غزل

غزل/ آنگن آنگن بانٹ کے ڈھلتا اک بے نام اداسی چاند/شاہین کاظمی

غزل 

شاہین کاظمی 

اونچے پیڑ کی سوکھی ڈال اورپوری رات کا باسی چاند

 آنگن آنگن بانٹ کے ڈھلتا اک بے نام اداسی چاند

 

  بہتی دھوپ کے بیچ اچانک چھن سے بادل آن گرا

بھیگے لمحے آگ لگائیں آگ بھی اچھی خاصی چاند

 

سانس کے کچھ نادیدہ وقفے، ساکت دھڑکن ،گیلی آنکھ

رات کی ہر اِک سلوٹ گوندھے دل میں ایک اداسی چاند

 

تیز کٹیلے نشتر لمحے سمے کی ہر اک مٹھی میں

دید کے پل کی کھوج میں بھٹکے بن میں تنہا داسی چاند

 

بھرتے بھرتے بھر جاتے ہیں گھاؤ قدیمی سانسوں کے

من کی آنچ کو تاپ رہا ہے عمروں کا سنیاسی چاند

Author

Related Articles

Back to top button