو کہا کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میری ٹیچرز مجھے گھر میں پڑھانے آ جایا کریں ؟
اس پر اس کے پاپا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کو اسکول جانے میں کوئی مسئلہ ہے ؟
اس پر ارشی کہنے لگا کہ نہیں پاپا ۔ بس میرا دل نہیں چاہتا کہ میں ایلا اور شیزا کا چھوڑ کر اسکول جاؤں ۔
اس پر اس کے پاپا کہنے لگے کہ ارشی ایک سال کی تو بات ہے پھر ایلا اور شیزا بھی آپ کے ساتھ اسکول جانا شروع ہو جائے گی۔
یہ بات سن کر ارشی مطمئن سا ہو گیا۔ اس نے اپنے پاپا سے پوچھا کہ یہ ایک سال کتنا زیادہ ہوتا ہے ؟
اس پر وہ کہنے لگا کہ جب تم اگلی کلاس میں آ جاؤ گے تو پھر سال پورا ہو جائے گا۔
اسے کچھ زیادہ سمجھ تو نہیں آئی ۔ وہ بس اتنا سمجھ پایا کہ جیسے فائنل پیپرز کے بعد وہ پروموٹ ہو کر نئی کلاس میں گیا تھا اسی طرح جب دوبارہ وہ نئی کلاس میں جائے گا تو پھر ایلا اور شیزا اس کے ساتھ اسکول جایا کرے گی۔ اسے یہ سوچ کر بہت اچھا لگا اور اس نے سوچا کہ وہ جلد اپنی ٹیچر کو کہ کر ایگزامز دے کر اپنی کلاس تبدیل کر لے گا تاکہ سال جلدی مکمل ہو جائے اور اس کی بہنیں اس کے ساتھ اسکول آنے جانے لگ جائیں۔
لیکن جب اس نے اپنی ٹیچر سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے پیار سے پوچھا کہ کیا آپ مجھ سے خوش نہیں ہیں ؟
تو اس پر ارشی نے کہا کہ نہیں ٹیچر آپ تو بہت اچھی ہیں اور پھر اس نے معصوم لہجے میں نئی کلاس میں جانے کی غرض و غایت سے انہیں آگاہ کر دیا۔
اس کی ٹیچر نے اس کے گال پر پیار سے چٹکی کاٹی اور کہنے لگی کہ ارشی آنے والے دن کو کیا کہتے ہیں تو اس نے جھٹ سے جواب دیا کہ ” ٹو مارو ".
اس پر ٹیچر نے اسے بتایا کہ ایسے تین سو ” ٹو ماروز” آئے گے تو پھر یہ سال مکمل ہو گا اور پھر آپ ایگزامز میں اچھے نمبر لو گے تو اس کے بعد آپ نئی کلاس میں چلے جائیں گے۔
اب اس کی زندگی تین سو سے ” ٹو ماروز ” گننے میں صرف ہونے لگی۔ وہ اپنی اسکول ڈائری میں ایک ایک دن ٹیچر سے لکھوانے لگا۔ اب وہ اسکول کی پرے ( دعا ) میں اللہ میاں سے کہتا تھا کہ اللہ میاں جلدی سے تھری ہنڈرڈ ” ٹو ماروز ” گزر جائیں اور میرے بہنیں میرے ساتھ اسکول آنے لگیں اور ہاں پیارے اللہ میاں میرا ناراض بھائی بھی مجھ سے دوستی کر لے اور وہ بھی ہمارے پاس آ جائے تاکہ میں اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگ سکوں۔
دن گزر رہے تھے۔ اب ارشی ، ایلا اور شیزا کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی پر بھی توجہ دینے لگا تاکہ اس کے اچھے نمبرز آ جائیں اور وہ نئی کلاس میں چلا جائے ۔ اس دوران اس نے محسوس کیا کہ اس کی ماما کی طبیعت کچھ خراب رہنے لگی ہے۔ ان کو الٹیاں آ رہی ہیں۔ ان کا پیٹ موٹا ہو رہا ہے۔ اس نے اپنی ماما کو کہا کہ آپ کے پیٹ کو کیا ہو رہا ہے۔ یہ باہر کیوں نکل رہا ہے۔ اس پر وہ ہنس کر کہ دیتی کہ چپ ہو جاؤ ۔ ابھی آپ چھوٹے ہیں اس لیے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی۔
اس نے پاپا سے پوچھا تو وہ اسے کہنے لگے کہ ارشی آپ پڑھائی پر توجہ دو ۔ آپ کی ماما کھانا زیادہ کھانے لگ گئی ہیں تو اس لیے وہ موٹی ہو رہی ہیں۔ اس پر اسے لگا کہ ہاں شاید ایسا ہی ہو۔ لیکن جب اس نے غور کرنا شروع کیا تو اسے معلوم ہوا کہ ماما کا تو کھانا کھانے کا دل ہی نہیں چاہتا یہ تو اس کے پاپا ہیں جو انہیں زبردستی کھانا کھلاتے اور فروٹ کاٹ کاٹ کر دیتے ۔
ارشی سوچنے لگا کہ اس کے پاپا تو اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ماما زیادہ کھانا کھا کر موٹی ہو رہی ہیں تو پھر بھی وہ انہیں اور زیادہ کھلانا کیوں کھلا رہے ہیں ؟
اسے لگا کہ شاید وہ ابھی عمر میں چھوٹا تھا اس لیے اسے کچھ باتیں سمجھنے کے لیے بہت سارے تھری ہنڈرڈ ” ٹو ماروز ” گزارنے ہوں گے۔ اس نے جلدی سے اپنے بیگ میں سے اسکول ڈائری نکالی تو اس کی ٹیچر نے لکھا ہوا تھا ہنڈرڈ ” ٹو ماروز ” گزر گئے اور ٹو ہنڈرڈ باقی رہ گئے ہیں ۔
اب اس کی جڑواں بہنیں آہستہ آہستہ سمجھدار ہونے لگی تھیں۔ اب وہ سب کو خود ہی بتا دیتی کہ ایلا کون ہے اور شیزا کون ۔
جب سے وہ خود اپنا نام بتانے لگی تھیں اس دن کے بعد سے ارشی بھی اپنے ماما پاپا کی طرح ان میں فرق نہیں کر پاتا۔
ارشی دونوں بہنوں کے ساتھ کھیلتا ۔ جب وہ آپس میں لڑتی تو وہ انہیں سمجھاتا کہ دیکھو لڑائی مت کرو۔ میں نے اللہ میاں کے پاس اپنے بھائی سے لڑائی کی تو وہ مجھ سے ناراض ہو گیا اور وہ میرے ساتھ ہمارے ماما پاپا کے گھر نہیں آیا ۔ ایلا اور شیزا یہ سن کر ڈر جاتیں اور جلدی سے کٹی ختم کر کے دوستی کر لیتی اور گلے لگ جاتیں۔ اور پھر وہ تینوں اپنے ننھے ننھے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے کہ اللہ میاں جلدی سے ان کا ناراض بھائی لڑائی ختم کر کے دوستی کر لے تاکہ وہ ان کے پاس آ سکے۔
ارشی کی ڈائری میں ہر روز ایک ” ٹو مارو ” کم ہو رہا تھا۔ اب اس کے فائنل پیپرز ہونے والے تھے۔ اس کی ماما کا پیٹ بہت زیادہ بڑا ہو گیا تھا۔ وہ کبھی فکرمند ہوتا لیکن جب وہ دیکھتا کہ اس کے پاپا اس کی ماما کا بہت خیال رکھ رہے ہیں تو وہ اپنی توجہ پڑھائی کی طرف کر لیتا۔ وہ ہر حال میں نئی کلاس میں جلد سے جلد اچھے نمبرز لے کر جانا چاہ رہا تھا۔
اس کے پیپرز ختم ہوئے تو اس کی ماما کچھ دنوں کے لیے گھر سے ہسپتال چلی گئیں ۔ بچوں کی نانی ان کا خیال رکھنے کے لیے ان کے گھر آ گئی۔ وہ اپنے پاپا سے ماما کے بارے میں پوچھتا تو وہ کہتے کہ وہ آپ کے ناراض بھائی کو منانے کے لیے گئی ہیں۔ آپ دعا کرو کہ وہ جلدی سے اسے ساتھ لے آئیں ۔
یہ بات سن کر وہ بہت خوش ہوا۔ اب اس نے ایلا اور شیزا کو بھی اس بارے میں بتایا۔ اب وہ تینوں مل کر اللہ میاں سے دعا کرتے کہ ان کا بھائی ان کے پاس آ جائے۔ اب وہ کبھی اس سے لڑائی نہیں کرے گے بلکہ اس کا مل جل کر خیال رکھے گے۔
اور پھر ایک دن وہ صبح اٹھے تو ان کی ماما ، پاپا کے ساتھ ایک ننھا سا بچہ اپنی گود میں اٹھائے ہوئے گھر میں داخل ہوئی ۔ارشی ، ایلا اور شیزا نے اپنی نانی کے ساتھ مل کر خوب تالیاں بجائیں ۔ ان کی ماما کہ رہی تھیں کہ ارشی کا بھائی اب آپ لوگوں سے دوستی کرنے ہمارے گھر آ گیا ہے ۔ آپ سب اس سے پیار کروں گے نا۔
سب نے مل کر زور سے کہا جی ماما ۔۔۔۔۔۔۔
تھری ہنڈرڈ ” ٹو ماروز ” گزر گئے۔ اب ارشی ، ایلا اور شیزا تینوں ساتھ اسکول جاتے ہیں۔ وہ گھر آ کر اپنے چھوٹے بھائی سے پیار کرتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے ماما پاپا سے مل کر اس کا نک نیم ” تاجی ” رکھا ہے۔ گھر میں سب اس کو پیار والے نام سے ہی بلاتے ہیں تاکہ وہ اب کبھی بھی ان سے ناراض نہ ہو سکے۔




