پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا
پسِ قافیہ آرائی
اردو غزل کی سینکڑوں سالہ تاریخ میں ہئیت اور فارم کے تجربے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ زیرِ نظر چند غزلیں “پسِ قافیہ پیمائی” کے عنوان سے تجرباتی طور پر ایک ایسی تکنیک میں لکھی گئی ہیں جن میں ردیف کو قافیے سے پہلے استعمال کیا گیا ہے۔ ذیل میں عابد رضا کی پسِ قافیہ آرائیاں دیکھیے ۔
-۱-
پھر کوئی معرکہ ، منتظر ہے ترا ، یا اخی ، تازہ دم
کھینچ لے تیغ اپنی ، اٹھا لے سپر ، یا اخی ، کم سے کم
دیکھ اب اس قدیمی رَصَد گاہ سے شہرِ جاں کی طرف
چاند کی آسمانی گزرگاہ کے ، یا اخی ، زیر و بم
اک پری زاد بد روح نکلی تھی آدم کی زنبیل سے
یہ جو مصنوعی دانش ڈراتی ہے اب ، یا اخی ، دم بہ دم
کیا کروں ، مجھ پہ کُھلتی نہیں آیتیں ، پردۂِ غیب سے
میری نظروں میں بس میرا ٹِک ٹاک ہے ، یااخی ، جامِ جم
اس گزر گاہ پر تیرا مُشکی ہے اور میرا سیارچہ
دشتِ ظلماتِ شب میں خلائی سفر ، یا اخی ، ہم قدم
نامہ لکھنے کو قرطاس و خامہ کہاں ، روشنائی کہاں
فون کی لوح پر انگلیاں ہو گئیں ، یا اخی ، اب قلم
وہ جو مومن تھے سینے سے اپنے بتوں کو لگاتے رہے
ہم تو کافر رہے مدتوں سے مگر ، یا اخی ، بے صنم
بس وہی ایک غم جو ملا ہے وراثت میں سادات کی
اور اس کے سوا تُو نہ دیکھے کوئی ، یا اخی ، رنج و غم
-۲-
سُن سرِ کوہِ اولمپس برق و باراں کی کڑک
آسمانوں پر خدائے زور آور کی بڑک
کیا نگاہِ دوربیں اور کیا گزر گاہِ نجوم
جانے کس منزل پہ ہو گی ختم جنگل کی سڑک
چرخِ کہنہ کے مقابل ہے مرا اسپِ خیال
روک پاتی کیا اسے کوتاہ چوکھٹ کی اڑک
شعلہ گاہِ ناز نیں میں جب کھلا بندِ قبا
آگ کی حدت سے تھی کچھ اور رنگوں کی بھڑک
یاد کرتا ہوں کوئی افسانۂ دورِ شباپ
دیکھتا ہوں زیرِ خنجر مرغِ بسمل کی پھڑک
خانقاہِ ذات میں کچھ شور باقی ہے ابھی
رات کے پچھلے پہر سنتا ہوں کنڈی کی کھڑک
سوچتا ہوں ایک مدت بعد دیکھوں گا اسے
کیا خبر اب اور کتنی تیز ہو دل کی دھڑک
کارزارِ عاشقی میں جب کوئی صادق گرا
عرش تک پہنچی شکستہ استخوانوں کی تڑک
-۳-
محلوں میں مردنگم باجے ، گلیوں میں کھڑتال
الٹا راج سنگھاسن ، آیا بستی میں بھونچال
سناٹے میں دور سے گونجی راکٹ کی آواز
آدھی رات کو بولے جیسے گرجے میں گھڑیال
سر پر ہے ٹوپی سلمانی کاندھے پر زنبیل
عیاّروں میں مہا گرو اور چیلوں میں گھنٹال
دیس بدیس مسافر ڈھونڈے پیار کا پہلا شہر
اٹلی میں وینس ہو چاہے بھارت میں بھوپال
ایمن راگ میں اکتارے نے چھیڑے تھے صدرنگ
طبلے نے سنوائی تھی درباری میں جھپ تال
قابض ہیں خالی تکیے پر بیراگی جنات
برسوں سے محبوس ہے اپنے حجرے میں ابدال
کہت کبیر سنے بھئی سادھو ، قرنوں کی آواز
دوہے گاتے پھرتے تھے جب گلیوں میں قوال
جوگی اور قلندر دیکھے رقصاں ساری رات
سیاروں نے ڈالی اپنے محور میں دھّمال
ایسی تاریکی چھائی ہے صحرا میں ہر سمت
چاند ستاروں کی ہو جیسے راتوں میں ہڑتال
-۴-
دیکھتے دیکھتے سانس کی چل پڑی دھونکنی
خاک کے ڈھیر سے یک بہ یک چل پڑی زندگی
دشت زادے چلے سیرِ چرخِ کہن کے لیے
اک اڑن طشتری دیکھ کر چل پڑی اونٹنی
چاند نکلا تو جاگا سمندر کا بوڑھا خدا
رقص میں چودھویں رات کو چل پڑی چاندنی
رات بھر میں کہاروں کی آواز سنتا رہا
صبح دم واپسی کے لیے چل پڑی پالکی
نَے نوازی ریاضت کے صحرا میں بےسمت تھی
آخرش بَن میں ملہار کے چل پڑی بانسری
زائچوں میں کئی لاکھ نوری برس طے ہوئے
جست بھر کے ستارے سے جب چل پڑی روشنی
ہے یگانہ اصولِ اضافت کی صورت گری
لو کنارہ چلا ، اور اِدھر چل پڑی ناؤ بھی
اک کھنڈر کو سواری چلی شاہِ جنات کی
پیچھے پیچھے اماوس کی شب چل پڑی تیرگی
-۵-
باغِ جنت میں نہ سولر ہے نہ جگنو سے چمک
تابِ نظّارہ میسر ہو تو جلدی سے لپک
بس کوئی دم میں الٹ جائے گی دنیا کی بساط
لب مرے لب سے ہٹا اور نہ پہلو سے سرک
نوجواں پھر کوئی آ جائے گا آشفتہ دماغ
پھر کوئی اور نکالے گا سمندر سے نمک
خیمۂ عیش میں اس خسروئے خوباں کے حضور
ڈومنی کو ہے یہ تاکید ، نزاکت سے تھرک
ہے کوئی بزم ِ طرب خیز میں ایسا فنکار
مثلِ ذاکر * جو نکالے کسی طبلے سے گَمک
اب کہاں مشہد و شیراز کی شیریں سخنی
چشم سے آنکھ ہوئی جاتی ہے مژگاں سے پلک
ساربانوں سے سنا تھا کہ کوئی قتل ہوا
دشت میں آج بھی آتی ہے اسی خوں سے مہک
-۶-
پھر آسمان پہ بجنے لگا ہے نقارہ
شفق میں سرخ نظر آ رہا ہے سیارہ
ابھی تو دشت میں بکھری ہوئی ہے خون کی بو
ابھی ابھی تو فضا میں پھٹا ہے طیارہ
خود اپنے آپ سے ہوں آج بر سرِ پیکار
وہ رن پڑا ہے کہ سینہ مرا ہے صد پارہ
خلا نورد کے سیارچے میں اس کا رفیق
خراب و خستہ بہت یاد کا ہے پشتارہ
ہر ایک عاشقِ صادق کو قیس کا ہمزاد
کلون کر کے بنایا گیا ہے ناکارہ
کتابیں سونپ چکے ہم مشین زادوں کو
اب ان کو دیکھ کے “دل ہو رہا ہے سیپارہ”
گلی کے موڑ پہ بیٹھا ہے اک سگِ خاموش
کچھ اس پہ رحم کرو دل زدہ ہے بے چارہ




