اُردو شاعرینظم

یہ زمانہ اُحد کے بعد کا ہے / جلیل عالی

یہ زمانہ اُحد کے بعد کا ہے

جلیل عالی

شہر پر
سانحہ گزرنے سے
جو دراڑیں
دلوں کے بیچ پڑیں
اُن کے بھرنے میں کیا خبر
کتنا
درد جگنا تھا،
وقت لگنا تھا
مہربانی غنیمِ ارذل کی
اُس کے جنگی جنون سے
کیسے
چَھٹ گیا
پل میں نفرتوں کا غبار
ہوئے سب مل کے آہنی دیوار
سُن!
کسی گوشۂ غیابت سے
آ رہی ہے
اک آشنا آواز
کوئی سرگوشیوں میں
کہتا ہے
پڑھ!
جو قرطاسِ وقت پر ہم نے
بھید بین السطور لکھا ہے
شب کہاں تھی
سقوطِ ڈھاکہ کی
وہ شکستِ انا کا موسم تھا
دیکھ!
درمان تلخ یاد کا ہے
یہ زمانہ
اُحد کے بعد کا ہے

Author

Related Articles

Back to top button