اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / خون میں رینگتی ہے پر سینے پہ ڈس نہیں رہی / فیضان ہاشمی
غزل
خون میں رینگتی ہے پر سینے پہ ڈس نہیں رہی
یعنی تمھارے عشق میں اب وہ ہوس نہیں رہی
کہنے کو راکھ ہو گئی جل کے ہماری فصل غم
ایسی گرج چمک میں بھی آنکھ برس نہیں رہی
کب سے چھڑی ہوئی ہے جنگ اپنے دل ودماغ سے
امن کی فاختہ مگر جال میں پھنس نہیں رہی
ایک ہی لمحہ پاس ہے جس میں میں رو نہیں رہا
ایک ہی فوٹو ساتھ ہے جس میں وہ ہنس نہیں رہی
ہاتھوں میں موتیے کے پھول آنکھوں میں سیپیوں کا شور
جیسے اب اس کے ہاتھ میں چوبِ نفس نہیں رہی




