اُردو ادباُردو شاعرینظم
غزہ کے مظلوم بچوں کے نام / زاہد خان
غزہ کے مظلوم بچوں کے نام
ہمارے بچوں کے چہروں سے جھانکتے ہیں غم
جو ہنس بھی دیں تو دکھائی دے
ان کی کا آنکھ کا نم
یہ غم وہ ہیں کہ جو تجدید زندگی کے لیے
فقط سراب ہیں ان دیکھے موسموں کا سراب
زمین آگ بگولا ہے اور فلک خاموش
یہ جنگ جس نے بھی سرمائے کے لیے کی ہے
رزیلِ انس ہے ابلیس کا ہے پروردہ
خدا خدا ہے اسے چاہیے کہ نوٹس لے
شروعِ فصل میں دھرتی فلک کشادہ کرے
زمین والوں کو جینے کا حق مہیّا کرے
فلک کی سیر کو اک اور آسماں دے دے
ہمارے سینوں کو شوقِ خرام ہی دے دے
ہمارے بچوں کے پاؤں سے بیڑیاں چھینے
یہی بتائے کہ یہ کائنات تنگ نہیں
فلک پہ اٹکے ستارے کو روشنی بخشے
ہمارے بچوں کو بتلائے سر خوشی کیا ہے
یہ کون ہیں جو پتنگوں کی ڈور کاٹتے ہیں
فلک کی سیر پہ پابندیاں لگاتے ہیں




