غزل
غزل / جس کو دیکھو وہ دکھاتا ہے بڑی شان یہاں / محمد اظہر شمشاد
غزل
جس کو دیکھو وہ دکھاتا ہے بڑی شان یہاں
گویا ہر کوئی ہے انجام سے انجان یہاں
کیسے ممکن ہے کہ انصاف کرے منصف جب
چند پیسوں میں ہی بک جاتا ہے ایمان یہاں
ہر کوئی ڈالے ہے چہرے پہ نیا اک چہرہ
اتنا آساں نہیں پہچاننا انسان یہاں
دیکھ کر حرکتیں انسان کی حیوانوں سی
اب لگا ڈرنے ہے انسان سے شیطان یہاں
مختلف تھوڑا ہے دستور جہاں کا اظہر
جینا مشکل ہے بہت مرنا ہے آسان یہاں




