اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / لاج رکھوں بھی تو کیوں تیری اداکاری کی / شان رضا
غزل
لاج رکھوں بھی تو کیوں تیری اداکاری کی
آج تک تو نے کسی سے بھی وفاداری کی؟
بانٹ دیتا تھا میں لوگوں میں سبھی خوشیوں کو
عمر بھر میں نے فقط غم کی خریداری کی
ہجر کا زہر نسوں میں مری جب پھیل گیا
وصل کے بدلے سند مل گئی غدداری کی
پہلے سر سبز شجر ذرد کیا ہے تو نے
پھر سنائی ہے کہانی سبھی کو یاری کی
شاہ زادی ترا بیمار شفا پاتا نہیں
تیرا دیدار دوا ہے مری بیماری کی
ہر حسیں شخص پہ دل ہار گیا جو یارو
بات کرتا ہے وہ کس طرح سے خودداری کی





بہت عمدہ غزل