نظم

سبائے تخیّل | اویس ضمیر

سبائے تخیّل

رات آئی تو سارے سوالات پھر سے

فلک پر ستاروں کی مانند 

روشن ہوئے جا رہے ہیں 

نجوم و کواکب ہیں بکھرے ہوئے 

قرب میں بھی یہاں 

اور حدّ ِ نظر سے بھی آگے تلک

جو بظاہر تو ہیں لا تعلّق مگر

ہیں مداروں میں جکڑے ہوئے

دائرے۔۔۔۔

جن کے اندر کئی اور ہیں دائرے

جو کہیں پر جدا۔۔۔

اور کہیں قوس دَر قوس آپس میں

کٹتے چلے جا رہے ہیں

کئی خط بَنے اِن کے پھیلاؤ سے

اور اُن سے عجب

زائچے کِھچ رہے ہیں 

ہر اِک زائچہ ایک دنیا ہے جس میں 

ہزاروں شبیہوں کی صورت گری ہو رہی ہے‏

مسلسل حباب اُٹھ رہے ہیں کہ جو

پھولتے پھیلتے چار سُو

اِک تصادم میں ہیں  

اور ٹکراؤ کے حاشیوں پر 

چمکتے ہوئے دشتِ امکان کے 

اَن گنَت برق رفتار ذرّے جنم لے رہے ہیں

وہ ذرّے کہ جن کی

طلائی لکیروں کے آثار میں

راستے۔۔۔۔

ریشہ ریشہ بُنے جا رہے ہیں 

جو بڑھتے ہوئے 

شاخ دَر شاخ اشجار بَنتے ہوئے 

پھیلتے اور الجھتے چلے جا رہے ہیں 

ہر اِک شاخ پر اُگ رہے ہیں

انوکھے ثمر جا بجا 

جو کہ دِکھنے میں شیریں،

مگر تلخ ہیں 

جن کی پژمردگی

منتشر کر رہی ہے

حقیقت کے بیجوں کو چاروں طرف

اور حقیقت۔۔۔

پرَت دَر پرَت

خوابِ سیّال میں

گُھلتی مِلتی ہوئی

ڈوبتی جا رہی ہے

مکاں لا مکاں یوں جہت دَر جہت

ایک دوجے میں گُم ہیں

کہ جیسے کسی خلقِ نو کے لیے

"کُن” کی وسعت نمو پا رہی ہو

یہ طومارِ شب 

طول میں جو پہر دَر پہر کُھل چکا تھا۔۔۔

کوئی پَل لپٹنے کو ہے

رفتہ رفتہ کہیں 

وہ گھڑی آ گئی ہے

جب اِک مہرِ نامہرباں

جھرجھری لے رہا ہے

فلک کے ستارے 

سبھی پے بہ پے 

روشنی کے تلاطم میں تحلیل ہونے کو ہیں

اور دن کی سبھی

آفتوں پر بندھا بند اب

ٹوٹنا چاہتا ہے

کسی لمحہءِ ناگَہاں

ایک سیلِ عَرِم ۔۔۔

شب کا سارا کا سارا سبائے تخیّل بہاتے ہوئے 

ساتھ لے جائے گا!

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x