غزل

غزل / ویراں ہوئے تو ٹھیک سے جنگل نہیں بنے / گل جہان

غزل

 

ویراں ہوئے تو ٹھیک سے جنگل نہیں بنے

ہم لوگ اس لیے بھی مکمل نہیں بنے

 

دنیا ہمارے واسطے پاگل ہے اس لیے

تجھ شعبدہ پرست سے پاگل نہیں بنے

 

یعنی ہمارے خواب کی تعبیر ٹھیک نئیں

سیلاب کی دھمال سے دلدل نہیں بنے

 

تم خوف میں شگاف نہیں کر سکے مگر

ہم خود کشی مزاج تھے ، مقتل نہیں بنے

 

پانی پہ جرح دھوپ کی بیکار میں گئی

بارش تو دور چھاوں کے بادل نہیں بنے

 

سو رنگ سے بنائے ہیں ابہامی خاندان

ہم سے تمھاری ذات کے اوجھل نہیں بنے

 

اب وہ چراغ دان پہ باندھیں گے تہمتیں

سر کو جلا کے جو یہاں مشعل نہیں بنے

 

مجھ ریتلے کے ہونٹ پہ پیڑی سی جم گئی

خطے کسی کی آنکھ کے چھاگل نہیں بنے

 

ترتیبِ خال و خد کو سنوار طرح طرح 

لیکن تری تراش کے ہیکل نہیں بنے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x