نظم

کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

کہاں چلی اے زندگی

کہاں چلی اے زندگی 

ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے!

کہیں کہیں سے اب بھی روئے فکر دلنشین ہے 

ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے 

ہری بھری کہیں کہیں نظر کی سرزمین ہے 

ترے فقیر میں دھڑک رہی ہے اب بھی سرخوشی 

کہاں چلی اے زندگی

 

ابھی تو اشہبِ خیال و فکر بے لگام ہے 

ابھی ترا اسیر موج میں ہے، خوش خرام ہے 

ابھی لہو کے رنگ میں فشار کا قیام ہے 

لٹی پٹی صدا میں اب بھی حوصلے کا نام ہے 

ابھی نظر کی پتلیوں میں چیختی ہے روشنی 

کہاں چلی اے زندگی

 

تُو کر سکون سے تباہ حوصلہ فقیر کا 

وجود تک مٹا زمیں سے بے نوا فقیر کا 

کچھ اس طرح سے دفن کر دے زائچہ فقیر کا 

کوئی نہ ڈھونڈ پائے پھر نشانِ پا فقیر کا 

اسے سزا وہ دے کسی کو جو کبھی نہیں ملی 

کہاں چلی اے زندگی 

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x