اُردو ادبافسانہ

رات / منیر احمد فردوسی

کتاب میرے ہاتھ میں تھی۔ جس کے متاثر کن سرورق اور ابھرے ہوئے حروف میں لکھے منفرد نام نے مجھے جکڑ لیا تھا۔ کتاب کا پہلا صفحہ پلٹا تو نگاہ اس کے انتساب پر جیسے ٹھہر سی گئی اور میں لفظوں کی گرفت میں آ گیا۔

"ان کہانی کاروں کے نام… جن کی کہانیاں اپنے خالق کا خون مانگتی ہیں۔”

یہ انتساب نہیں، ایک جادو تھا جو مجھ پر چل چکا تھا اور میں لمحوں ہی میں اپنے اندر سے ہجرت کر کے قرطاس کی ایک ایسی دنیا میں اتر گیا جو سیاہ لفظوں سے تخلیق کی گئی تھی۔ یہ دنیا کی مختصر ترین ہجرت تھی جو اسی کمرے سے شروع ہو کر اسی پر ہی ختم ہو گئی تھی۔

دراصل یہ اسرار بھری کتاب ان ادیبوں کے بارے میں تھی جنہوں نے اپنی سانسوں کا جلتا چراغ اپنے ہاتھوں سے گل کر کے اپنی زندگی خود ہی بجھا دی تھی، جیسے کوئی بیزار شخص سگریٹ پھونکتے پھونکتے اچانک اسے فرش پر مسل دے۔ کتاب کیا تھی، بس اجل کے زندگی کو بھیجے گئے نہایت الجھے ہوئے مکتوب نامے تھے، جو بعض اوقات اتنا بوجھل کر دیتے کہ میری حالت غیر ہونے لگتی اور رات بے چینی میں کٹتی۔ مگر موضوع ایسا دلچسپ کہ میں کتاب سے نکل کر دوبارہ اپنی ذات تک نہ پہنچ سکا۔ میرا کمرہ ہی میری دنیا تھی اور میں اپنی دنیا کا واحد باسی۔ بیوی اور بیٹا مدت سے الگ کمرے میں سوتے تھے، اور میں اپنی دنیا میں مگن۔

رات کو مطالعہ کرتے کرتے کبھی یوں بھی لگتا جیسے رات اوراق سے جھانکتے ہوئے مجھ سے کلام کرنے لگتی ہے اور میرے چاروں طرف ایک عجب سا اسرار چھا جاتا۔ تب میں کتاب کو سینے پر رکھے کش پہ کش لگاتا، رات سے مکالمہ کرتا جانے کہاں کہاں گھوم آتا۔ جوں جوں میں رات کے سحر میں ڈوبتا گیا، میرا یقین پختہ ہوتا گیا کہ رات واقعی زبان رکھتی ہے اور مخاطب بھی ہوتی ہے۔

"آخر یہ رات کیا ہے؟”

"کوئی سایہ؟”

"دن کی چادر پر پڑا سیاہ دھبہ؟”

"یا کائنات کا پھونکا ہوا کوئی سحر؟”

یہ سوال نہیں، چیخیں تھیں جو میرے چاروں طرف گونجنے لگی تھیں، جن کا جواب پانے کی جستجو میں رات سے میرا روز مکالمہ شروع ہو جاتا تھا۔ تبھی میری دنیا میں اس کی آمد ہوئی، چپ چاپ، خاموش، دبے پاؤں۔ وہ بغیر کسی آہٹ کے میرے پائنتی آ کے بیٹھ گئی تھی اور پھر کبھی واپس نہ گئی۔ یوں جیسے وہ ہمیشہ سے تھی مگر میں اسے نہ پہچان سکا۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ رہنے لگی اور میں غیر محسوس طریقے سے اس کے قریب ہوتا چلا گیا۔ خاص طور پر جب رات کو کتاب لے کر میں بستر پر جاتا تو وہ ادوائن کی طرف آ کے بیٹھ جایا کرتی، بس پھر وہ ہوتی اور میں ہوتا۔

آج رات بھی تجسس سے چمکتی آنکھیں ڈالے وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی، جیسے جاننے کو بیتاب ہو کہ رات کیسے کسی سے مکالمہ کر سکتی ہے؟ کمرے میں گہرا سکون تیر رہا تھا۔ ورق گردانی سے ایک نامانوس سی تھکن میرے اندر اتر گئی تھی، جیسے الفاظ بھی مجھے پڑھتے پڑھتے تھک گئے ہوں۔ میں نے اکتاہٹ بھری تھکن سے کتاب سینے پر رکھی اور پلنگ سے ٹیک لگائے اس کی طرف متوجہ ہو گیا جس کی نظریں مجھ پرٹکی ہوئی تھیں۔

”کیا تم واقعی جاننا چاہتی ہو کہ رات کیسے مکالمہ کرتی ہے؟“ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

”تو آؤ میرے ساتھ، ماضی کی پگڈنڈیوں پر۔“ میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور خاموشی کا پردہ چاک کر کے دوسری سمت اتر گیا

ہم برسوں پرانے ایک مانوس سے شہر میں کھڑے تھے۔ کچی پکی اینٹوں سے بنے بوسیدہ مکان، نیم روشن خالی خالی گلیاں، بند دروازوں سے پھیلتی اپنائیت کی خوشبو، ب±ھرتے ہوئے کچے درودیوار، کھڑکیوں کے پیچھے سے جھانکتی آنکھیں۔ سب کچھ جانا پہچانا سا مگر وقت کی گرد میں اٹا ہوا۔

ہم ایک نیم روشن، تنگ سی گلی سے گزر رہے تھے کہ وہ ٹھٹھک کر رک گئی۔ اس نے دیکھا، ایک چھوٹا سا بچہ پھٹے پرانے کپڑے میں بندھی کتابوں کا بستہ بغل میں دابے، چوبی دروازے والی ایک تنگ سی دکان کے سامنے حسرت کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ لمبی سی دکان کے اندر کاریگر سلائی مشینوں کی "گھرر گھرر” میں سیاہ سوتی گون سے بستے سینے میں مصروف تھے اور ان پر موٹے تِلے کی سنہری ڈوریاں لگا کر نئے بستوں کا ڈھیر لگاتے جا رہے تھے۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر وہ بچہ چمکتی ڈوری والے نئے بستوں پر نظریں ٹکائے یوں کھڑا تھا جیسے ڈوریوں میں ہی اس کی سانسیں اٹکی ہوں۔ سکول سے آتے جاتے نئے بستے کی معصوم سی خواہش اسے روزانہ یہاں کھینچ لاتی۔ اس کا استغراق بتا رہا تھا کہ وہ اپنی چھوٹی سی خواہش کی تکمیل کے لئے برسوں سے یہاں کھڑا ہے اور آج نیا بستہ لے کر ہی گھر جائے گا۔

وہ اس کھوئے ہوئے بچے کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی جیسے اس نے پہلے بھی اسے کہیں دیکھ رکھا ہو۔ اس کے قدم آہستہ آہستہ بچے کی طرف اٹھنے لگے۔ وہ اس کے قریب پہنچی ہی تھی کہ اچانک مشینوں کی "گھرر گھرر” میں کافی سارے قہقہے، سیٹیاں اور عجیب سا شوروغل شامل ہونے لگا۔ اس نے چونک کر اپنے آس پاس دیکھا مگر گلی پرسکون تھی، قریب کی ایک دو دکانوں میں کپاس کی دھنائی ہو رہی تھی اور اکا دکا لوگ آ جا رہے تھے۔ وہ حیران تھی کہ سیٹیوں کا یہ شور کہاں سے آ رہا ہے جو بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگی۔ میں معاملہ سمجھ گیا تھا مگر اسے سمجھانے کا وقت نہیں تھا، اس لئے میں نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور اسے لے کر سامنے کے چوراہے کی طرف بڑھا۔ وہ معمولی سا کسمسائی اور گم صم کھڑے بچے کو مڑ مڑ کر دیکھتی رہی جو آہستہ آہستہ معدوم ہونے لگا تھا۔ بچے کو چھوڑ کر ہم آگے بڑھ گئے اور چوراہے سے ہوتے ہوئے ایک دو چھوٹی بڑی گلیاں عبور کرکے کوچے کی ایک نکڑ پر آ ٹھہرے۔ سارا شوروغل وہاں سے پھوٹ رہا تھا جہاں بہت سارے لڑکے کسی کو گھیرے کھڑے تھے۔ ہم نے آگے بڑھ کر دیکھا تو سامنے ایک ناقابلِ یقین منظر تھا۔ وہی بچہ جو کچھ دیر پہلے نئے بستے کی خواہش سے بندھا دکان کے سامنے کھڑا تھا، اب گھٹنوں کو سینے سے لگائے، سر جھکائے، ایک موڑے پر ننگ دھڑنگ بیٹھا کانپ رہا تھا۔ محلے کے کچھ شریر لڑکے اس پر تالیاں پیٹ رہے تھے، قہقہے لگا رہے تھے اور اس کا خوب مذاق اڑا رہے تھے۔

"بول پھر نماز قضا کرے گا؟”

طوفانِ بدتمیزی میں اچانک ایک سخت جملہ گونجا اور وہ اس سمت دیکھنے لگی۔ بچے کا بڑا بھائی اس کے کان مروڑتے ہوئے غضبناک لہجے میں اس پر دھاڑ رہا تھا۔

”بول پھر نماز چھوڑے گا؟“

اور ساتھ ہی لڑکوں کو بار بار اس پر آوازیں کسنے کو کہہ رہا تھا جنہوں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا مگر لباس سے محروم وہ کمسن بچہ شرم سے زمین میں گڑا جا رہا تھا۔ یہ کربناک منظر دیکھ کر وہ کانپ اٹھی اور بے چین سی ہو کر مجھے دیکھنے لگی، جیسے پوچھ رہی ہو، یہ سب کیا ہے؟

"یہ تو کچھ بھی نہیں، تم نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے؟”میں آنکھوں ہی آنکھوں میں بولا

وہ اس اذیت ناک منظر میں جکڑی، موڑے پر بیٹھے ننگے بچے کی بدحالی دیکھ کر سوچ میں پڑی ہوئی تھی کہ کیا کرے اور کیا نہیں۔ اسے اس کے بھائی پر شدید غصہ آنے لگا جو اس بچے کے کان مروڑتے ہوئے بار بار کہہ رہا تھا ”بولتا کیوں نہیں، پھر نماز چھوڑے گا؟“ بچے کا چہرہ تکلیف کی شدت سے مسخ ہو گیا تھا۔ وہ اسی شش و پنج میں تھی کہ اچانک اس شور شرابے میں کسی کی دبی دبی آہ و بکا گھلنے لگی۔ وہ سمجھی شاید بچہ سسکیاں لینے لگا ہے مگر وہ تو بدستور خاموشی کے کنویں میں ننگ دھڑنگ لٹکا ہوا تھا۔ وہ ان درد ناک آوازوں پر غور کرنے لگی جو تیز ترہوتی جا رہی تھیں۔ میں اس کی پریشانی سمجھ گیا تھا، اس لیے اس کا ہاتھ پکڑ ے آگے کی طرف بڑھ گیا کہ یہی وقت کا فیصلہ تھا۔ موڑے پر بیٹھے بچے کا وجود وقت کی گرد میں چھپتا جا رہا تھا جبکہ شریر لڑکوں کا شور بھی مٹتا جا رہا تھا۔

اب تیز ہوتی کربناک چیخیں ہماری سماعتوں میں برمے کی طرح سوراخ کرنے لگی تھیں اور ہم تیزی سے موڑ در موڑ کاٹتے ان کا پیچھا کررہے تھے۔ بالآخر ہمارے قدم ایک مسجد کے سامنے جا رکے، چیخیں مسجد کی بالائی منزل پر بنے چبوترے سے آ رہی تھیں جو اتنی تکلیف دہ تھیں کہ وہ صبر نہ کر سکی اور میرا ہاتھ چھڑا کر فوراً سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چبوترے میں داخل ہو گئی۔ اندر کا بھیانک منظر دیکھ کے اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔ سیلن زدہ چھوٹے سے کمرے کے بیچوں بیچ ایک شکستہ کھاٹ پر وہی بچہ رسیوں سے الٹا بندھا پڑا تھا۔ خوف اس کے چہرے پر کنڈلی مارے بیٹھا تھا اور قاری موٹا سا ڈنڈا لہراتا اس کی سرینوں پر پوری شدت سے برسا رہا تھا۔

"وی سی آر دیکھتے ہو بدبخت انسان؟ شرم نہیں آتی شیطانی کام کرتے ہوئے؟”

رسیوں میں جکڑا نازک بدن درد کی شدت سے یوں تڑپ رہا تھا جیسے بجلی کی ننگی تاروں میں آ گیا ہو۔ دیواروں سے ٹکراتی اس کی چیخیں بے اثر ہو کر نیچے گر رہی تھیں مگر اس تڑپتے بچے کو بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ ایسا وحشتناک منظر وہ ایک لمحے کے لئے بھی نہ سہہ پائی اور میرا ہاتھ جھٹک کر غصے سے قاری کی طرف لپکی جو اس پر پورا زور آزما رہا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر جونہی قاری سے ڈنڈا چھیننا چاہا، اچانک چاروں طرف اندھیرا چھا گیا، گھنگور اندھیرا جیسے کسی نے سب کچھ سیاہ چادر میں باندھ کر لپیٹ دیا ہو۔ وہ حیرت زدہ ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ رسیوں میں جکڑا بچہ کہاں گیا؟ ڈنڈے برساتا قاری ایک دم سے کہاں غائب ہو گیا؟ اس کی ششدر آنکھوں میں کئی سوال تھے، جن کے وہ جواب ڈھونڈ رہی تھی۔

میں نے اسے پریشانی میں جکڑا دیکھا تو اس کا ہاتھ تھامے نیچے گلی میں آ گیا مگر وہ بجھی ہوئی تھی۔ لوگ دن کی آخری نماز پڑھ کے مسجد سے نکل کر گھروں کو جا رہے تھے۔ رات آہستہ آہستہ گہری ہو رہی تھی۔ اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا، جس کی لرزش مجھے صاف محسوس ہو رہی تھی۔ وہ مسجد سے نکلتے بے حس نمازیوں کو حیرت سے دیکھنے لگی کہ وہ کیسے اس بات سے انجان ہو سکتے ہیں کہ مسجد کے بالا خانے پر ایک معصوم بچے پر خوفناک تشدد ہو رہا ہو اور وہ اپنی نمازوں میں لگے ہوں۔ وہ بار بار مسجد کے بالا خانے کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے بچہ ابھی بھی وہاں بندھا پڑا ہو۔

”مجھے اس بچے کے پاس جانا ہے۔“وہ دکھی لہجے میں بولی اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

میں گلی سے نکل کر اسے دور ایک کوچے کی طرف لے گیا جس کی نکڑ پر وہ ننگا بچہ بیٹھا تھا۔ چند گھر پھلانگنے کے بعد ہم ایک چھوٹی سی کچی چھت پر کھڑے تھے، جس کے گرد لکڑیوں سے بنا ٹیڑھا میڑھا سا جنگلا تھا اور اس کے حصارمیں رکھی چارپائی پر دن بھرکی صعوبتیں جھیلتا وہ سہما ہوا بچہ دبکا پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ کی سوجی ہوئی پوروں میں درد دوڑ رہا تھا۔ نہ کوئی دوست، نہ ہمدرد، نہ کوئی آنسو پونچھنے والا، بس تنہائی کو گلے لگائے، آسمان کی وسعتوں میں پھیلی سیاہ رات کے دامن میں ٹمٹماتے تاروں کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی چھوٹا بچہ کھلونے کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھتا ہے۔ اس کی ننھی ننھی سسکیاں چارپائی کے اردگرد منڈلا رہی تھیں۔ اور سرہانے بچوں کے رسالے رکھے تھے مگر آج اس میں رسالہ چھونے کی سکت نہیں تھی۔ کہانیوں کے کردار، رنگا رنگ تصویریں، مزے مزے کی نظمیں اور ان کی طلسماتی دنیا اس کا انتظار کرتی رہ گئی جو رات کی سیاہی میں اس کی واحد پناہ گاہ ہوا کرتی تھی۔ زخمی انگلیاں، ٹوٹتا بدن اور گہری اداسی لئے وہ دور خلاؤں میں کہیں کھویا ہوا تھا، جیسے وہ رات سے ہمکلامی میں مصروف ہو۔

وہ سہمے ہوئے بچے کو ممتا بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی، گویا اسے گود لینے آئی ہو۔ وہ دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھنے لگی کہ کہیں کسی کھٹکے سے منظر نہ ٹوٹ جائے۔ وہ احتیاط سے قدم اٹھا رہی تھی کہ دفعتاً گالم گلوچ کی تیز و تند آوازوں نے اس کا ارتکاز توڑ دیا۔

"لے کتی کہیں کی، یہ ہڈیاں کھا۔”

گالی میں لپٹا یہ تیز و تند جملہ سیدھا چھت پر آ گرا اور رات سے مکالمہ کرتا وہ سہما ہوا بچہ جنگلے کی اوٹ سے نیچے صحن کی طرف جھانکنے لگا، جہاں اس کی فسادی چچی اپنی لڑاکا بیٹیوں کے ساتھ مل کر اس کی ماں پر برس رہی تھی اور چچی کی بیٹیاں "کتی” کہتی ہوئی اس کی ماں کی طرف ہڈیاں اچھال رہی تھیں۔ جھگڑا لمحہ بھر میں شدت اختیار کر گیا اور وہ سب اس کی نہتی ماں پر پل پڑیں۔ درد سے کراہتا بچہ یہ منظر نہ سہہ سکا۔ تڑپ کر چارپائی سے اٹھا اور روتا بلکتا تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا۔ ابھی وہ دو تین زینے ہی طے کر پایا تھا کہ اس کا پاؤں پھسلا اور وہ لڑھکتا ہوا صحن میں جا گرا۔ لڑاکا بھتیجیوں کے نرغے میں پھنسی اس کی ماں نے جب بیٹے کو پتھریلے فرش پر ٹکراتے اور سر سے خون بہتے دیکھا تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وہ چیخ مارتی ہوئی اس کی طرف لپکی۔ اسے بانہوں میں بھرا اور ہانپتی کانپتی گھر کے واحد کچے کمرے میں لے آئی۔ بچے کے پھٹے سرسے خون بہہ رہا تھا اور لبوں سے چیخیں پھوٹ رہی تھیں۔ اس کی ماں اکیلی تھی۔ خالی گھر، خون، چیخیں، گھبراہٹ، یہ سب وہ نہ سہ پائی اور اسے چارپائی پر لٹا کر مدد کے لیے پڑوس میں دوڑ پڑی۔ اب وہ بچہ کھاٹ پر تنہا پڑا زخمی حالت میں کراہ رہا تھا جبکہ وہ میرا ہاتھ تھامے اس بچے کے سرہانے اداسیوں میں لپٹی بے بس کھڑی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ بچے کا مسلسل استحصال، رونا بلکنا اور اس کا خون آلود چہرہ اس سے نہ دیکھا گیا ، یہ سب اس کی برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔ بچہ چارپائی پر پڑا تڑپ رہا تھا اور وہ بے بس کھڑی اسے تڑپتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ اس کی گھبراہٹ بڑھتی جا رہی تھی اور جب وہ کچھ نہ کر سکی تو اچانک اس نے اپنی آنکھیں موند لیں اور پل بھر میں ہر طرف گمبھیر خاموشی چھا گئی۔ نہ کوئی تڑپتا ہوا بچہ، نہ دردناک کراہیں اور نہ ہی کوئی آواز، بس ایک گہرا سناٹا جیسے روح کسی تاریک گڑھے میں جا گری ہو۔

جب اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ میرے ساتھ کمرے ہی میں موجود تھی۔ کونے میں رکھی کرسی پر بیٹھی مجھے غور سے دیکھ رہی تھی۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ کمرے میں لیمپ کی زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی، جس کی ملگجی کرنیں میرے سینے پر رکھی کتاب پر پڑ رہی تھیں۔

"تو وہ تم تھے؟” اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا

"ہاں”

میں نے دھیرے سے جواب دیا اور سگریٹ سلگا لیا۔ دھواں مختلف شکلیں بناتا ہوا کونوں کھدروں میں چھپنے لگا۔ وہ مسلسل مجھے گھور رہی تھی اور میں کش پہ کش لگائے جا رہا تھا۔ اڑتے دھوئیں کی باریک پرتوں کے بیچ سے میری نگاہ کتاب کے ٹائٹل پر بھی جا پڑتی، جو ادھ کھلی سی میرے سینے پر دھری تھی، جس کے سرورق پر ایک پھندہ بنا ہوا تھا اور اس کے گرد مختلف چہرے لٹک رہے تھے، دنیا کے مشہور ادیبوں کے چہرے، جنہوں نے خود کشی سے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

کتاب کے مطالعے سے مجھ پر یہ انکشاف ہو چکا تھا کہ جو ادیب خودکشی کاراستہ اختیار کرتے ہیں، وہ تنہائی کے صحرا میں بھٹکتے ہوئے اتنی دور تک نکل جاتے ہیں کہ واپسی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ بھی انہیں پناہ دینے سے انکار کر دیتے ہیں اور ان کے اندر سے اچانک اجل کی راہیں برآمد ہو جاتی ہیں، جنہیں وہ اپنے لئے نجات سمجھ کر چل پڑتے ہیں۔ میں ایسے ادیبوں کی زندگی اور ان کا افسوسناک انجام پڑھتے ہوئے کافی دنوں سے ایک ناقابلِ بیان کیفیت میں مبتلا تھا جیسے زندگی اور موت کے بیچ کی کوئی حالت۔ مگر ان حالات میں اس نے مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑا تھا بلکہ وہ ہر پل مجھ سے چمٹی رہتی، جیسے وہ اس بیزاری اور اکیلے پن میں میری واحد ساتھی ہو۔ مجھے بھی اس کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے مزہ آنے لگا تھا۔

ایک رات میں اپنے محبوب ادیب کی سوانح پڑھ رہا تھا، جس نے کم عمری میں ہی اپنی سانسیں نچوڑ کر زندگی کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ اس کے انجام کا آخری صفحہ پڑھ کر میں نے حسبِ معمول کتاب کو اپنے سینے پر رکھ دیا۔ افسردگی کی ایک لہر تھی جس نے مجھے گھیر لیا تھا اور میں سگریٹ کے کش لگاتا اپنے پسندیدہ ادیب کے افسوسناک انجام کے بارے میں سوچنے لگا کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہو گا؟ اچانک میری نگاہ اس پر جا پڑی، وہ حسبِ معمول میرے پائنتی بیٹھی مجھے نامانوس سی نظروں سے گھور رہی تھی۔ اس کے اس طرح دیکھنے کے انداز سے میں قدرے گھبرا گیا۔ اچانک ایک سوال میرے ذہن میں کوندا:

"کیا تم میرے پسندیدہ ادیب کے ساتھ بھی رہ چکی ہو؟”میرے سوال پر وہ چونک اٹھی۔

”میں ہر اس ادیب کے ساتھ رہ چکی ہوں جن کے بارے میں تم پڑھ چکے ہو۔ میں ہر جگہ ہوں، ہر ایک کے ساتھ ہوں مگر ہر ایک کو محسوس نہیں ہوتی اور جو مجھے محسوس کر لیتے ہیں، وہ میرے ساتھ چل پڑتے ہیں۔”

”کہاں؟“میں نے حیرت سے پوچھا

”جہاں میری مرضی ہو۔“اس نے نہایت اجنبی لہجے میں کہا اور پہلی بار خوف نے میری ریڑھ کی ہڈی پر دستک دی۔

”یہ کیسا لہجہ تھا؟ اس نے اتنے عجیب انداز میں مجھ سے کیوں بات کی؟”اس احساس نے مجھے مزید خوفزدہ کر دیا تھا۔

مگر اس کے لبوں پر ایک پراسرار سے مسکراہٹ ابھر آئی تھی جیسے وہ میری حالت سے محظوظ ہو رہی ہو۔ میں نے اپنی کیفیت چھپانے کے لئے کتاب دوبارہ ہاتھ میں لی اور لفظوں میں پناہ لینا چاہی لیکن لفظ مجھے بوجھ لگنے لگے تھے۔ اس کی آنکھوں کی چبھن میرے اندر اترتی گئی جس نے مجھ میں اتنی گھٹن بھر دی کہ میراسانس لینا محال ہو گیا۔ اچانک "خودکشی” کا لفظ میرے اندر سے برآمد ہوا اور میرا وجود اس نے پہن لیا۔ میری رگوں اور اعصاب میں تناﺅ بھر گیا۔ مجھے جینا بوجھ لگنے لگا اور زندگی ایک دم سے بے کار محسوس ہونے لگی۔ مجھ پر ایسا خوف طاری ہوا کہ میں نے جھٹ سے کتاب بند کر دی اور اس سے نظریں چرانے لگا، مگر وہ سامنے بیٹھی پراسرار مسکراہٹ مجھ پر پھینک رہی تھی۔

"کیا میں خودکشی کی طرف مائل ہو رہا ہوں؟”میرے اعصاب پر جیسے ہتھورے برسنے لگے۔

مجھے ادراک ہو چکا تھا کہ "خودکشی” تنہائی کا شکار ایسے لوگوں کو ڈھونڈ نکالتی ہے جو سماجی بے حسی کے باعث شدید بیزاری کا شکار ہو چکے ہوں۔ جبکہ کتاب میں خودکشی کرنے والے ادیب بھی اکیلے پن، تنہائی اور بیزاری کی اذیت سے دوچار تھے اور میری حالت بھی ان سے کم نہیں تھی۔ اِس بات نے مجھے شدید خوفزدہ کر دیا مگر عجیب بات تھی کہ وہ میری حالت پر ہنس رہی تھی دیوار سے ٹیک لگائے، مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ۔ میں اس سے نظریں چرا کر سگریٹ پر سگریٹ پھونکتا رہا، لیکن اس کی چبھتی نظروں سے میں نہ بچ سکا۔ رات کے تین بج رہے تھے اور خوف میری نسوں میں دوڑنے لگا تھا۔ میں نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلا اور فوراً بستر میں دبک گیا مگر نیند غائب تھی۔ جس سمت بھی کروٹ بدلتا، وہ سامنے آ کھڑی ہوتی۔ اس کی مکروہ ہنسی سے کمرہ تھر تھرانے لگا تھا ۔ خوف مجھے پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا اور میں پوری رات اس سے نبرد آزما رہا۔ پتہ نہیں کب میری آنکھ لگ گئی تھی مگر اتنا ضرور یاد رہا کہ رات بھر اس کی وحشتناک ہنسی میری سماعتوں پر حملہ کرتی رہی تھی۔

دوسری صبح، میں نیند کی گہری تہوں میں اترا ہوا تھا کہ ایک لرزتی ہوئی آواز میرے حواس پر قابض ہو گئی۔

"اٹھو…خدا کے لیے اٹھ جاؤ۔” آنکھیں کھولیں تو سامنے بیوی کا آنسوؤں سے تر چہرہ دکھائی دیا۔

”کیا ہوا؟“ میری آواز اضطراب میں بھیگی ہوئی تھی۔

” وہ احمد“

اس کے کانپتے ہونٹوں سے اپنے بیٹے کا نام سنا تو میں تڑپ کر اٹھ بیٹھا اور میرے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ میں دیوانہ وار احمد کے کمرے کی طرف بھاگا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا مگر اس کا بستر خالی تھا، کونے میں مڑی تڑی چادر سے لگتا تھا جیسے وہ رات بھر تڑپتا رہا ہو۔ فضا میں ایک غیر مانوس سی گھٹن زدہ خاموشی بول رہی تھی۔ میں نے پلٹ کر الجھی نظروں سے بیوی کی طرف دیکھا جو بھیگی آنکھیں لئے کھڑی تھی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے احمد کے تکیے کے نیچے سے سرخ رنگ کی چھوٹی سی ڈائری نکالی اور مجھے تھما دی۔ ڈائری کھولی تو میں ششدر رہ گیا۔ ہر صفحے کی ایک ہی کہانی تھی۔

”چھوٹے بچے کا سکیچ“

جس کے نیچے لکھا ہوا تھا

"تنہائی”

میں صفحے پلٹتا گیا۔ صفحہ در صفحہ وہی سکیچ اور وہی لفظ سامنے آتا گیا۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ جونہی آخری صفحے پر نظر پڑی تو میرا دل مٹھی میں آ گیا۔ آخری صفحے پر بچے کے سکیچ کے ساتھ ایک پھندا بنا ہوا تھا جس کے نیچے لکھا تھا:

"خدا حافظ”

ڈائری میرے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گری اور میں لڑکھڑا گیا۔ اچانک کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔ میں نے چونک کر دیکھا تو وہ کونے میں کھڑی ہنس رہی تھی۔ اسے احمد کے کمرے میں دیکھ کر میں بھونچکا رہ گیا۔

"یہ یہاں کہاں؟”

بدحواس ہو کر میں اپنے کمرے کی طرف بھاگا تو میرا ماتھا ٹھنکا، وہ وہاں بھی موجود تھی۔ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میرا پورا گھر اس کے حصار میں تھا اور وہ اب ہر طرف دکھائی دینے لگی تھی، کمروں میں، برآمدے میں، کچن میں، ڈائننگ ہال میں، ہر طرف اسی کے زہریلی مسکراہٹ ابل رہی تھی۔ اس منحوس کی وجہ سے ہی میں اپنے اکلوتے بیٹے سے دور ہو گیا تھا جو نہ جانے کس کرب سے گزر رہا تھا کہ یوں صبح صبح گھر سے غائب تھا۔ میں نے اسے زہرخند نظروں سے گھورا ، جس کے منحوس قہقہے بڑھتے جا رہے تھے۔ مگر احمد کی فکر نے مجھے ایسا گھیرا کہ بے چینی کی بے شمار چیونٹیاں میرے تن بدن پر رینگنے لگیں۔

” کہاں ہو گا میرا بیٹا؟”میرے اندر طوفان مچا ہوا تھا۔

اچانک اس کے موبائل کا خیال آیا تو میں نے فوراً اس کا نمبر ملایا مگر اس کا فون گھر پر ہی بجنے لگا، میری پریشانی اور بڑھ گئی۔ میں کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر اس کی تلاش میں گھر سے نکل پڑا۔ فجر کا وقت تھا، سورج نے ابھی پوری طرح سے آنکھ نہیں کھولی تھی، گلیاں نیم روشن تھیں۔ میرے دماغ میں گھنٹیاں بج رہی تھیں کہ احمد بھلا کہاں ہو گا اور اتنی صبح اس کی تلاش میں کہاں جاﺅں؟ مسجد کے سپیکروں پر نظر پڑی تو خیال آیا کہیں مسجد میں نہ ہو۔ میں تیز تیز قدم اٹھاتا محلے کی مسجد میں جا پہنچا، صحن میں بڑی عمر کے ایک دو لوگ تسبیحات کرتے نظر آئے اور چند ایک تلاوت میں مصروف تھے مگر احمد کہیں نہیں تھا۔ میں خدا کے گھر میں پریشان کھڑا تھا۔ وہیں کھڑے کھڑے ہی اس کی خیر کی دعا مانگی اور مسجد سے باہر آ گیا۔

”صبح صبح احمد آخر کہاں جا سکتا ہے؟“ گہری فکروں نے مجھے گھیرا ہوا تھا۔

اس کے ایک دو دوستوں کو جانتا تھا مگر یوں صبح سویرے ان سے رابطہ کرنا مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔ اسی الجھن میں میرے قدم بے اختیار قریبی پارک کی طرف اٹھ گئے جہاں پو پھٹتے ہی کافی چہل پہل شروع ہوجایا کر تی تھی۔میں پریشانی میں جکڑا پارک پہنچا تو حسبِ معمول وہاں زندگی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں تھی۔ چھوٹے بچے چمن میں اٹھکیلیاں کرتے پھر رہے تھے، کچھ لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے، بزرگ چہل قدمی میں مصروف تھے اور عورتیں پارک کے چکر کاٹ رہی تھیں جبکہ گھنے درختوں کی ٹہنیوں سے پرندوں کی چہکاریں بھی ابھر رہی تھیں۔ لیکن صبح کا یہ سہانا منظر مجھے کاٹنے کو دوڑ رہا تھا اور میں بے سکونی میں گھرا اپنے بیٹے احمد کی تلاش میں ادھر ادھر نگاہیں دوڑا رہا تھا کہ شاید وہ بھی یہیں کہیں نظر آ جائے۔ میری نظر غیر متوقع طور پر پارک کے آخری کونے میں رکھے بینچ پر جا ٹھہری، جہاں کوئی بیٹھا دکھائی دے رہا تھا۔ میرا دل دھڑکا اور میرے گمان نے جیسے سرگوشی کی کہ وہ احمد ہی ہے۔ میں تیر کی طرح اسی طرف لپکا۔ قریب جا کے دیکھا تو میرے چہرے پر طمانیت پھیل گئی، واقعی وہ احمد تھا جو ارد گرد سانس لیتی خوش رنگ زندگی سے دامن چھڑائے، سر جھکائے یوں بیٹھا تھا جیسے اپنا سب کچھ ہار چکا ہو۔ میں غیر محسوس طریقے سے قدم اٹھاتا اس کے ساتھ ہی جا بیٹھا۔ اس نے نیم مردہ انداز میں سر اٹھا کے میری طرف دیکھا تو مجھے دھڑکنیں سینے میں رکتی محسوس ہوئیں۔

” یہ احمد ہے؟ میرا بیٹا؟”

مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اترا ہوا چہرہ، اندر کو دھنسی آنکھیں، چہرے پر فکر و تردد کی گہری تہیں، شکل پر چھائی ایسی مردنی جیسے صدیوں کا بیمار ہو۔

"سولہ سال کا چھوٹا سا لڑکا اور یہ بدحالی؟”

میرے چہرے پر کئی طمانچے پڑ گئے۔ احمد کو اس حال میں دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ میں نے کبھی اسے اتنے قریب سے نہیں دیکھا تھا اور آج دیکھا تو روح کانپ اٹھی۔ مجھے اپنے وجود میں ایک بھیانک خلا محسوس ہوا، جو میری غفلت اور بے خبری سے ہی پیدا ہوا تھا، جس نے احمد کے پیروں تلے سے زمین چھین کر اسے معلق کر دیا تھا۔

"یہ کیا حال بنا رکھا ہے بیٹا؟”

میں بمشکل لب ہلا پایا۔ میری لرزتی آواز سن کر احمد کی آنکھیں چھلک پڑیں۔

"بابا”

اس نے فرطِ جذبات سے مجھے پکارا اور میرے گلے لگ کے رو پڑا۔

"مجھے بچا لو بابا، میں جینا چاہتا ہوں۔”

احمد کی معصوم سی لاغر آواز نے میرا اندر چھلنی کر دیا۔ وہ میرے کندھے پر سر رکھے سسک رہا تھا اور میں گنگ بیٹھا تھا۔

مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ وہ کن حالات سے نبردآزما تھا اور اس حال تک کیسے پہنچا تھا؟ مجھے اپنی بے حسی اور لاپرواہی پر شدید غصہ آنے لگا کہ میں کیسا ظالم باپ ہوں جس نے اپنے اکلوتے بیٹے کی طرف سے آنکھیں موند کر اسے زندگی کے کٹھن محاذ پر اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ احمد کے گرم آنسو میرا کاندھا بھگو رہے تھے اور میں اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے تھپکیاں دے کر زندگی کی طرف بلارہا تھا۔

”مت رو میرے لعل مت رو، اب میں آ گیا ہوں۔ “

نہ جانے کتنے لمحے اسی طرح بیت گئے، ہم باپ بیٹا ایک دوسرے سے چمٹے آنسو بہاتے رہے۔ وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔ قریب سے گزرتے لوگ ہمیں پلٹ پلٹ کر دیکھنے لگے مگر مجھے کسی کی پرواہ نہیں تھی کہ برسوں کی جدائی کے بعد ہم باپ بیٹا پہلی بار مل رہے تھے۔

”چلو احمد بیٹا گھر چلو، تمہاری پریشان ماں تمہاری راہ دیکھ رہی ہے۔“میں نے اسے خوب سارا پیار کیا اور اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

زندگی سے روٹھے ہوئے احمد کو منا کے میں نے اسے اپنے ساتھ لیا اور پارک سے نکل کر گھر کی طرف چل پڑا۔راستے بھر احمد میرے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کے یوں چلتا رہا جیسے کوئی تھکا ہارا مسافر برگد کی چھاﺅں میں سستانے لگتا ہے۔ اور جب ہم دونوں باپ بیٹا زندگی کا ہاتھ تھامے گھر میں داخل ہوئے تو میں نے سہمی سہمی نظروں سے چاروں طرف دیکھا کہ کہیں وہ منحوس تو موجود نہیں؟ مگر شکر ہے اس منحوس کا کہیں نام و نشاں نہیں تھا۔ شاید ہمارے آنے سے پہلے ہی وہ ہمارا گھر چھوڑ کر کسی اور احمد کے شکار کے لیے نکل چکی تھی۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x