غزل
غزل / کمال تھا کہ شناسائی بانٹ لیتے تھے / وسیم نادر
غزل
کمال تھا کہ شناسائی بانٹ لیتے تھے
وہ اہلِ عشق تھے رسوائی بانٹ لیتے تھے
مداریوں کے بھی اپنے اصول تھے پہلے
وہ اپنے اپنے تماشائی بانٹ لیتے تھے
بڑا کمال محبت میں ہم کو حاصل تھا
ہم ایک دوجے کی انگڑائی بانٹ لیتے تھے
نئے زمانے میں کوی شریک حال نہیں
پرانے گانے بھی تنہائی بانٹ لیتے تھے
نظر جمی رہے منظر پہ اس لئے نادر
عجیب لوگ تھے بینائی بانٹ لیتے تھے
Author
URL Copied




