اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / تکمیلِ کائنات میں ایسے مدد کرے / مبشر رحمان
غزل
تکمیلِ کائنات میں ایسے مدد کرے
موجود جو نہیں ہے اُسے پہلے رد کرے
ہر چیز چاہتی ہے بڑائی جہان میں
میں روشنی ہوں مجھ کو اندھیرا سند کرے
اونچا ہو جس کا سر وہ نشانے پہ آتا ہے
بونوں کے شہر میں کوئی کس طرح قد کرے
دستور ہی یہ بنتا ہے تکمیلِ ذات کا
پہلے پہل ہر آدمی خود سے حسد کرے
میں بھی ہوں، میرا دل بھی ہے، راہِ مُفر بھی ہے
اب اس پہ منحصر ہے ، جسے دو عدد کرے





بہت اچھی شاعری ہے