انٹرویو

عشرت معین سیما کا اردو ورثہ کے لیے خصوصی انٹرویو/ انٹرویوور: عطرت بتول

تعارف

عشرت معین سیما ایک جدید عہد کی نمایاں اردو شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اپنی سنجیدہ تخلیقی بصیرت، جذباتی گہرائی اور مشاہدے کی باریکی سے اردو ادب میں منفرد مقام بنایا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی اور بعد ازاں جرمنی میں مقیم ہونے والی سیما کے فن میں ہجرت، تنہائی، سماجی تضادات اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں خاص شدت سے جھلکتی ہیں۔ ان کے افسانوی اور شعری مجموعے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو ایک دلکش اور پختہ اسلوب میں پیش کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف غزل اور نظم میں مہارت رکھتی ہیں بلکہ افسانہ نگاری میں بھی اپنی شناخت ثابت کر چکی ہیں۔ ان کا شعری لہجہ سادگی کے باوجود عمیق، فکر انگیز اور قاری کے دل میں دیر تک نقش رہنے والا ہے۔

انٹرویو

 

اسلام علیکم عشرت صاحبہ، کیسی ہیں؟
وعلیکم اسلام ! میں بالکل خیریت سے ہوں۔

ہمیں کچھ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیے( والدین، بچپن ، تعلیمی ادارے )
میں کراچی میں پیدا ہوئی ہوں اور میرا بچپن میرے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ بہت یادگار اور خوبصورت گزرا۔ لیکن جب میں پرائمری اسکول میں ہی تھی تب والدہ کا انتقال ہوگیا وہ وقت میرے لیے بہت مشکل تھا۔ اس مشکل وقت میں والد صاحب نے ماں کی محبت اور باپ کی شفقت دونوں بہم پہنچائیں۔
میری ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم کراچی میں ہی ہوئی۔ دستگیر گورمنٹ اسکول کراچی سے میٹرک کیا۔اردو انگریزی اور حساب میرے پسندیدہ مضامین تھے۔ جب کالج میں آئی تو نفسیات ، فزیکل ایجوکیشن اور اردو ایڈوانس کا اختیاری مضمون منتخب کیا۔ ان تینوں مضامین کی میری اساتذہ بہترین تھیں جس کی وجہ سے اردو کے مضمون میں مسز زبیدہ کی رہ نمائی میں کہانیاں و مضامین لکھنے اور کچھ ٹوٹی پھوٹی شاعری کرنے کا آغاز ہوا۔ میں نفسیات میں ماسٹر کرنا چاہتی تھی لیکن جامعہ کراچی سے ماس کمیونیکیشن کی ماسٹر ڈگری لے کر اعلیٰ تعلیم کی غرض سے جرمنی آگئی اور پھر اس پردیس کو ہی اپنا دیس بنا لیا۔

آپ نے تخلیقی سفر کا آغاز کب اور کیسے کیا؟
میری پہلی تحریر ایک قوالی تھی جو میں نے اپنے والد کی سالگرہ پر لکھی تھی جس کو میرے چھوٹے بہن اور بھائی نے گا کر پیش کیا تھا۔ اس کے بعد اسکول کے لیے ڈرامہ اور ٹیبلو لکھا پھر اخبار میں کہانیاں لکھیں اور ہمیشہ داد پائی۔ اسی حوصلہ افزائی نے مطالعے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا بھی رجحان بڑھایا۔ کالج میں بھی اسٹوڈنٹ میگزین نکالتی رہی اور جب یونیورسٹی پہنچی تو ماس کمیونیکشن میں فکشن اور نان فکشن لکھنے کی بھی خوب تربیت ہوئی، بیرون ملک آکر یہ تربیت عملی طور پر واضح ہوئی اور دو ہزار چودہ کے آخر میں پہلی کتاب بطور سفر نامہ سامنے آئی جس کو بہت مقبولیت ملی، شاعری اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ مضمون نویسی تحقیق اور تنقید کا کام بھی شروع کردیا۔ صحافت کی عملی تعلیم اور بہترین اساتذہ کی تربیت نے ہی میرا یہ ادبی و علمی سفر کامیاب بنایا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ گھر والوں کی سپورٹ اس میں اولین درجہ رکھتی ہے۔

شاعری، افسانہ، ترجمہ، تحقیق اور تدریس ان میں سے آپ کو کون سا میدان زیادہ متاثر کرتا ہے اور کیوں؟
مجھے یہ تمام ہی ذریعہ اظہار بہت پسند ہیں لیکن اگر میں یہ کہوں کہ مجھے شاعری سے عشق ہے تو یہ ہر گز مبالغہ نہ ہوگا۔ کیونکہ شاعری میں براہ راست کسی موضوع پر اظہار خیال نہیں ہوتا مگر مکمل طور پر یہاں اپنے جذبات کا اظہار ممکن ہے۔ شاعری میرے لیے اُن موضوعات پر بھی ایک ذریعہ اظہار جس پر گفتگو کرنا ہمارے معاشرے میں آسان نہیں۔ باقی صحافت، تحقیق، تدریس اور ترجمہ تو میرے روزگار کے ساتھ جڑے ہیں اور اُن کے بغیر تو نہ شاعری پنپ سکتی ہے اور نہ افسانے لکھے جاسکتے ہیں

 برلن میں قیام اور تدریس کے تجربات کیسا رہا؟ کیا وہاں اردو زبان کی ترویج میں مشکلات پیش آئیں؟
برلن تو اب میرا وطن ثانی ہے کراچی کے بعد یہی شہر ہے جس نے زندگی جینے کا ڈھنگ سکھایا، زندگی بہترین عملی تجربات سے گزری اور اسی دیار ثانی میں اپنی اردو سے محبت کا چراغ روشن کیا اور آج اس چراغ کی روشنی سے کئی اندھیروں کو مٹتا دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے۔ مشکلات تو ہر اُس راستے کا حصہ ہیں جو منزل کی طرف جارہا ہو لیکن جب نشان منزل سامنے آجائے تو ساری تھکن دور ہوجاتی ہے۔ اپنی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے میری ادنیٰ سی کوشش با ثمر ہو گئی ہے اب یہاں نویں اور دس ویں جماعت کے تارکین وطن بچے اسکول میں اس زبان کو پڑھ سکتے ہیں کالج یونیورسٹی اور دیگر لینگوئج انسٹی ٹیوٹ میں یہ زبان پڑھائی جارہی ہے، صحافت کے حوالے سےمیگزین اور ویب سائٹ بن رہی ہے، مشاعرے و شام افسانہ منعقد ہورہے ہیں، تراجم کا کام عروج پر ہے، اردو زبان روزگار کے ساتھ جُڑ گئی ہے میری زبان کی یہ کامیابی میری کامیابی ہے الحمداللہ!

آپ کے خیال میں اردو زبان کو مغربی دنیا میں کس طرح بہتر طور پر متعارف کروایا جا سکتا ہے؟
اردو زبان کے شہہ پاروں کا ترجمہ ہونا ضروری ہے تب ہی مغرب میں اس زبان اور اس کے پس منظر میں معاشرتی جھلک سامنے آئے گی، یہ کام شروع ہوچکا ہے بس رفتار ذرا سست ہے لیکن کامیابی ہوگی۔ اس ضمن میں افسانے ناول اور نظموں کے تراجم بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ میں خود بھی نظموں کے تراجم کو اہمیت دیتی ہوں کیونکہ یہ سادہ اور آسان ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے فکری رجحانات کی بھی عکس بندی کرتی ہیں۔

موجودہ دور کے اردو ادب کو آپ کیسے دیکھتی ہیں؟ کیا آج کا ادب قاری سے جڑا ہوا ہے؟
آج کا قاری جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو ادب سے زیادہ آسانی سے جُڑ سکتا ہے اور جڑا ہوا ہے لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ ہے اس لیے سمعی اور بصری ادب کے ساتھ ساتھ کلاسیکل طور پر کتابوں کی اشاعت اور فروغ کو رکنا نہیں چاہیے۔

آپ نے بچوں کے ادب پر بھی کام کیا ہے، بچوں کے لیے لکھنے میں کیا خاص چیلنجز ہوتے ہیں؟
بچوں کا ادب تحریر کرنا ایک مشکل کام ہے بچوں کی عمر، ذہنی صلاحیت، زبان و تلفظ اور معاشرتی مسائل و اخلاقی تربیت کو مدنظر رکھ کر لکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے بچوں کے لیے قلم اٹھاتے وقت ذہن میں یہ خیال ہونا ضروری ہے کہ یہاں ادب اطفال کی بڑی ذمہ داری ننھے بچوں کی ذہن سازی، معلومات کی فراہمی اور اخلاقی تربیت ہے۔ جس کو بھرپور توجہ اور حقائق کے ساتھ زیر قلم لانا ضروری ہے۔

ترجمے کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ یا نکتہ کیا ہوتا ہے؟
ترجمہ کرنا میرے نزدیک ایک فنکار کے فن کی حفاظت ہے اور ایک امانت بھی ہے جس کو پوری ذمہ داری اور بھرپور توجہ کے ساتھ حرف بہ حرف ادا کرنا ضروری ہے۔ ترجمہ نہ صرف لفظی طور پر مترجم سے انصاف کا طلبگار ہوتا ہے بلکہ معنوی اور جذباتی طور پر بھی ادب کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس لیے دونوں زبانوں پر عبور، سماجی و لغوی معنی پر توجہ اور ترجمہ کے لیے ادب پارے کا انتخاب ایک اہم اور دشوار مرحلہ ہے جس پر بھرپور توجہ دینا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

آپ کی کون سی کتاب یا مجموعہ آپ کے دل کے قریب ہے؟
مجھے اپنی تمام ہی کتب عزیز ہیں لیکن مضامین کا مجموعہ جرمنی میں اردو، شعری مجموعہ آئنہ مشکل میں ہے اور ادب اطفال “ سنو کہانی پڑھو کہانی” بہت محنت طلب لگی شاید اسی لیے دل سے بھی قریب ہیں ۔

آپ کی تخلیقات میں وطن سے دوری کا کتنا اثر شامل ہے؟
شاید وطن سے دوری ہی میری شاعری اور نثری تخلیقات کی بنیاد ہیں۔ دو مختلف معاشروں کا تضاد اور کہیں کہیں اُن کا تصادم ہی مجھے کچھ لکھنے پر اُکساتا ہے

 آپ ادب کے ذریعے معاشرے میں کیا تبدیلی دیکھنے کی خواہشمند ہیں؟
ادب کسی بھی معاشرے کا عکس ہوتا ہے۔ جو واقعات تاریخ کا حصہ بننے سے بوجوہ محروم ہوجاتے ہیں وہ ادب اور شاعری میں اپنا راستہ تلاش کرکے سامنے آتے ہیں۔ اس لیے اگر تاریخ اور حالات زمانہ کو سامنے رکھ کر ادب تخلیق کیا جائے تو مستقبل میں ماضی کی بہت سی غلطیوں سے بچا جاسکتا ہے اور معاشرے کو مثبت تبدیلی کے ذریعے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

آپ کی نظر میں کامیاب ادیب بننے کے لیے کیا خوبیاں ضروری ہیں؟
کامیاب ادیب ایک ذمہ دار قلمکار ہوتا ہے۔ حقائق اور تخیل کو ساتھ لے کر چلتا ہے، زبان و بیان پر مکمل دسترس رکھتا ہے اور اپنی شخصیت کی تشہیر کے بجائے کام کی پائیداری اور بہتری کی طرف توجہ دیتا ہے یعنی تنقید بخوبی بطور اصلاح قبول کرتا ہے۔اِن باتوں کو لے کر اگر آپ کا لکھا گیا ادب کامیاب ہے تو آپ ایک کامیاب ادیب ہیں جن کو لوگ پڑھنا اور سننا چاہتے ہیں۔

نئی نسل کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
نئی نسل کو ہمیشہ میں ایک ہی پیغام دیتی ہوں کہ اپنی زبان پر فخر کریں، اپنی زبان میں لکھے گئے ادب و شاعری کا مطالعہ کریں اور زبان کو ثقافت کا حصہ سمجھ کر فروغ دیں کیونکہ آپ اس کے وارث ہیں اور اپنی ثقافت و زبان کی ترویج آپ کا فرض ہے۔

مستقبل کے لیے کیا ادبی منصوبے زیر غور ہیں؟
مستقبل کے لیے یہی منصوبے ہیں کہ قلم کو اپنی سانس کے ساتھ چلتے رکھنا ہے اور شرطیہ صحت و زندگی اپنے قلم کی روشنائی سے وہ تاریکیاں دور کرنے کی کوشش کرتے رہنا ہے جو ہمارے معاشرے پر خاموشی سے پنجے گاڑ رہی ہیں۔

پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ ؟
پاکستان اور پاکستانی معاشرے سے کیا گلہ کریں ہم تو خود بھی اس کا ہی حصہ ہیں ہم اپنے اندر نظم و ضبط، اتحاد اور یقین پیدا کرلیں تو پاکستان کو مضبوط تر بناسکتے ہیں۔

اردو ورثہ کے لیے کیا کہیں گی ؟
اردو ورثہ ایک بہترین ویب سائیٹ ہے اپنے ورثے کی حفاظت اور ترویج کی عمدہ مثال ہے خدا کرئے کہ ہم اپنے ورثے کے امین بننے کے اہل رہیں اور اردو ورثہ اس ضمن میں ہماری رہنمائی کرتا رہے۔

 

عطرت بتول نقوی

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x