نظم

نظم / دیمک کی ماں / آصف جانف

دیمک کی ماں

آصف جانف

 

وہ دیمک کی ماں تھی

جس نے میری خوشیاں کھائیں

اس نے ایک ایک کر کے میرا ہر سکھ تمام کیا

میرے پاس قرار پانے کا ایک ہی رستہ بچا ہے

میں دیواروں میں گھس جاتا ہوں

لیکن

دیورایں مجھے نہیں سہار پاتیں

وہ کہتی ہیں ہٹ جا دیمک کی ماں سے ہارے ہوئے شخص

وہ کہتی ہیں اپنی خوشیاں تو سنبھال نہ سکے اب ہمیں بے چین کرنے آ جاتے ہو

لیکن انہیں کیسے سمجھاؤں

وہ دیمک کی ماں تھی

اس لئے اسے روکنا محال تھا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button