پتھر میں اگی کونپل / ارشد معراج
پتھر میں اگی کونپل
صبا ایک مسکن
وہ مسکن جہاں صرف ویرانیاں ہیں
فقط گرد ہےاور پشیمانیاں ہیں
یہ دم گھٹتا رہتا ہے
اندر ہی اندر ۔۔۔۔۔
کبھی تخم ـ خواہش پنپتا نہیں ہے
صبا اک مصور کی تصویر حیراں
حیران جیسے ہو چڑیا کا بچہ
جو اڑانے سے پہلے فلک کو کراں تا کراں دیکھتا ہو
صبا ایک کومل، ملائم شجر
جو بانسوں کے جنگل میں جنگل بنی ہے
جہاں کوئی رستہ نہیں
ہر اک بانس کی سول گھپتی ہے سینے میں
جی چھل رہا ہے
صبا اک مغنی کا سرگم
وہ سرگم
جہاں درد کی لے پہ ہر پل بدن کٹ رہا ہے
لہو انگلیوں سے بہے جا رہا ہے
لہو میں نہائی ہوئی ہے
صدا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ صبا
صبا ایک تنہا سٹیشن پہ لٹکا ہوا گاڑیوں کا ہے اوقات نامہ
کہ جس پر لکھا دھول میں اٹ گیا ہے
سٹیشن کی تنہائی دیمک کی مانند
سبھی ہڈیوں کو مسلسل زمانوں سے چاٹے چلی جا رہی ہے
صبا ایک سیلن زدہ بند کمرا
نہ کھڑکی، نہ دروازہ ، روزن
ہوا
سرسراہٹ
پرندوں کی چہکار
پتوں کی آہٹ
مکمل خموشی
خموشی میں سانسوں کی آواز ہے بس
دھڑکتے ہوئے دل کی پھونکار ہے بس
صبا روشنی سے پریشاں
کہ روشن دیے سب ہیں خوابوں کے قاتل
جو آنکھیں ہوں روشن
تو جینے کی خواہش مہکتی ہے
خواہش کا اسرار
ہونے کے انکار سے بھر رہا ہے
یہ ہونا نہ ہونا کہاں کس کے بس میں
صبا سوچتی ہے
وہ
بارش میں بھیگے ہوئے دو لبوں کو
ان ہاتھوں کی لرزش کو
جسموں کی جنبش کو
دھک دھک دھڑکتے ہوئے دل کے ترکٹ کو
لیکن میسر وہ دل تو نہیں ہے
فقط ایک پتھر
وہ روزانہ پتھر کے سنگ سو رہی ہے
خموشی کے بیجوں کا نم بو رہی ہے
پتھر سے لپٹے
بدن پر خراشیں ہیں
ہرنی سی آنکھوں میں ویرانیاں ہیں
زمانوں مکانوں میں سنسانیاں ہیں
یہ دوزخ کسی کو بھی دکھتا نہیں ہے
وجودی تقاضوں کو پتھر سمجھتا نہیں ہے
سیہ درد کی چیخ سینے میں قیدی
سلگتی ہوئی آس زینے میں قیدی
زمانے کا ڈر ہے
زمانہ کہیں سن کے بہتاں نہ گھڑ لے
زمانہ کہیں سولیوں پر نہ دھر لے
زمانہ ہے سفاک ۔۔۔۔۔۔ ظالم
کسے کیا خبر ہے
صبا !!!
ہاتھ تھامو
مرے نرم دل کے حسیں گھر میں آؤ
جہاں جگنوؤں کے ہزاروں ہیں جھرمٹ
تمہارے لیے رقص پرور
جہاں تتلیاں گال چھو کر تمہارے گلابی کریں گی
جہاں ہاتھ پر اک کبوتر اتر آئے گا اور
غٹرغوں غٹرغوں کا نغمہ سنائے گا
پر پھڑپھڑائے گا
تم ہنس پڑو گی
ہنسی سے تمہاری ستارے زمیں پر اترنے لگیں گے
تو
دامن میں موتی بکھرنے لگیں گے
سو تنہائی کے داغ دھلنے لگیں گے
فقط ڈھونڈ لو چابیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





خوبصورت نظم