غزل

غزل / ہم اپنے بوجھ اٹھائے کہاں کہاں بھٹکے /احسان علی احسان

غزل 

احسان علی احسان

یہ دل ہے یا کوئی افتادہ بام جلتا ہے

ہوا ذرا سی چلے تو تمام جلتا ہے

 

یہ آنکھ ہے کہ طلب کا کوئی دہکتا کنواں

جہاں نظر کو اتارو، مقام جلتا ہے

 

خیالِ یار جو ٹھہرا ہے آج پلکوں پر

وجودِ شام کے اندر بھی خام جلتا ہے

 

میں موجِ وقت کے پلٹاؤ سے گزرتا ہوں

تو اپنی شکل میں اپنا پیام جلتا ہے

 

میں آئینہ ہوں مگر اس عجیب بستی میں

جو دیکھتا ہے مجھے، بے دوام جلتا ہے

 

یہ عشق محض کوئی ایک سانحہ تو نہیں

یہ وہ الاؤ ہے جو صبح و شام جلتا ہے

 

ہم اپنے بوجھ اٹھائے کہاں کہاں بھٹکے

جہاں بھی جا کے رکے، وہ مقام جلتا ہے

 

یہ آگ کس نے لگائی ہے سبز پیڑوں میں

کہ پتّیوں میں بھی اب انتقام جلتا ہے

 

یہ خاک دان ہے یا آزمائشوں کا نگر

قدم بڑھاؤ تو ہر ایک گام جلتا ہے

 

میں اپنی پیاس کو دریا کے نام کرتا ہوں

تو تشنگی کا مرا اہتمام جلتا ہے

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x