نظم
برہنہ سائے / معوذ حسن
برہنہ سائے
نقاب پوشوں کی مخملیں کھڑکیوں کے پیچھے
ہوا میں خاکے بنا رہے ہیں
اور ایسی دنیا دکھا رہے ہیں
جو میں نے اپنے
تمام خوابوں کو سینچ کر
دل کی سرخ مٹی میں دفن کی تھی
عجیب پیکر ہیں
ان کو دیکھوں تو ایسا لگتا ہے
جیسے زندہ ہیں روشنی کے وہ سبز ہالے
جو مجھ کو دریا میں دیکھ کر ڈوبنے لگے تھے
سنا ہے میں نے
عمارتوں کے خراب ہونٹوں میں زندگی ہے
مگر یہ تجدید کرنے والے کہاں گئے ہیں؟
کہ میرے برتن
تو لمس کی نونہال خوشبو سے بھر گئے ہیں
دعا کرو گے؟
برہنہ سائے سے میں نے پوچھا
تو بول اٹھا "دعا کروں گا”
(کسی چمکتے گداز دن میں)
خدا تمہیں وہ عطا کرے جو تو مانگتا ہے
مگر تو اپنی تمام اداسی کا نصف حصّہ
کسی سمندر میں پھینک آنا
سمندروں کے وسیع پانی میں زندگی ہے




