
میری آنکھ کھلی تو خود کو پارک کی ایک زرد پڑی ہوئی بنچ پر پایا۔ لمحہ بھر کو یوں لگا جیسے وقت کسی انجانی صدی پر ٹھہر گیا ہو۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ ہاتھوں سے اپنا جسم ٹٹولا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ میں سوٹ میں ملبوس تھا۔ شاید میں کسی جاب پر جاتا ہوں… لیکن جیبیں خالی تھیں۔ صرف ایک مڑا تڑا سا سو روپے کا نوٹ اور ایک ادھ جلا سگریٹ۔
"کیا میں سگریٹ پیتا ہوں؟” یہ سوال ذہن میں بجلی کی طرح کوندا۔
میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ کہاں جانا ہے؟ ان سوالوں نے مجھے گھیر لیا۔ یادداشت کی ساری کھڑکیاں جیسے بند ہو گئی تھیں۔ ایک بےنام سا خوف میرے دل میں گھر کر گیا۔ اگر میں نے کسی سے پوچھا تو لوگ مجھے پاگل نہ سمجھ لیں؟ اور اگر واقعی میں پاگل ہوں تو؟
میں لرز گیا۔
خوف کے بوجھ تلے میں پارک
میں موجود باتھ روم کی طرف بھاگا ۔ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔ چہرہ مانوس لگ رہا تھا مگر اجنبی بھی۔ بال بکھرے ہوئے تھے، آنکھیں جیسے کئی راتوں سے جاگ رہی ہوں۔ میں نے حلیہ درست کیا اور باہر نکل آیا۔
اب پیٹ میں بھوک سے مروڑ اٹھنے لگے تھے۔ میں سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا۔ ہر گزرتا ہوا شخص مجھے محسوس ہوتا کہ وہ مجھے ہی گھور رہا تھا ۔جیسے میں کوئی پرانا قصہ ہوں جو بھولے ہوئے ورق سے اچانک نکل آیا ہو۔
کچھ دور مجھے ایک دکان نظر آئی ۔میں تیزی سے اس دکان کے پاس گیا ۔ وہ ایک چھوٹا سا جنرل اسٹور تھا ۔ میں نے اس سے پانی مانگا ۔اس نے بوتل دی ۔ میں نے بقایا پیسے جیب میں ڈالے اور دکاندار سے کچھ نزدیک ہو کر آہستہ سے پوچھا ۔”کیا آپ نے مجھے پہلے اس علاقے میں دیکھا ہے ۔؟ ” وہ حیرت سے چونک کر مجھے گھورنے لگا ۔ پھر نفی میں سر ہلا کر بولا ۔” نہیں میں پہلی بار آپ کو دیکھ رہا ہوں ۔” اب میں مزید پریشان ہو گیا ۔
میرے قدم بوجھل تھے اور دماغ میں ایک ہی سوچ گردش کر رہی تھی:
"کیا میرا کوئی گھر ہے؟ کوئی دروازہ جس پر جا کر دستک دے سکوں؟ کوئی نام جو میرا اپنا ہو؟” میں کہاں سے آیا ہوں ۔؟ میرا گھر کہاں ہے ؟
میں چلتا رہا… اور ہر قدم کے ساتھ یہ سوال اور گہرا ہو گیا۔
میں پریشان تو تھا لیکن کسی کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
ایسا نہ ہو لوگ مجھے تھانے میں بند کرا دیں ۔ میں اتنا تو سمجھ سکتا تھا کہ میں ایک شریف انسان ہوں ۔ وہاں دور تک کوئی اور دکان یا ہوٹل نظر نہیں آ رہا تھا ۔
اب میں چلتے چلتے تھک گیا تھا ۔ آگے ایک بلڈنگ نظر آ رہی تھی ۔ میں اس بلڈنگ تک پہنچا ۔ وہاں گیٹ پر چوکیدار کھڑا تھا ۔ کچھ دیر میں اس کی طرف دیکھتا رہا تھا ۔ وہ مجھے دیکھ کر کہنے لگا ۔ ” صاحب ِآپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں ۔ میں نے چوکیدار سے پوچھا ، "بھائی کیا میں کچھ دیر بیٹھ سکتا ہوں ۔ ” اس نے فوری طور پر مجھے کرسی پیش کی ۔اور میں شکریہ ادا کر کے بیٹھ گیا۔
مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے چوکیدار مجھے بغور دیکھ رہا ہے ۔ میرے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی ۔ میں نے اس سے پوچھا ” تم مجھے جانتے ہو ۔؟” وہ کچھ عجیب نظروں سے مجھے دیکھنے لگا ۔ اس اثنا میں ایک شخص سیڑھی سے نیچے آیا ۔ مجھے دیکھ کر اس نے کہا ۔ ” آئیے میرے ساتھ ” میں چونک گیا ۔ سوچتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگا ۔ میں دل میں سوچ رہا تھا ، ” یہ شخص کون ہے ؟ ” وہ مجھے ججھکتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا ۔ ” آپ گھبرائیں مت ۔ میرے ساتھ چلیں ۔” ہم پہلے کھانا کھائیں گے ۔ پھر گفتگو کریں گے ۔۔” ہم ایک اپارٹمنٹ میں گئے ۔وہاں کھانا میز پر رکھا تھا ۔ میری بھوک چمک اٹھی ۔ گرم کھانے نے اشتہا بڑھا دی ۔ ہم دونوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا ۔ پھر ہم بیٹھک میں آگئے ۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے اچھی طرح جانتا ہے ۔ لیکن کیسے ؟ آپ مجھے کیسے جانتے ہیں ۔؟
میں سب کچھ بھول چکا تھا ۔ بہت سوچنے پر بھی کچھ یاد نہیں آتا تھا ۔ میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ مجھے میرے بارے میں بتائے ۔
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا ۔ ” میں آپ کو ثبوت بھی دوں گا ۔ آپ کی قانونی شناخت آپ کو بتاؤں گا ۔ لیکن آپ کو میرا ایک کام کرنا ہو گا ۔ ”
میں چونک گیا” ۔کیا؟ کیا کرنا ہو گا ۔”
اس نے ہنستے ہوئے کہا ” کچھ بھی جو میں کہوں ۔اور میں سوچ میں پڑ گیا ۔ کہیں یہ مجھ سے کوئی گناہ نہ کروا لے ۔ یا کوئی غیر قانونی کام یا جرم ؟ خیالات کی یلغار نے مجھے پریشان کر دیا ۔
وہ غور سے میری صورت دیکھ رہا تھا ۔ پھر مجھے تذبذب میں دیکھ کر بولا ۔ ” کل تک سوچ لیجئے ۔میں کل صبح آؤں گا ۔آپ یہیں آرام کیجئے ۔ کپڑے بدلنا چاہیں ۔ نہانا چاہیں۔ سارے لوازمات پورے ہیں ۔ ”
میں دن بھر چل چل کر اور ذہنی الجھن کے باعث تھک چکا تھا ۔ سو میں نے سر ہلا دیا ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اب میں اپارٹمنٹ میں اکیلا تھا ۔ اندر سے دروازہ بند کر کے پورے گھر اور باتھ روم ، الماریوں وغیرہ کی تلاشی لی ۔پھر پرسکون ہو کر سونے چلا گیا۔
رات بھر طرح طرح کے خوابوں نے تنگ کیا ۔لیکن میں بالآخر سونے میں کامیاب ہو گیا ۔ صبح آنکھ کھلی تو سورج نکل چکا تھا ۔ میں نے شاور لے کر کپڑے بدلے ۔ تیار ہو کر میں باہر آیا تو وہ شخص دروازے پر منتظر تھا ۔
میں نے سوچا اس کی بات سن لوں ۔ اگر معاملہ گڑبڑ ہوا تو انکار کر دوں گا ۔ ہو سکتا ہے وہ جھوٹ بول کر میری لا علمی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو ۔ اس صورت میں کہاں جاؤں گا ۔خیر جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔
ہم اپارٹمنٹ سے نکل کر گاڑی
میں بیٹھے ۔ قریب ایک ریسٹورینٹ میں ناشتہ کیا ۔
ناشتے کے بعد اس شخص نے مجھے ایک تصویر دی جو ایک جوان لڑکے کی تھی ۔ أیک والٹ جس میں رقم تھی ۔ اور ساتھ ہی ایک کارڈ دیا ۔جس پر شہر کے ایک کلب کا پتہ لکھا تھا۔ ساتھ ہی ایک قلم اور ڈائری بھی دی ۔
اس نے بتایا کہ مجھے اس لڑکے کی چوبیس گھنٹے نگرانی کرنا ہے اور اس کے متعلق تمام ضروری چیزیں اس ڈائری میں لکھنا ہیں ۔ اور دوسرے دن اسی جگہ ہم ملیں گے اور میں اسے رپورٹ کروں گا ۔
میں نے اسی وقت گاڑی بک کی اور اس کلب کی طرف روانہ ہو گیا ۔ وہاں مجھے کسی نے اندر جانے سے نہیں روکا ۔ اندر جا کرمیں اس لڑکے کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ وہ مجھے ایک آفس میں بیٹھا نظر آ گیا ۔ اسے دیکھ کر مجھے محسوس ہوا میں اس کو جانتا ہوں ۔ لیکن کیسے ۔ وہ کون ہے ۔اسے دیکھ کر دھیان بٹنے لگا تھأ ۔ میں لابی میں ہی بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا ۔ جب وہ باہر جانے کے لئے اٹھا ۔میں بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ گیا ۔ وہ جلدی جلدی فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے جا رہا تھا ۔میں نے اندازہ لگایا کہ وہ باہر جا رہا ہے سو اس کے پیچھے چل بڑا ۔ ؤہ سارے ایڈریس میں نے نوٹ کر لئے ۔
.مجھے وہ ساری جگہیں ایسے لگ رہی تھیں جیسے ان کا مجھ سے بڑا گہرا تعلق ہو ۔
دوسرے دن اس کیفے میں اسے رپورٹ دی ۔ وہ پوچھنے لگا تم نے کچھ محسوس کیا کہ تم وہاں جا چکے ہو پہلے ۔ اور اس لڑکے سے ملے ۔
اب اس نے مجھے بتایا کہ میں نے اس لڑکے کو ملنے کے لئے بلایا ہے ۔ وہ لڑکا آیا تو مجھے دیکھ کر وہ لپکا اور میرے گلے لگ گیا ۔ وہ لڑکا میرا بیٹا تھا.




