اُردو ادباُردو شاعریاُردو نثرغزل
غزل / سر میں ہے اک سکون کہ سودا کرے کوئی / مدبر آسان
غزل
سر میں ہے اک سکون کہ سودا کرے کوئی
سینے میں اک سکوت کہ چیخا کرے کوئی
گوشہ نشینو! مژدہ! کہ دنیا ہے انتشار
خود میں سمٹ کے جشن منایا کرے کوئی
شاید ہو خود ستائی سے ہی اپنی معرفت
آئینہ رکھ کے اپنا تماشا کرے کوئی
ایسا کشادہ دل ہوں کہ جو چاہے آئے جائے
ایسے کشادہ دل کو تو صحرا کرے کوئی
یہ شب شبِ فراق، شبِ ذی وقار ہے
اس حیلہ جُو کو در سے ہی چلتا کرے کوئی
اوجِ جنوں ہے حسن میں اک شوق کی رمق
صحرا میں لاکھ حشر اٹھایا کرے کوئی
ایڑی سے اس کی پھوٹتی ہے دودھیا کرن
اس روشنی کو چاند کا ہالہ کرے کوئی
ہم سے سجود و رقص کی امید باندھ کر
اب کوئی روٹھتا ہے تو روٹھا کرے کوئی
آتی ہے گر تو آئے سخن گسترانہ بات
اتنی تو جرات آپ میں پیدا کرے کوئی
ماتھے پہ ہاتھ باندھ کے میں آنکھ موند لوں
اور پہروں مجھ کو شعر سنایا کرے کوئی




